وہ دنیا، جو ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہے
’آنکھوں میں کیسے خواب لیے تم کسی سفر پہ نکلتے ہو اور جب واپس آتے ہو تو تمہاری پیشانی پہ کتنی تعبیریں نہ ملنے کا غم درج ہوتا ہے۔ ’تم خوشی اور نئے تجربوں کی آس میں نکلتے ہو اور واپسی پہ تمہارے ہاتھوں میں تھکن اور چند تصویروں کے سوا کچھ نہیں ہوتا ’سفر…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط40)
پانچ دریاؤں کی سرزمین: ”ملنا، بچھڑنا، خوشی اور غمی کا اٹوٹ انگ ہیں۔“ (بابا گرونانک) ”بابا گرونانک کا قول حقیقت ہے اور یہ ہے بھی حقیقت کہ میں پہاڑوں کی سر زمین سے باہر نکل آیا ہوں۔ پیر سر، در بند اور تربیلا پیچھے رہ گئے ہیں۔ وہ پٹھانوں کی قدیم ثقافت،…
کوٹری: انڈس فلوٹیلا، سندھ ریلوے اور برٹن کے دو سفر! (چوتھا/آخری حصہ)
برٹن کو شمالی سندھ کے سفر پر بھیج کر ہم نے مختصراً انڈس فلوٹیلا کے اسٹیمروں کے متعلق جانا اور ساتھ میں ہم نے اس سفر میں یہ بھی کوشش کی ہے کہ اطراف میں معروضی حالات پر بھی نظر رکھی جائے، جو ہمیں برٹن صاحب کی آنکھوں سے نظر آتے ہیں کیونکہ اسی لینڈ…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط39)
مجھے اپنے دوست کی آواز سنائی دی، ”میں یہاں سے ہزارہ وادی کی جانب گھوم جاؤں گا اور تم راستہ بدل کر حسن ابدال سے گھومتے ہوئے مجھے ’چھچھ‘ کے میدان میں آن ملو گے۔ یہاں سے ہم اٹک چلیں گے جو میرا اور دریائے کابل کا سنگم ہے۔۔ ”میں ہری پور کے مضافات میں…
کوٹری: انڈس فلوٹیلا، سندھ ریلوے اور برٹن کے دو سفر (تیسرا حصہ)
برٹن کا قافلہ شاید صبح کو جلدی نکلا تھا اس لیے کوٹری بھی جلدی پہنچ گیا۔ اس زمانے میں اس چھوٹے سے شہر کے گرد ایک حفاظتی قلعہ تھا جس کے اندر یہ شہر آباد تھا۔ برٹن کو دریا کے کنارے کھجوروں کے درختوں کے گھنے جھُنڈ نظر آئے جو ایک جنگل کا نظارہ پیش…
سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط 38)
باس کہنے لگے، ”اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے شمال میں جہاں جہاں سے سکندر نے سندھو کو عبور کیا، لوگوں کا خون بے دردی سے بہایا لیکن وہاں کے رہنے والے آج بھی اسے دیوتا کی طرح پوجتے اور اپنا جد امجد مانتے ہیں۔ بر صغیر کی تاریخ پر بھی سکندر کی ذات…
کوٹری: انڈس فلوٹیلا، سندھ ریلوے اور برٹن کے دو سفر (دوسرا حصہ)
برٹن ٹھٹہ سے گھوم پھر کر مکلی کے قریب لگے اپنے کیمپ میں واپس آیا۔ رات کے کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا اور پھر رات کو ان کا قافلہ ٹھٹہ سے شمال مشرق کی طرف چل پڑا تھا۔ سورج اُگنے میں ابھی وقت تھا کہ اس قافلے نے دریائے سندھ کے بہاؤ کے…