موسمیاتی تبدیلی اور سست ہوتی کرہ ارض کی رفتار
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ساڑھے چار ارب سال سے لے کر اب تک کرہ ارض کی گردش کی رفتار میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے دن طویل ہو رہے ہیں اگرچہ گردش کی رفتار میں کمی اتنی کم ہے کہ انسان اس کو نوٹس نہیں کرسکتا لیکن اس…
ملیر ندی میں ناگوری اور بحریہ ٹائون کی غلاظت بہنے لگی
ملیر کی خوبصورتی کی علامت اور شادابی کا ذریعہ ملیر ندی ان دنوں ناگوری کے باڑوں اور بحریہ ٹاؤن کی غلاظت کی نکاسی کا ذریعہ بن گئی ہے بارشوں کے موسم میں اس بارانی ندی میں کھیرتھر کے کیچمنٹ ایریاز سے بہہ کر آنے والے پانی کے باعث طغیانی آتی ہے، جس کے بعد کافی…
یہ سیاہ کوئلہ کس طرح ہمارا مستقبل تاریک کر رہا ہے؟
صبح کی خشک ہوا چل رہی ہے اور گہرے سرمئی بادل چھائے ہوئے ہیں۔ بچے اپنے مٹّی اور اینٹوں کے گھروں کے باہر ننگے پاؤں کھیل رہے ہیں۔ یہ معدنیات سے مالا مال ضلع دوکی ہے، جو پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں واقع ہے دوکی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً…
موسمیاتی تبدیلیاں، ایک سنجیدہ مسئلہ
آج سے قریباً دس سال قبل میرے ساتھی رپورٹر افتخار فردوس نے پہلی مرتبہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بات کی۔ پہلے پہل تو سمجھ ہی نہیں آئی پھر افتی نے، جو ماشاءاللہ اب ایک بہت ہی مشہور اور مستند صحافی بن چکے ہیں، موٹا موٹا سمجھایا۔ ایلی نینو کی بات کی اور…
وہ درخت، جس کے پاس جانے پر چھ ماہ قید اور 5 ہزار ڈالر جرمانہ ہو سکتا ہے
دنیا کا بلند ترین زندہ درخت امریکا میں واقع ہے، لیکن اب وہاں جانے سے پانچ ہزار ڈالر جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے کیلیفورنیا کے ریڈ وُڈ نیشنل پارک کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان کی حدود میں موجود ’ہائپیریئن‘ نامی درخت کو مہم جُو حضرات سے شدید…
بائیو انرجی: توانائی کا بہتر متبادل ذریعہ
فضلہ نہ صرف گندگی بلکہ ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی بنتا ہے، فضلے سے توانائی پیدا کرنے سے زیادہ سے زیادہ فضلہ زمین میں ٹھکانے لگانے سے بچا جاسکتا ہے اگر ہم فضلے کو توانائی کے متبادل ذریعے کے طور پر دیکھیں تو ممکنہ طور پر ہم توانائی کے بحران سے بڑی حد…
یمنی جنگ شہد کی مکھیاں بھی نگل گئی
یمن میں شہد کی پیداوار کا کاروبارہ انتہائی منافع بخش ہوا کرتا تھا، لیکن برسوں سے جاری جنگ نے اس کاروبار سے جڑے لوگوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے محمد سیف کسی دور میں شہد کی پیدوار کا منافع بخش کاروبار کیا کرتے تھے، مگر جنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں نے سیف سے…
فطرت کا انتقام: ماؤ زے تنگ کی ملک سے چڑیا ختم کرنے کی مہم کی چین کو بھاری قیمت چکانی پڑی!
ڈچ مؤرخ فرینک ڈیکوٹر نے اپنی کتاب ’ماؤ کے چین کا عظیم قحط‘ کا آغاز ایک چونکا دینے والے جملے سے کرتے ہوئے لکھا ”چین 1958ع اور 1962ع کے درمیان جہنم بن چکا تھا“ اس کتاب میں فرینک ڈیکوٹر نے چین کے اس دور کو بیان کیا ہے، جسے ’دی گریٹ لیپ فارورڈ‘ کہا جاتا…