’چپکو آندولن‘ سے ’ٹری ہگرز‘ تک۔۔ فطرت سے محبت کی انوکھی کہانی
واشنگٹن ڈی سی کے قلب میں واقع ’نیشنل پارک‘ کی ہریالی میں دھوپ کی تمازت اب 80 ڈگری فارن ہائیٹ کو چھو رہی ہے۔ ’راک کریک پارک‘ کی ٹھنڈی ندی کے کنارے چار سالہ بچوں کا ایک غول کیچڑ میں ہاتھ ڈالے کیکڑا نما دریائی جھینگے (Crayfish) ڈھونڈنے میں مگن ہے۔ ان بچوں…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (پانچویں قسط)
تؤنگ کے بازار پہنچتے ہی دور دور تک پہاڑوں کے درمیان پھیلی ہوئی ہریالی نے دل موہ لیا۔ کہیں گندم کی فصلیں اور ان کی کٹائی ہو رہی تھی تو کہیں تھریشر چل رہا تھا، اور کہیں پیاز کی فصل تیار کھڑی تھی۔ کچھ مزدور مرد اور عورتیں کھیتوں کے کام میں مشغول تھے، کہیں…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (چوتھی قسط)
غیبی پیر سے ہمیں تُؤنگ کی جانب جانا تھا، جہاں ہمیں تُؤنگ شریف میں برفتوں کے تاریخی چوکنڈی قبرستان جام لوہار کی زیارت کرنی تھی اور تؤنگ میں ہی واقع ہندوؤں کی مقدس جگہ رتن ناتھ بھی دیکھنی تھی، جہاں سے ایک چشمہ بہتا ہے۔ وہاں سے ہمیں دریجی تحصیل ڈسٹرکٹ حب…
جھمپیر، جہاں دہائیوں سے جنگلی حیات کی نسل کشی جاری ہے
جھمپیر (Jhimpir)کے علاقے میں ایک طرف جہاں آنے والے مہمان پرندوں کا شکار عام ہے، وہیں ونڈ ٹربائن کے منصوبوں نے بھی مہمان پرندوں کی آمد کو متاثر کیا ہے۔ جھمپیر میں زیرِ زمین پانی کھارا ہے، اس لیے لوگ کینجھر کا میٹھا پانی پیتے ہیں، لیکن افسوس کہ یہاں کے لوگ…
کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی وعدے: حقیقی پیش رفت یا گرین واشنگ
حالیہ برسوں میں کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی (Corporate Sustainability) وعدوں کی بڑھتی اہمیت حالیہ برسوں میں کارپوریٹ سسٹین ایبلٹی (Corporate Sustainability) کے وعدوں نے نمایاں توجہ حاصل کی ہے کیونکہ کاروباری ادارے ماحولیاتی ذمہ داری (Environmental…
پلیٹ سے کُوڑے دان تک: خوراک کے ضیاع کی خاموش عالمی کہانی
دنیا اس وقت ایک عجیب اور تکلیف دہ تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف کروڑوں لوگ بھوک اور غذائی قلت کے ہاتھوں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف وہی دنیا ہر سال اتنی خوراک ضائع کر دیتی ہے جو کروڑوں انسانوں کے پیٹ بھرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ یہ تضاد…
کھیرتھر کا سفر: کھیرتھر اب تباہی کے سائے میں (تیسری قسط)
مول شریف کے حوالے سے شہر کی اہمیت، ہندو کمیونٹی کے کاروباری دیوان، شہر میں واقع خوبصورت مندر اور مول ندی کے حوالے سے دوسری قسط میں ہم نے تفصیلات بیان کی ہیں۔ آج ہم ذکر کریں گے مول جاتے ہوئے مول شہر سے چھ کلومیٹر پہلے چوکنڈی طرز کی قبروں کا، جن کو سندھی…
زمین پر ایک ایسا سمندر بھی ہے، جس کا کوئی ساحل نہیں۔
زمین کے نیلے نقشے پر ایک ایسا سمندر بھی پھیلا ہوا ہے جو کسی ساحل سے آشنا نہیں۔ اس کی لہریں کبھی کسی براعظم کی مٹی کو نہیں چھوتیں، نہ اس کی سرحدوں پر کوئی خشکی کھڑی ہے۔ چاروں طرف سے پانی کی گردش میں گھرا یہ سمندر یوں معلوم ہوتا ہے جیسے سمندروں کے…