کھیرتھر، جہاں میرے خواب بستے ہیں۔۔
کراچی کا نام سنتے ہی کچرا، دھواں، کنکریٹ کے جنگل کا گمان ہوتا ہوگا، مگر اسی کراچی میں ایک جگہ ہے جس کا نام ہے ’کھیرتھر نیشنل پارک‘ جو سندھ کا واحد نیشنل پارک ہے۔۔ اب سندھ کا واحد نیشنل پارک ہے تو رقبہ کے لحاضٹ سے چھوٹا ہو یا بڑا، ہمیں اسی میں قدرت…
پروفیشنل مؤرّخ
تاریخ کا مضمون عام لوگوں میں دلچسپی کا باعث رہا ہے۔ داستان گو تاریخی واقعات کو ڈرامائی انداز میں بیان کر کے سامعین کو تفریح فراہم کرتے تھے۔ رزمیہ (Epic) نظموں کے ذریعے ماضی کی تاریخ لوگوں میں جوش و خروش پیدا کرتی تھی طاقتور سلطنتیں مؤرخوں کے ذریعے اپنے…
سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (آخری حصہ)
’دودوچنیسر‘ کی عظیم رزمیہ داستان کو لوک شاعر ’بھاگو بھان‘ نے لوک گاتھاؤں میں تخلیق کیا جو جنوبی سندھ کے کسی گاؤں میں رہتا تھا۔ اُن دنوں یعنی سومرا دور میں جو مشہور بستیاں تھیں جیسے تھری، شاہ کپور، روپاماڑی اور وگھہ کوٹ، ان بستیوں کا بھاگو بھان نے اپنی…
سندھو سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط43)
رات ہمارے گرد تیزی سے پھیل رہی ہے۔ آسمان پر ابتدائی شب کا چاند، اس کی کرنیں گیندی شفق سے پھسل پھسل کر زمین پر اس طرح پھیل رہی ہیں جیسے زمین کی سطح پر کسی نرم و نازک پھول کی پنکھڑیاں بکھیری ہوں۔ ہوا کے جھونکوں کی سر سراہٹ ایسے لگ رہی ہے جیسے…
سندھو گھاٹی اور اساطیری ادب! (پہلی قسط)
یہ دسمبر 1985ء کے آخری ہفتے کی ٹھنڈی رات کے ابتدائی پہر کا ذکر ہے۔ سندھ کے ساحلی گاؤں کے مغرب میں بنی سومرا دور کی درگاہ قرھیو بھنڈاری کے سالانہ میلے کے شب و روز میں، درگاہ کے شمال میں گھاس پھوس سے بنی اُس کے معتقدین کی تین دیواروں والی کئی جھونپڑیاں ہیں…
تم جیتو یا ہارو، اب ہم سوچ کر پیار کریں گے۔۔
جب جب ہمیں کوئی ایسی خبر سننے کو ملتی ہے کہ پڑوسی ممالک نے سائنسی یا معاشی میدان میں کوئی پیش رفت کی ہے تو ہم اپنے ملک کے خلاف میمز اور لطیفے بنانا شروع کر دیتے ہیں۔ خالص دیسی ماں باپ کی طرح جو پڑوسی کی اولاد سے ہمیشہ متاثر رہتے ہیں یا رشتے…
اقلیت کو ہونا ہی نہیں چاہیے
دسمبر2021ء کو فیکٹری کے ورکرز کے ہاتھوں سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی دردناک موت اور پھر لاش کو سڑک پر نذرِ آتش کرنے کا سانحہ آپ کو اس لیے بھی یاد رہنا چاہیے کہ اس کی گونج بین الاقوامی میڈیا میں کئی دن سنائی دیتی رہی۔ مذہبی انتہاپسندی اور اس کا سہارا…
فیض محمد بلوچ: ایک شہسوار کی کتھا
تقسیمِ ہند سے پہلے اور قیام پاکستان کے بعد 60 کی دہائی تک کراچی شہر میں گھوڑ دوڑ مقبول کھیلوں میں شامل تھا۔ خوبصورت پارکوں، سنیماؤں اور تفریح گاہوں کی طرح کراچی ریس کورس میں بھی بڑی گہماگہمی رہتی تھی۔ صحتمند اور تربیت یافتہ گھوڑوں کی ملکیت تو اس وقت کے…