Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Where-did-the-leopard-come-to-Khirthur-
خبریںاہم ترینتازہ ترین

تیندوا کھیرتھر میں کہاں سے آیا؟

By Akhtar Rasool
جنوری 26, 2024 3 Min Read
0

دو روز قبل سندھ کے شہر کوٹڑی کی ایک عدالت میں اس وقت غیر معمولی صورتحال پیش آئی، جب کمرۂ عدالت میں ایک تیندوے کی لاش پیش کی گئی، جسے کھیرتھر کے پہاڑی سلسلے میں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا

یہ تیندوا بچل سونہیرو گاؤں میں مارا گیا تھا، یہ گاؤں کانبھو پہاڑ کے قریب واقع ہے اور ایم نائن موٹروے سے 70 کلومیٹر دور ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے تیندوے کو اس لیے مارا کیونکہ وہ ان کی بکریوں کا شکار کر رہا تھا

کھیرتھر نیشنل پارک کراچی، جام شورو، دادو اور بلوچستان کے حب کے پہاڑی علاقوں پر پھیلا ہوا ہے اور کھیرتھر پہاڑی سلسلے پر مشتمل ہے، جو 3,087 مربع کلومیٹروں پر پھیلا ہوا ہے۔

اس کو 1974 میں محفوظ مقام یا ’پروٹیکٹو ایریا‘ قرار دیا گیا تھا۔ ہنگول نیشنل پارک کے بعد یہ پاکستان کا دوسرا بڑا قومی پارک ہے۔

کھیرتھر کے بیس لائن سروے کے مطابق یہاں ہرن، جنگلی بکروں، پرندوں اور رینگنے والے جانوروں کی دو سو اقسام پائی جاتی ہیں، اس علاقے میں انسانی آبادی محدود ہے اور چھوٹے چھوٹے گاؤں ہیں، جبکہ روڈ نیٹ ورک بھی دستیاب نہیں۔

’پاکستان کے ممالیہ‘ کے مصنف ڈاکٹر تھامس جونز رابرٹس نے 1977 میں شائع ہونے والی اپنی کتاب میں کھیرتھر میں تیندوؤں کی موجودگی کا ذکر کیا تھا۔

اس بارے میں انھوں نے 1968 کے واقعے کا ذکر کیا ہے، جس میں ڈاکٹر رضوی نامی شخص نے حب پہاڑی میں تیندوے کا شکار کیا تھا۔

وہ لکھتے ہیں ”کھیرتھر کی کرچات پہاڑیوں میں اور قلات و مکران (بلوچستان) کے پہاڑی سلسلوں میں یہ تیندوے پائے جاتے ہیں۔“

محکمۂ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر جاوید مہر کے مطابق ”ڈاکٹر رضوی کے بعد کھیرتھر میں تیندوے کے شکار کا یہ دوسرا واقعہ ہے، جبکہ پچھلے برسوں میں ریکارڈ پر ایسا کوئی اور واقعہ نہیں۔“

انسپیکٹر غفار جمالی 2012 سے محکمہ جنگلی حیات کے ملازم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ سروے کے دوران انھوں نے پہاڑوں میں تیندوے کے قدموں کے نشان دیکھے تھے تاہم ان کے ساتھیوں کا موقف تھا کہ یہ لگڑ بگھے کے پیروں کے نشان ہیں۔

وہ کہتے ہیں ”اب یہ ثابت ہو گیا کہ یہ تیندوے کے پنجوں کے ہی نشان تھے۔“

ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کنسلٹنٹ معظم خان کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنی ملازمت کے دوران تیندوے کو بلوچستان میں دیکھا ہے

وہ بتاتے ہیں ”بلوچستان کا جو دُریجی اور کنراچ کا علاقہ ہے، وہاں سے لے کر مکران کے ساحلی علاقے تک تیندوا پایا جاتا تھا اور وہاں سے یہ سفر کرتا کرتا نکل جاتا ہے کیونکہ یہ جانور بہت سفر کرتا ہے۔“

محکمۂ جنگلی حیات کے چیف کنزرویٹر جاوید مہر کہتے ہیں ”کھیرتھر میں تیندوے کی موجودگی کے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ یہ مقامی جانور ہے اور مذکورہ تیندوا بھی صحت مند ہے یعنی یہ بھٹکا ہوا نہیں اگر ایسا ہوتا تو یہ کمزور نظر آتا۔ یہ اگر یہ بھٹکتا تو یہ مقامی طور پر کئی مقامات پر نظر آتا۔“

محکمۂ جنگلی حیات کے حکام کا ماننا ہے کہ گذشتہ چند سال سے کھیرتھر پر اچھی بارشیں ہوئی ہیں، جس سے وافر مقدار میں شکار دستیاب ہے، اس لیے تیندوے جیسے جانور سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان میں تیندوؤں کی چار اقسام پائی جاتی ہیں جن میں ہمالین اور پرشیئن نسل کے تیندوے شامل ہیں۔ ماحول کی بقا کے لیے کام کرنے والے ادارے آئی یو سی این کی معدوم ہونے والے چرند پرند کی فہرست میں یہ تیندوے بھی شامل ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف کے مطابق تیندوے ہمارے ماحولیاتی نظام کے سب سے بڑے شکاری ہیں اور وہ ماحول کی صحت کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ سبزہ خور جانوروں کی آبادی پر کنٹرول رکھتے ہیں اور غیر صحت مند جانوروں کو اس کے مسکن سے ہٹا دیتے ہیں۔

Tags:

adventurebike tourhillshindi radioHistoryjohikheertharKhirtharkhirthar mountainkhirthar mountain rangekirtharkirthar national parkkirthar rangelive church in hindinaturalNatureold fortRajasthanranipurranipur cityranipur city historySindhiSindhu Deshthanobola khantouringTourismtravel log of pipra sur a natural pond in khirthur hills range in sindh pakistanwahi pandhiyashu mashiyeshu movie hindi
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
How-to-avoid-a-heart-attack-during-exercise
Previous

ورزش کے دوران دل کے دورے سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

Was-Ram-born-in-Pakistani-territory-instead-of-Ayodhya-
Next

کیا رام ایودھیا کی بجائے پاکستانی علاقے میں پیدا ہوئے تھے؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme