شیر اک واری فیر۔۔۔
میاں نواز شریف کا پچھلا بیانیہ ’ووٹ کو عزت دو‘ تو ان کے برادرِ خورد میاں شہباز شریف کے دورِ حکومت میں کمر توڑ مہنگائی کے بلڈوزر نے اسٹیکر بنا کے رکھ دیا۔ آخری دنوں میں کتری ہوئی پارلیمنٹ نے جس تیزی سے ’بوٹ کو عزت دو‘ پر کام کیا، اس کے فوراً بعد 90…
سکردو میں مصنوعی طور پر مچلو گلیشیئر ’اُگانے‘ کی کہانی
اگست کی 29 تاریخ تھی، میں کالج روڈ سکردو میں واقع کیفے 99 کی ایک بینچ پر بیٹھا سبز چائے کا لطف لے رہا تھا، جبکہ سامنے بینچ پر لمبی سفید ریشمی داڑھی والے ایک بزرگ، جن کے سر پر سفید اونی ٹوپی اور گلے میں مخصوص چادر کا مفلر تھا، کیفے کے مالک سے…
مودی جی کا گھر میں گھس کر مارنے کا خواب
یہ ان دنوں کی بات ہے، جب ہندوستان ابھی تک چاند تک نہیں پہنچا تھا، فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ بھی ابھی نہیں بنی تھی، نریندر مودی بھی گجرات میں آگ لگوا کر امریکہ جانے کا ویزا نہ ملنے پر مشتعل تھے لیکن دلی کے لال قلعے پر نظر لگائے بیٹھے تھے ان دنوں میں، میرے…
ہم انتہائی غربت کو کیسے ختم کریں؟ جواب مضحکہ خیز حد تک واضح ہے!
اس ہفتے جب عالمی رہنما اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے جمع ہیں تو انہیں ایک بڑی ناکامی کا سامنا ہے۔ دنیا نے 2030 تک ’انتہائی غربت‘ کے خاتمے کا وعدہ کر رکھا ہے، یہ 10 سال کے لیے اقوام متحدہ کا سب سے بڑا ہدف ہے، جس کے حصول کے لیے اربوں ڈالر…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط51)
ڈیرہ غازی خاں کے رہنے والے قاسم نقوی (رٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ انجینئر محکمہ بلدیات) یہاں ہمارے میزبان ہوں گے۔ تونسہ سے گدو تک کا سفر ہم کشتی میں ہی کریں گے۔ اس سفر کو طے کرنے میں ہمیں 3 دن لگیں گے۔ گدو تک کے سفر میں دوستوں کے علاوہ ڈولفن، غیر ملکی مہمان…
پچاس برس پرانا تازہ زخم
جنوبی امریکا کے ملک چلی میں دنیا کی پہلی منتخب مارکسٹ حکومت کو ٹھیک پچاس برس پہلے (گیارہ ستمبر انیس سو تہتر) آزادی اور جمہوریت کے عالمی چیمپئن امریکا نے پرتشدد انداز میں ختم کرایا۔ اس ڈرامے کے سب کلیدی کردار سوائے ڈاکٹر ہنری کسنجر مر چکے ہیں۔ تب ہنری…
زندہ جراثیموں سے کینسر کا علاج
زولا اٹلی سے امریکا پہنچا تھا۔ یہ نیویارک کا سال 1891 ہے۔ زولا غریب اور منشیات کا عادی تھا۔ ٹیومر اور موذی بیماری اس کو جکڑ رہی تھی۔ ایک ہولناک شکل کا کبوتر اور مرغی کے انڈے کے درمیانی جسامت جیسا ابھار زولا کے دائیں ٹونسل پر مستقل لٹکا ہوا تھا۔ ویکسین…
عمار: یہ سلسلہ اب رک جانا چاہیے!
کبھی کبھی زندگی وبال جان بھی بن جاتی ہے۔ انسان زندگی کی حراست میں قید ہو جاتا ہے۔ اسی قید سے آزادی کی خواہش کبھی انقلاب لے آتی ہے تو کبھی انسان قید و صعوبتوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کبھی مظالم سہتا ہے، کبھی جنگ کا سامنا کرتا ہے تو کبھی اپنا سب کچھ…