محبوبہ سراج، افغان خاتون جو طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہیں

ویب ڈیسک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان کے داخل ہونے اور افغان صدر کے ملک چھوڑ کر فرار ہو جانے کے بعد سے ملک میں افراتفری پھیل گئی تھی اور ہزاروں افغان شہری ملک چھوڑ کر جانے کے لیے بیتاب دکھائی دیے، لیکن ایسے میں محبوبہ سراج بھاگنے کے بجائے طالبان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہشمند ہیں

محبوبہ سراج طویل عرصے سے خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کر رہی ہیں، وہ ’افغان ویمن سکلز ڈویلپمنٹ سینٹر‘ نامی ایک ادارے کی سربراہ بھی ہیں۔ ان کا ادارہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم اور گھریلو تشدد جیسے معاملات میں آگاہی فراہم کر کے انھیں خودمختار بناتا ہے

محبوبہ سراج دو ہفتے پہلے تک امریکہ میں تھیں لیکن پھر انہوں نے افغانستان واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں ان تمام خواتین کو اکیلا چھوڑ کر ملک سے نہیں جا سکتی، جو میری سرپرستی میں ہیں

محبوبہ سراج طالبان کے ساتھ مل کر اُن کے خواتین کے ساتھ سلوک پر کام کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میں امید کر رہی ہوں کہ کم از کم ہم ان سے بات کر سکتے ہیں. اگر ہم میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر ان لوگوں سے بات کریں، ہو سکتا ہے کہ وہ  یہ بات سمجھ جائیں کہ افغانستان کی خواتین کیا کچھ کر سکتی ہیں

افغان رکن پارلیمان فرزانہ کوچائی کہتی ہیں کہ کابل میں لوگ طالبان حکومت کی واپسی سے خوفزدہ ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہر ایک کے دل میں موجود خوف اور خطرے کا اندازہ کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ انھیں ایسی صورتحال کا سامنا ہے جس کے بارے میں وہ یقین نہیں کر رہے کہ ایسا حقیقت میں ہو رہا ہے۔ ہم کہاں جائیں، کیا کریں

ایک اور خاتون جو مصنف ہیں اور اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، کہتی ہیں کہ طالبان کی واپسی نے انھیں ’توڑ‘ کر رکھ دیا ہے

لیکن ان کے برعکس محبوبہ سراج کا خیال ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کے لیے بہتر حالات پیدا کرنے کے لیے اس نظام کے ساتھ کام کرنا ممکن ہے۔ وہ کہتی ہیں ‘اس سے پہلے، طالبان سے پہلے، دنیا نے اور نہ ہی ہمارے ملک نے افغان عورت کی طاقت کو دیکھا ہے۔‘

محبوبہ سراج کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی بھی ہماری صلاحیت کا ویسے استعمال نہیں کیا جیسے کیا جانا چاہیے، انھوں نے ہمیں کبھی بھی مرکزی دھارے میں اس طرح شامل نہیں کیا جس طرح کیا جانا چاہیے، مگر امید ہے کہ شاید یہ لوگ (طالبان) اب ایسا کریں گے۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم ٹھیک ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو جب تک حفاظت ہے، میری لڑکیاں ٹھیک ہیں اور سب ٹھیک ہیں تو میں ٹھیک ہوں

سراج کا کہنا ہے کہ میں طالبان سے خوفزدہ نہیں اور اب میں خوف کے مارے ہار نہیں مان سکتی۔ یہ گھبرانے کا وقت نہیں، افسوس کا وقت نہیں، ڈرامے کے لیے کوئی وقت نہیں

محبوبہ سراج امریکہ اور مغرب پر اپنے غصے اور مایوسی کا اظہار ضرور کرتی ہیں. اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ میں اس بارے میں کتنی غصے میں ہوں۔ میں آپ کو نہیں بتا سکتی کہ میں بین الاقوامی کوششوں اور آخری لمحے میں ہمیں جیسے گرا دیا گیا، کے بارے میں کس قدر مایوسی محسوس کرتی ہوں

جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ بین الاقوامی عطیہ دہندگان کے ساتھ کام کرنے اور پچھلے بیس برسوں میں غیر ملکی مداخلت کاروں کی نمائندگی کرنے پر طالبان کے ہاتھوں سزا سے ڈرتی ہیں، تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا بالکل نہیں۔ میں حقیقی افغانستان کی نمائندگی کرتی ہوں۔ میں نے ہمیشہ یہ ہی کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ طالبان میں سے کم از کم کچھ تو اس بارے میں جانتے ہیں

محبوبہ سراج اپنے ان قدامات کے بارے میں کہتی ہیں کہ میں کوئی شہید اور بہت بہادر عورت نہیں ہوں لیکن میں صرف اپنی ذمہ داری پر یقین رکھتی ہوں اور میرے لوگوں کی مجھ پر ایک ذمہ داری ہے۔ میں ایک افغان عورت ہوں اور میں اپنے ملک میں رہنا چاہتی ہوں اور یہاں ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close