Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینکالم

خدا ہر ملک کو ایک اسحاق ڈار بخشے!

By Akhtar Rasool
جنوری 30, 2023 3 Min Read
0

مجھ جیسوں کو خوش فہمی تھی کہ پٹرول اور ڈیزل پر یک دم پینتیس روپے بڑھانے کا اعلان اسحاق ڈار کے بجائے کوئی نیا وزیرِ خزانہ کرے گا۔ مگر بھائی اسحاق نے تو ماتھے سے پسینہ پوچھنے کی اداکاری تک نہیں کی اور ایک ماہر قصاب کی طرح چہرے کی سپاٹئیت برقرار رکھتے ہوئے آئی ایم ایف کا تھمایا ہوا بگدہ ایک بار پھر کروڑوں ادھ موؤں کی گردن پر چلا دیا

کشکولی مجبوری تو سمجھ میں آتی ہے۔ مگر فالتو کی نمک پاشی کی عادت عقل سے بالا ہے۔۔

وہی مریم نواز، جنہوں نے اپنی ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کو ایک ناکام وزیر ثابت کرنے کا کوئی موقع نہیں گنوایا۔ انہی مریم نواز نے آئی ایم ایف کو تڑی لگا کے پاؤں پکڑنے والے لندن سے نازل شدہ اسحاق ڈار کو سراہتے ہوئے قوم سے اپیل کی ہے کہ سب ڈار صاحب کی حمایت کریں، کہ وہ اس ملک کو معاشی گرداب سے نکال لیں گے، انشاءاللہ!!

خاندانی نزاکتوں نے نہ صرف پارٹی بلکہ معیشت کی بھی بقول شخصے واٹ لگا دی ہے۔ یہی ہونا کرنا چار ماہ پہلے بھی کیا جا سکتا تھا

مگر اس پورے عرصے میں بھائی اسحاق کے ٹارزن بننے کا شوق معاشی بے یقینی کی صورت میں چھ ارب ڈالر کے برابر نقصان کے طور پر اس ملک کو ہی بھگتنا پڑا

مگر وزیرِ اعظم میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ رائے ونڈ اور پاکستان کو الگ الگ کر کے خاندانی و سمدھیانی زنجیریں توڑ کے حقیقی فیصلے کر سکیں

اگر اسحاق ڈار کا نام مفتاح اسماعیل ہوتا تو انہیں برطرف ہوئے آج تین دن گزر چکے ہوتے۔ کیونکہ تین دن پہلے ہی آپ نے فرمایا تھا کہ ’پاکستان اللہ نے بنایا ہے اور اللہ ہی چلائے گا۔‘

شاید اسی لیے پچھلے آٹھ ماہ سے وزیرِ اعظم جس ملک کا دورہ کرتے ہیں یا جس بین الاقوامی امدادی کانفرنس میں جاتے ہیں، وہاں سے بس ایک ہی طرح کی آوازیں آتی ہیں: ’اللہ کے نام پر دے دو بابا۔۔۔‘ ’معاف کرو بابا۔۔۔‘

اب تک حکومت کا دو نکاتی معاشی پلان ہی سامنے آیا ہے۔ اول جو کچھ بھی گند گھولا گیا ہے، وہ عمران خانی حکومت کے پونے چار سال میں گھولا گیا ہے۔ دوم اسے صاف کرنے کی ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مداخلت اللہ کو ہی کرنا پڑے گی، کیونکہ اسی نے یہ ملک بنایا ہے

ویسے تو بھائی اسحاق، شہباز شریف، زرداری، عمران خان، پرویز الٰہی وغیرہ وغیرہ کو بھی اللہ نے ہی بنایا ہے۔۔۔ مگر یہ سب قوم کو بنا رہے ہیں۔۔ کیا کِیا جائے۔

دن میں تارے دکھانے والے یہ سب کے سب ہماری آنکھوں کے تارے ہیں۔ چونکہ یہ سب ہمارے ہیں، اس لیے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ ’تینوں لوے مولا‘

اور جو اس اسکرپٹ کا مصنف، پروڈیوسر اور ہدایت کار ہے، اس نے عین اس وقت اس سیاسی فلم سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے، جب کوئی بھی تقسیم کار یہ فلم اٹھانے کو تیار نہیں

مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ جرنیلوں، ججوں، کابینہ واسیوں اور قائدِ حزبِ اختلاف کا کچن ان دنوں کیسے چل رہا ہے۔۔ ان کے لیے سبزی، دال اور آٹا کون خریدتا ہے

میں تو بس اتنا جانتا ہوں کہ روٹی پچیس سے تیس روپے کی ہو گئی ہے۔ دال کی پلیٹ ایک سو بیس سے ڈیڑھ سو کے درمیان ہے!

جو مزدور دال جیسی پرتعیش ڈش افورڈ نہیں کر سکتا، وہ ایک روٹی، ایک ٹماٹر، دو ہری مرچیں اور ایک درمیانے سائز کی پیاز اسی سے سو روپے میں خرید کے پانی پی لیتا ہے

اور جو یہ بھی نہیں کر پا رہا، وہ کسی پُل یا فٹ پاتھ پر خواتین و بچوں سمیت کھڑا ہو کے آتی جاتی گاڑیوں کو امید آلود نگاہوں سے تکتا رہتا ہے۔۔

سلام ہے اس سکیورٹی گارڈ کو، جس کی تنخواہ آج بھی پندرہ سے بیس ہزار روپے ہے۔ ڈیوٹی بارہ گھنٹے کی ہے اور پیٹ بھرنے کو کسی خیراتی ادارے یا لنگر کی غذائی قطار۔۔

اس نے اب تک چوری، ڈاکے یا بندوق سیدھی کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔۔۔ شاید یہی انسان اس دور کا ولی ہے۔۔۔ سلام سلام سلام۔۔۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

Economic Crisiseconomic crisis in pakistaneconomic crisis of pakistaneconomic crisis pakistanfood crisis in pakistanPakistanpakistan crisispakistan crisis newspakistan economic crisespakistan economic crisispakistan economic crisis 2022pakistan economic crisis 2023pakistan economic crisis explainedpakistan economic crisis newspakistan economypakistan economy crisispakistan economy crisis 2022pakistan energy crisispakistan news
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

کیا مائیک تھامنے والا ہر شخص صحافی ہوتا ہے؟

Next

م سے مرد (افسانہ)

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme