کبھی مایوس نہ ہوں…

نبیلہ شہزاد

ہمارے اکثر و بیشتر نوجوان زندگی کا گھوڑا تو سرپٹ دوڑا رہے ہیں لیکن حصول منزل تک پہنچنے کے لیے عزم اور فعلی تسلسل کا فقدان ہے۔ کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ وہ کوئی کام شروع کر تولیتے ہیں لیکن نہ تو اس کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں اور نہ ہی جاننے کی کوشش کرتے ہیں اگر ہمارے نوجوانوں کو ذرا سی ناکامی کا سامنا کرنا پڑ جائے، راستے میں ذرا سی مشکل آئے تو وہ ہمت ہار کر ایک طرف ہو کہ بیٹھ جاتے ہیں حالانکہ ہر کام محنت اور توجہ مانگتا ہے، اس کے لیے جہد مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے منزل پر پہنچنے کے لیے قدم بہ قدم آگے بڑھنا ہوتا ہے، اگر چھلانگ لگانے کی کوشش کریں گے تو گر جائیں گے۔

وہ یہ غور نہیں کرتے کہ تخریب سے ہی تعمیر کا سفر ممکن ہوتا ہے۔ تعمیر سے تعمیر تک کا آسان سفر تو ہر کوئی کرسکتا ہے مگر تخریب سے تعمیر کا سفر جو کرتا ہے وہ خاص ہوتا ہے، انمول ہوتا ہے۔ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے ۔ آسانی کے لیے مشکلات کاسامنا تو کرنا ہی ہو گا۔ بقول شاعر:

ایسے ہی کوئی نامی نہیں ہوا،
عقیق سو بار کٹا تب نگیں ہوا!

جب سامنے مقصد ہوتا ہے تو پھر اس تک پہنچنے کے لیے اسے حاصل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے۔ خود پر بھروسہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوں اور تخریب سے تعمیر تک کا یہ سفر کرنے کے لئے کمر بند ہوجائیں۔ ممکن ہے اب کی بار جو آپ کرنے جارہے ہوں وہ ہوجائے اور اگر نہیں بھی ہوا تو شاید اگلی بارہوجائے۔ مقصد کی کامیابی کے حصول کے لیے ذیل میں چند اصول درج ہیں۔ بغور پڑھیں۔

1 ۔ سب سے پہلے تو یہ ادراک ہونا چاہیے کہ آپ کے اندر کون کون سی صلاحیتیں ہیں اور کس طرح اپنی صلاحیتوں سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں؟۔ جو تعلیم و تعلم سے شغف رکھتا ہے۔ کتابوں میں رہنے سے سکون محسوس کرتا ہے اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ علمی میدان میں آئے۔ جس کا دماغ کاریگری میں تیز ہے اسے اپنی صلاحیتیں عملی میدان میں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ کوئی کمپیوٹر میں دلچسپی رکھتا ہے تو وہ آئی ٹی کے شعبے میں جائے۔ اگر بروقت اپنی صلاحیتوں کا ادراک کر کے منزل کی طرف رواں دواں ہو جائیں تو وقت ضائع کئے بغیر کامیابی تک پہنچ سکتے ہیں۔

2۔ لکیر کے فقیر نہ بنیں، کسی ایسے کام کی طرف نہ دوڑیں جس کے پیچھے ساری دنیا سرپٹ دوڑ رہی ہو لیکن وہ آپ کے موافق نہ ہو۔ یہ دیکھیں کہ وہ کام مزاج سے مناسبت بھی رکھتا ہے یا نہیں اگر مزاج سے مناسبت ہے تو شوق اور پیشے میں فرق نہیں رہے گا۔ اس میں لگن اور دلچسپی کامیابی تک لے جائے گی۔

3۔ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں، جس کام کا ارادہ کریں اس کے بارے میں اپنے دماغ میں یہ خیال بٹھا لیں کہ یہ میں ضرور کر سکتا ہوں۔ میں انسان ہوں مجھے رب نے سب سے زیادہ طاقتور مخلوق بنایا ہے میرے لئے کچھ بھی نا ممکن نہیں۔

