آئین کی کتاب اور جوشیلے لونڈے
جب تک ہم حقائق سے نظریں چرا کے خود کو دھوکہ دیتے رہیں گے، تب تک یہ دھوکہ ہمیں دھوکہ دیتا رہے گا۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ یہ ملک متحدہ ہندوستان سے انگریزوں کے چلے جانے کی صورت میں جدید طرزِ جمہوریت کے نتیجے میں ہندو اکثریت کی جانب سے مسلمان اقلیت کو…
پبلک دانشور
پبلک دانشور جدید دور کی پیداوار ہے۔ یہ وہ ماحول تھا کہ جب پرنٹنگ پریس نے کتابیں چھاپنا شروع کر دی تھیں۔ پبلشنگ ادارے قائم ہو رہے تھے۔ اخباروں اور رسالوں کی اشاعت نے علمی اور ادبی ذوق کو پھیلا دیا تھا۔ دانشوروں کی مجلسیں ہونے لگی تھیں، جہاں بحث و مباحثے،…
خوش باشی کی عالمی رپورٹ
اقوامِ متحدہ کے ’سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ سلوشنز نیٹ ورک‘ (ایس ڈی ایس این) کی دسویں سالانہ تازہ رپورٹ میں خوش باش اور اداس ممالک کی رینکنگ میں حسبِ معمول چوٹی کے بیس ناموں پر مغربی دنیا کا غلبہ ہے۔ ایک سو چھیالیس ممالک کی تازہ رینکنگ میں فن لینڈ مسلسل چھٹے…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط42)
ہم اٹک قلعہ کی مغربی دیوار کے قریب کھڑے ہیں۔ ہوا ٹھنڈی اور موسم خوشگوار ہے۔ میرے دائیں ہاتھ مشرقی سمت اٹک برج ہے، جس کے نیچے دریاؤں کا باپ اباسین (سندھو اس خطہ میں اباسین بھی کہلاتا ہے) پر سکون بہہ رہا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی پر سکون ہے، جیسے اژدھا شکار نگل…
خبردار! (ن)گرانی بڑھ سکتی ہے
کیا زمانہ تھا جب نو من تیل میسر آنے کی شرط پوری ہونے پر ہی ناچنے کی فرمائش پر عمل کیا جاتا تھا، اب تو یہ عالم ہے کہ ایک لیٹر پیٹرول پر بھی ’جب تک ہے دَم میں ناچوں گی‘ کے گانے پر جسے چاہو گھنٹوں نچوا لو، بلکہ سنا ہے آٹھ دس ٹھمکے…
گھروں میں محنت کرنے والی بچیوں پرجان لیوا تشدد
رواں ہفتے سندھ کے شہر رانی پور میں پیر کی حویلی میں کم سن بچی کی مبینہ تشدد سے ہلاکت کا معاملہ منظرعام پر آ چکا ہے۔ یہ اور آئے دن ہونے والے ایسے ہی دیگر واقعات پاکستانی معاشرے کی زبوں حالی کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ گزشتہ روزاسلام آباد پولیس نے محنت کش بچی…
سندھ کے صحرا میں کوئی پھول کھلے۔۔۔ قرة العین حیدر اور سندھی ادب
یہ جنوری 1991 کے دن ہیں۔ قرول باغ دہلی میں قرةالعین حیدر کے فلیٹ کے دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ پانچ سات منٹ بعد فلیٹ کا دروازہ آدھا کھلتا ہے اور وہ خود دروازے پر ہوتی ہیں۔ کہتی ہیں ”فرمائیے!“ ”فرمانا کیا، آپ کے پڑھنے والے ہیں، سندھ سے آئے ہیں۔“ ”کیا کیا…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط41)
ہم ’اٹک برج‘ پہنچے ہیں۔ خیبر پختون خوا اور پنجاب کو ملاتا یہ پل تاریخی مقام اور میرے دائیں طرف سے بہتے سندھو اور سامنے کالا چٹا پہاڑ کے دامن سے بہتے دریائے کابل کا سنگم بھی۔ اس پل سے ان دریاؤں کے سنگم کا نظارہ شاندار ہے۔ میرے بائیں ہاتھ جرنیلی سڑک کو…