Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریںماحولیات

گرمی سے منسلک اموات 2050 تک تقریباً 400 فیصد بڑھ جائیں گی

By Akhtar Rasool
نومبر 18, 2023 4 Min Read
0

ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے درجہ سے دو ڈگری بڑھ گیا، جیسا کہ پیش گوئی کی گئی ہے، تو 2050 تک گرمی سے منسلک اموات میں 370 فیصد اضافہ ہو جائے گا

یہ نتائج میڈیکل جرنل ’لینسیٹ‘ میں، آب و ہوا کی تبدیلی کے عوامی صحت پر اثرات پر ’کاؤنٹ ڈاؤن‘ نامی سالانہ جائزے میں شامل اس رپورٹ کا حصہ تھے، جو بدھ کے روز شائع ہوئی۔

’کاؤنٹ ڈاؤن‘ جائزے کے مطابق، سال 1991 اور 2000 کے برسوں کے مقابلے میں گزشتہ عشرے میں 65 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں گرمی سے منسلک اموات میں 85 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اس مطالعاتی جائزے سے معلوم ہوا کہ گزشتہ دس برسوں میں دنیا بھر میں لوگوں کو اوسطاً 86 دن زندگی کے لیے خطرناک درجہ حرارت کا سامنا ہوا

محققین نے یہ پیش گوئی بھی کی کہ مزید تواتر سے ہونے والی گرمی کی لہروں کی وجہ سے پیدا ہونے والی خشک سالی کے باعث اس صدی کے وسط تک پچاس کروڑ مزید لوگوں کو خوراک کی قلت کا خطرہ درپیش ہو سکتا ہے

بین الاقوامی ماہرین کی جس ٹیم نے لینسیٹ کی یہ ریسرچ کی ہے، اس نے بڑے پیمانے پر حکومتی معاونت اور نجی بنکوں کی مدد کی حامل معدنی ایندھن کی پیداوار میں اضافے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ماحولیات کے پروگرام کی جاری ایک ریسرچ میں کہا گیا تھا کہ دنیا بھر میں معدنی ایندھن پیدا کرنے والے بڑے ملک جس راستے پر گامزن ہیں، اس کے نتیجے میں وہ 2030 میں اس سے لگ بھگ 110 فیصد زیادہ تیل، گیس اور کوئلہ پیدا کریں گے، جتنا عالمی درجہ حرارت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سیلسئس تک محدود رکھنے کے لیے درکار ہے“

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا، برازیل، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور امریکہ 82 فیصد معدنی ایندھن پیدا کرنے اور اس کی 73 فیصد کھپت کرنے والے بیس ملکوں میں شامل ہیں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی ملک نے تیل، گیس اور کوئلے کی پیداوار کو اس درجے تک کم کرنے کا وعدہ نہیں کیا ہے، جس سے ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سیلسئس کے ہدف کو پورا کیا جا سکتا ہو

یاد رہے کہ عالمی درجہِ حرارت کو کم کرنے اور زمین کو گرم ہونے سے بچانے کے لیے دنیا بھر کے سائنس دانوں نے 2015 میں پیرس میں ایک معاہدہ کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو صنعتی دور سے پہلے کے درجہ حرارت سے زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کر دیا جائے گا۔ درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکنے کے لیے کاربن گیسوں کے اخراج پر کنٹرول کیا جائے گا اور اسے بتدریج کم کرتے ہوئے صفر کی سطح پر لایا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اکتوبر میں ایک تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اس صدی میں پاکستان، انڈیا اور دنیا کے چند بڑے شہروں کے اندر دو ارب سے زائد افراد کو ناقابل برداشت حد تک گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جریدے پی این اے ایس (PNAS) میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق نئی دہلی اور شنگھائی سے لے کر لاگوس اور شکاگو تک دنیا کے کچھ بڑے شہروں کو سب سے زیادہ سنگین اثرات کا سامنا ہوگا

موسمیاتی ماہرین نے اس تحقیق میں پیشنگوئی کی تھی کہ رواں صدی کے اختتام تک ماحولیاتی تبدیلی گلوبل وارمنگ کا باعث بن سکتی ہے، جو کہ بھارت اور پاکستان سمیت دنیا کے کچھ سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں میں لوگوں کو دل کا دورہ پڑنے اور لُو کے باعث موت کا سبب بن سکتی ہے

جنوبی ایشیا جیسے خطوں کے لیے صورت حال خصوصی طور پر سنگین ہو جائے گی، جو حالیہ برسوں میں موسمیاتی بحران کی وجہ سے پہلے ہی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں

اور اگر عالمی درجہ حرارت میں موجودہ سطح سے دو ڈگری سیلسیس یا اس سے زیادہ کا اضافہ ہوتا ہے تو گرمی اتنی شدید ہو سکتی ہے کہ ایسے علاقے قدرتی طور پر خود کو ٹھنڈا نہیں کر سکیں گے

عالمی درجہ حرارت، ماقبل صنعتی سطح سے، 2 ڈگری سیلسیس بڑھنے پر پاکستان اور بھارت اور وادیِ سندھ کے 2.2 ارب باشندے، مشرقی چین کے ایک ارب لوگ اور سب صحارا افریقہ کے 800 ملین افراد کو گھنٹوں تک سخت گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا، جو انسانی قوت برداشت سے باہر ہوگا

جو شہر اس سالانہ گرمی کا شکار ہوں گے ان میں دہلی، کولکتہ، ملتان، نان جنگ اور ووہان شامل ہیں

تین ڈگری سیلسیس بڑھنے پر ڈیڑھ ارب سے زائد افراد کو اس طرح کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا

چار سیلسیس درجہ حرارت پر یمن کے شہر الحدیدہ میں ہر سال تقریباً 300 دن ممکنہ طور پر ناقابلِ برداشت مرطوب گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا

واضح رہے کہ ماہرین کے مطابق انسانی جسم گرمی اور رطوبت کی ایک خاص سطح کو ہی برداشت کرسکتا ہے، جس کے بعد صحت کے حوالے سے کئی طرح کے مسائل پیدا ہوجاتے ہیں، مثلاً لو لگنا اور دل کا دورہ پڑنا۔

Tags:

2050 climate change2050 predictionsabout global warmingcauses of global warmingchernobyl disaster explainedchernobyl disaster how it happenedclimate change 2050climate change documentaryDeathsdecember 8th elden ringearth in 2050effects of global warmingelden ring release dateelon musk population decreaseGlobal warmingglobal warming and climate changeglobal warming effectsglobal warming explainedglobal warming is realgreenhouse gases and global warmingheat related deaths 2023heat wave deathsheat-related deathsheatrelated deathsheatwave global warminghow to stop global warminghow will the world endnew york times global warmingnuclear energyplanet earthplant based dietprice increasereal life lorereplacement ratethe world population crisis no one sees comingthe year 2050what is global warmingworld in 2050
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

تسلسل (اُردو ادب سے منتخب افسانہ)

Next

انڈیا اور آسٹریلیا کے چھ یادگار ون ڈے میچوں کی کہانی

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme