Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

iran-war-usa-israel
اہم ترینتازہ ترینخبریںعالمی

لاریجانی کے قتل سے ایران کی مزاحمت نہیں رکے گی، جنگ مغرب کی رحم کی اپیل تک جاری رہ سکتی ہے: سابق سی آئی اے افسر

By Akhtar Rasool
مارچ 18, 2026 3 Min Read
0

امریکی خفیہ ادارے کے سابق افسر لَیری سی جانسن نے کہا ہے کہ ایرانی رہنماعلی لاریجانی کے قتل سے ایران کی مزاحمت ختم نہیں ہوگی اور نہ ہی جنگ کا رخ تبدیل ہوگا۔ ان کے مطابق یہ تاثر کہ لاریجانی کی ہلاکت اسرائیل کی بڑی فتح ہے، محض پروپیگنڈا ہے۔

ایک بھارتی صحافی سے گفتگو میں سابق افسر نے کہا کہ کسی ایک شخصیت کا قتل کسی بڑی جنگ کا فیصلہ نہیں کرتا۔ بعض حلقوں کی جانب سے لاریجانی کو سفارتکاری کا حامی قرار دے کر ان کی موت کو “سفارتکاری کا قتل” کہا جا رہا ہے، مگر ان کے مطابق ایران کے لیے سفارتی راستہ پہلے ہی بند کیا جا چکا ہے اور اس پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نہ جھکا ہے اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے، اسی لیے یہ تنازعہ طویل ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول جنگ اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک مغربی ممالک خود جنگ بندی کی اپیل نہ کریں۔

آبنائے ہرمز بند ہونے کا خدشہ

سابق افسر نے خبردار کیا کہ اگر Strait of Hormuz کی ناکہ بندی ہوتی ہے تو یہ مغربی معیشت کے لیے شدید دھچکا ہوگا کیونکہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو دوسروں کے جانی نقصان کی زیادہ پروا نہیں ہوتی، لیکن اگر ان کے اپنے نقصانات بڑھیں تو داخلی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس کم از کم پانچ سے چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کے لیے ہتھیار موجود ہیں۔ ان کے مطابق:

 ایران احتیاط سے جوابی حملے کر رہا ہے  اب تک تقریباً 800 میزائل استعمال کیے گئے ہیں  امریکہ اور اسرائیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں  ایران کو مسلسل سپلائی مل رہی ہے . لَیری سی جانسن

 

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی خفیہ اداروں کے پاس یقیناً یہ معلومات موجود ہوں گی، مگر ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ انہیں نظر انداز کر رہی ہو۔

سابق افسر کے مطابق ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنا انتہائی خطرناک ہوگا اور اسے “خودکشی کے مترادف” قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایٹمی ہتھیار بنانے میں رکاوٹ سمجھے جاتے تھے، مگر موجودہ حالات میں ایران اس سمت میں پیش رفت کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس تکنیکی صلاحیت موجود ہے، جس کا ثبوت اس کے میزائل پروگرام سے ملتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے ممکنہ ایٹمی حملے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کے امکانات کم ہیں، اور اگر ایسا ہوا بھی تو ضروری نہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جاپان نے صرف بمباری کی وجہ سے نہیں بلکہ روس کی فوجی مداخلت کے بعد ہتھیار ڈالے تھے۔

آخر میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ امریکی حکومت کو مشورہ دیتے تو کیا کہتے، تو ان کا جواب تھا:

“ابھی اسی وقت ہتھیار ڈال دیں، آپ یہ جنگ نہیں جیت سکتے اور دنیا کو مزید عدم استحکام میں نہ دھکیلیں۔”

Tags:

Ali Larijani assassinationasymmetric warfare IranAyatollah Ali Khameneiballistic missiles Iranbreaking Middle East newsceasefire callsCIA analysis Irandefense expert opiniondiplomacy crisis IranDonald Trump Iran policyenergy market disruptionenergy security crisisformer CIA officergeopolitical analysis Middle Eastglobal conflict scenarioglobal economy threatglobal energy crisisglobal geopolitical tensionsglobal oil supplyglobal security threatground invasion IranGulf tensionsHiroshima Nagasaki referenceHormuz blockade riskHormuz shipping crisishumanitarian crisis riskintelligence assessment USinternational conflict newsinternational relations analysisinternational security studiesIran battlefield strategyIran defense strategyIran foreign policyIran Israel tensionsIran leadershipIran military capabilityIran military stockpileIran military strengthIran missile programIran nuclear capabilityIran nuclear debateIran resistanceIran retaliationIran strategic reservesIran supreme leaderIran war analysisIran war outlookIsrael Iran conflictIsrael military strategyisraeli defense forcesJapan surrender historyLarry C Johnsonmaritime securityMiddle East conflictMiddle East power balancemilitary balance Middle Eastmilitary deterrence Iranmissile warfare Middle Eastnaval conflict risknuclear escalation risknuclear weapons riskoil price impactoil shipping lanespeace negotiations failurepeace process Middle EastPersian Gulf securityproxy war Middle Eastpsychological warfare propagandaregional alliances Middle EastRegional instabilityregional war riskresistance axisRussia role WWIIsanctions impact Iransecurity analyst commentaryStrait of Hormuzstrategic chokepoints worldtanker routes GulfTrump administration IranUS foreign policy IranUS intelligence expertUS Iran relationsUS Israel allianceUS military intervention riskUS military presence Gulfwar casualties concernwar escalation Middle Eastwar outcome analysiswar prediction analysiswar sustainability Iranweapons supply IranWestern countries policyWestern media narrativeworld oil routesWorld War history comparison
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
iran-war-joe-kent-sangatmag
Previous

ایران پالیسی پر شدید اختلاف: امریکی انسدادِ دہشت گردی سربراہ مستعفی، ٹرمپ کے فیصلے پر سوالات

iran-war-usa-israel-sangat-mag
Next

ایران جنگ کے اخراجات میں اضافہ، پینٹاگون کا وائٹ ہاؤس سے 200 ارب ڈالر سے زائد فنڈز کا مطالبہ

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme