چڑیا چڑے کی کہانی
قلعۂ احمد نگر 17 مارچ 1943ء صدیق مکرم زندگی میں بہت سی کہانیاں بنائیں۔ خود زندگی ایسی گزری، جیسے ایک کہانی ہو: ہے آج جو سرگزشت اپنی، کل اس کی کہانیاں بنیں گی۔۔ آئیے آج آپ کو چڑیا چڑے کی کہانی سناؤں: دگر ہا شنیدستی، ایں ہم شنو یہاں کمرے جو ہمیں رہنے کو…
خواہش گزیدہ (عراقی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ بہ دقت، قدم با قدم سیڑھیاں اترتا ہوا نائٹ کلب سے باہر نکل آیا اور اپنے ارد گرد دیکھنے لگا۔ لمبی لمبی، تراشیدہ داڑھیوں والے، پاس سے گزرتے ہوئے، حقارت بھری نظروں سے دیکھتے۔ نائٹ کلب مین بلند آہنگ موسیقی اسے کسی غمزدہ حسینہ کی آہ و زاری لگ رہی تھی، جبکہ…
کھوکھلے بندے
میں جب ننھا بچہ تھا، تو ہمارے گھر ہر طرح کے لوگ آتے اور سامنے والے دروازے پر دستک دیتے۔ میرے والد دروازے میں بنے ننھے سوراخ سے باہر جھانکتے لیکن دروازہ نہ کھولتے۔ لوگ دروازے پر دستک دیتے رہتے، اس کو پاگل پنے کی حد تک پیٹتے اور میں ان سے خوفزدہ ہو جاتا۔…
تیسرا کنارا (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
میرے والد ذمہ دار، منظم اور ہر کام سلیقے سے کرنے کے عادی تھے۔ اس بات کی تصدیق گرد و نواح کے کئی قابلِ اعتماد اشخاص نے کی کہ وہ بچپن ہی سے ان خصوصیات کے حامل تھے۔ جہاں تک میری یادداشت کام کرتی ہے، وہ نہ زیادہ ہنس مکھ تھے نہ بہت زیادہ رنجیدہ،…
جملہ باز (سندھی ادب سے منتخب افسانہ)
وہ اپنے دوستوں میں سب سے تیز طرار مانا جاتا تھا، شرارتوں میں۔۔ جملے کسنے میں۔۔ خاص طور پر جب بات کسی لڑکی کی ہو۔۔ اس کی، کی ہوئی شرارتیں، اس کے کَسے ہوئے جملے اس کے دوستوں میں ضرب المثل بن جایا کرتے تھے۔ کبھی کبھی وہ خود بھی دل ہی دل سوچتا، ”واقعی۔۔۔…
یادِ یارِ مہرباں (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
(1) میں سرما کا وہ خشک سویرا کبھی نہیں بھول سکتا، جس دن میرے دادا کے گاؤں سے بوڑھے فڈانگو کی وفات کی خبر آئی۔ بعض اوقات ہم اچھی یا بری خبر سن کر ذرا مختلف رد عمل دکھاتے ہیں۔ فڈانگو کی موت کی خبر میں نے دل سے سنی اور اس سے پہلے کہ…
مجھ سے باتیں کرو! (افسانہ)
اس واہیات گاؤں میں ویسے ہی گنتی کے چند بلب تھے، جو کوتاہ قد دیواروں سے ذرا اوپر ٹِکے، سہمے سہمے انداز میں یوں جھانکتے تھے، جیسے شریف زادیاں گلی سے گذرتے کسی وجیہہ اجنبی نوجوان کو سب سے نظریں بچا کر پردوں کی اوٹ سے جھانکتی ہیں۔۔ ایسے میں جونہی لائٹ گئی،…
بے نیل مرام (برازیلی ادب سے منتخب افسانہ)
آؤ ربڑ اکٹھا کرنے چلیں۔۔ یہ جملہ امازون کے کنارے سال کے چند مخصوص مہینوں میں سننے کو ملتا ہے۔ مرد کھیتی چھوڑ دیتے ہیں، عورتیں گھر کے کام کاج بھول جاتی ہیں اور لڑکیاں پھول چننا موقوف کر دیتی ہیں۔ یہ جملہ ہر ایک کی زبان پر ہوتا ہے۔ یہ جملہ ایک تیوہار، ایک…