ایمازون جنگلات کی کٹائی ریکارڈ بلندی کو چھو گئی، ڈیٹا
آفیشل ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ برازیل میں ایمازون جنگلات کی کٹائی ریکارڈ بلندی کو چھو چکی ہے بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق حکام کا کہنا تھا کہ اس سال جنوری سے جون کے درمیان برازیل میں موجود ایمازون جنگلات کا 3988 مربع کلومیٹر کا رقبہ صاف کر…
چین فضائی آلودگی میں صرف سات برس میں 40 فیصد کمی کرنے میں کیسے کامیاب ہوا؟
اس خبر کے ٹائٹل کے ساتھ آپ بیجنگ میں نصب مشہور پانڈا کے مجسمے کی2017 میں لی گئی دو تصاویر دیکھ رہے ہیں، ایک وہ دن جب آسمان صاف تھا اور دوسرا جب فضا میں آلودگی موجود تھی امریکہ کی یونیورسٹی آف شکاگو کے توانائی پر تحقیق کے شعبے، انرجی پالیسی انسٹیٹیوٹ کی…
کیا جانوروں میں، آنے والی قدرتی آفات سے آگاہ کرنے کا نظام موجود ہے؟
سنہ 2004 میں، انڈونیشیا میں زیر سمندر 9.1 شدت کے زلزلے سے جنم لینے والے سونامی نے بحر ہند کے آس پاس کی ساحلی آبادیوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا، اس کے نتیجے میں درجنوں ممالک میں کم از کم دو لاکھ پچیس ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کی بڑی تعداد کے…
پاکستان میں تیزی سے پگھلتے گلیشیئرز خطرناک سیلابی ریلوں کا باعث کیسے بنتے ہیں؟
اس ہفتے ملک کے شمالی علاقہ جات میں کئی مقامات پر شدید سیلابی ریلے دیکھنے میں آئے، ماہرین اس کی وجہ شدید گرمی کی لہر میں تیزی سے گلشیئرز کے پگھلنے کو قرار دیتے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سیلابی ریلے اس قدر تیز تھے کہ یہ بہت سے علاقوں میں اپنے ساتھ…
سیاحوں کی وجہ سے اگوانا چھپکلیاں شوگر میں مبتلا ہو رہی ہیں!
ساحلوں پر پائی جانے والی اگوانا چھپکلیاں سیاحوں کی وجہ سے شوگر کی بیماری کا شکار ہو رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سیاح انہیں روزانہ ضرورت سے زائد انگور کھلا رہے ہیں، جن سے ان کے خون میں شکر کی مقدار بڑھ رہی ہے باہاماس کے جزائر پر بھاری بھرکم اگوانا…
تھر میں شکار کیے گئے ہرنوں کی تدفین ”فطرت کے قتل کی تعزیت وصول کر رہے ہیں“
گزشتہ روز سندھ کے صحرائے تھر کے رنگیلو گاؤں کے ساتھ جنگل میں سات ہرنوں کو قبریں کھود کر باقاعدہ ان کی تدفین کی اور آخر میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیےدعا مانگی گئی سات ہرنوں کی تدفین بلکل اسی جگہ پر کی گئی ،جہاں منگل کی شب شکاریوں نے ان ہرنوں کا شکار…
غریب ممالک امیر ملکوں کے فضلے کی ڈمپنگ اور لینڈفل سائٹس بن رہے ہیں
حال ہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحولیاتی تبدیلی کو بتایا گیا کہ پاکستان ہر سال 80 ہزار ٹن فضلہ درآمد کرتا ہے حیران کن بات یہ ہے کہ ملک کے قانون بنانے والوں کو اس بارے میں سرے سے علم تک نہ تھا خیال رہے کہ اس درآمد کے باعث نہ صرف ملک…
ماحولیاتی پامالی پاکستان کے وجود کے لیے خطرہ
پاکستانی معاشرہ ایک ہمہ جہت زوال کی طرف گامزن ہے۔ آپ کسی سماجی شعبے پر نظر ڈالیں تو وہ ایک نئی پستی کو چھوتا نظر آتا ہے۔ حکومتی بے حسی تو ایک طرف، ایسا لگتا ہے کہ ساری قوم سے احساس زیاں مفقود ہو گیا ہے خصوصاً اگر ہمارے ہاں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی پامالی کی…