
امریکی خفیہ ادارے کے سابق افسر لَیری سی جانسن نے کہا ہے کہ ایرانی رہنماعلی لاریجانی کے قتل سے ایران کی مزاحمت ختم نہیں ہوگی اور نہ ہی جنگ کا رخ تبدیل ہوگا۔ ان کے مطابق یہ تاثر کہ لاریجانی کی ہلاکت اسرائیل کی بڑی فتح ہے، محض پروپیگنڈا ہے۔
ایک بھارتی صحافی سے گفتگو میں سابق افسر نے کہا کہ کسی ایک شخصیت کا قتل کسی بڑی جنگ کا فیصلہ نہیں کرتا۔ بعض حلقوں کی جانب سے لاریجانی کو سفارتکاری کا حامی قرار دے کر ان کی موت کو “سفارتکاری کا قتل” کہا جا رہا ہے، مگر ان کے مطابق ایران کے لیے سفارتی راستہ پہلے ہی بند کیا جا چکا ہے اور اس پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نہ جھکا ہے اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے، اسی لیے یہ تنازعہ طویل ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول جنگ اس وقت تک جاری رہ سکتی ہے جب تک مغربی ممالک خود جنگ بندی کی اپیل نہ کریں۔
آبنائے ہرمز بند ہونے کا خدشہ
سابق افسر نے خبردار کیا کہ اگر Strait of Hormuz کی ناکہ بندی ہوتی ہے تو یہ مغربی معیشت کے لیے شدید دھچکا ہوگا کیونکہ دنیا کی توانائی کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو دوسروں کے جانی نقصان کی زیادہ پروا نہیں ہوتی، لیکن اگر ان کے اپنے نقصانات بڑھیں تو داخلی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس کم از کم پانچ سے چھ ماہ تک جنگ جاری رکھنے کے لیے ہتھیار موجود ہیں۔ ان کے مطابق:
ایران احتیاط سے جوابی حملے کر رہا ہے اب تک تقریباً 800 میزائل استعمال کیے گئے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں ایران کو مسلسل سپلائی مل رہی ہے . لَیری سی جانسن
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی خفیہ اداروں کے پاس یقیناً یہ معلومات موجود ہوں گی، مگر ممکن ہے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ انہیں نظر انداز کر رہی ہو۔
سابق افسر کے مطابق ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنا انتہائی خطرناک ہوگا اور اسے “خودکشی کے مترادف” قرار دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایٹمی ہتھیار بنانے میں رکاوٹ سمجھے جاتے تھے، مگر موجودہ حالات میں ایران اس سمت میں پیش رفت کر سکتا ہے کیونکہ اس کے پاس تکنیکی صلاحیت موجود ہے، جس کا ثبوت اس کے میزائل پروگرام سے ملتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ممکنہ ایٹمی حملے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کے امکانات کم ہیں، اور اگر ایسا ہوا بھی تو ضروری نہیں کہ ایران ہتھیار ڈال دے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جاپان نے صرف بمباری کی وجہ سے نہیں بلکہ روس کی فوجی مداخلت کے بعد ہتھیار ڈالے تھے۔
آخر میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ امریکی حکومت کو مشورہ دیتے تو کیا کہتے، تو ان کا جواب تھا:
“ابھی اسی وقت ہتھیار ڈال دیں، آپ یہ جنگ نہیں جیت سکتے اور دنیا کو مزید عدم استحکام میں نہ دھکیلیں۔”