4۔ ناکامی سے ہرگز نہ گھبرائیں، بلکہ ناکامی کا لفظ تو آپ کی ڈکشنری میں ہونا ہی نہیں چاہیے۔ ماہرین بھی اس لفظ کو نہیں مانتے اور نہ ہی اسے اپنے لیے نقصان کی وجہ سمجھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اپنا کوئی مقصد حاصل کر لیتے ہیں تو کامیاب ہو جاتے ہیں اور اگر حاصل نہیں کر پاتے تو یہ ناکامی نہیں بلکہ ہمارے تجربہ اور علم میں اضافہ ہے۔

جان میکس نے اپنی ایک کتاب "some time i win some time i learn” کے دیباچے میں لکھا ہے کہ ’’میں اکثر لوگوں سے ایک سوال کرتا تھا کہ ‘بتائیے آپ کی زندگی کی کون سی ایسی ناکامی یا غلط تجربہ ہے، جس کے بارے میں آپ سوچتے ہیں کہ اگر کبھی ان سے دوبارہ واسطہ پڑا تو میں انہیں اس طرح درست کروں گا؟’
ایک آدمی نے میرے اس سوال کا ایسا جواب دیا جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی۔ اس نے کہا کہ ‘میں ماضی میں جا کر کبھی بھی اپنی غلطیوں کو سنوارنا نہیں چاہتا کیونکہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اپنے ان غلط تجربات کی وجہ سے تو ہوں۔ یہی تو میرے استاد ثابت ہوئے ہیں، ان سے ہی تو میں نے سیکھا ہے’. “

اس لئے ناکامی سے سے گھبرانے کی بجائے اس تجربے سے سیکھنا چاہیے۔ ناکامی کو اپنے لئے تجربہ اور علم میں اضافہ سمجھیں کیونکہ اس کے بنا کامیابی تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ پھر ہمارے رب نے بھی تو ہمیں مایوس ہونے اور دل برداشتہ ہونے سے منع فرمایا ہے۔

5۔ ایک کام جو آپ نے اپنی پسند کے مطابق منتخب کیا ہے، اسے یکسوئی کے ساتھ مکمل کریں۔ ماہرین کے مطابق جو کام آپ روزانہ ایک گھنٹہ وقت دینے پر پانچ سال میں مکمل کریں گے وہ روزانہ دو گھنٹے وقت دینے میں اڑھائی سال میں مکمل ہو جائے گا۔ یہ چوبیس گھنٹے کا وقت تو سب کے پاس ہے جو انصاف کے ساتھ اپنے کام کو توجہ اور وقت دے گا وہ کامیاب ہو جائے گا وقت کسی کا محتاج نہیں اس بھاگتے گھوڑے کی باگیں اپنے ہاتھ میں تھامے رکھنے کے لئے اس طرح ہی مستعد اور چاق چوبند بننا پڑے گا۔

7۔ ہر کام میں کامیابی کی چابی آپ کے اپنے پاس ہے۔ چاہیں تو ہمت ہار کر اپنا سفینہ بیچ منجدھار میں چھوڑجائیں یا پھر اپنی جدوجہد سے اسے کنارے تک لے جائیں۔ اس کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اپنے دل ودماغ میں "کر سکنے”کی بات بٹھا لیں تو پھر کوئی مشکل آپ کے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکے گی۔

ہمت ہارنے سے کبھی بھی منزلیں نہیں ملتیں۔ منزلیں تو بلند جذبوں اور پر عزم عزائم کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ آپ نے جو مقصد حیات چن رکھا ہے وہ مشکل تو ہو سکتا ہے، مگر ناممکن نہیں اس لئے تھوڑی سی ہمت سے آپ جسے ناممکن سمجھ رہے ہیں وہ ممکن ہوجائے گا۔ بس ایک قدم شرط ہے۔

بشکریہ : روزنامہ جنگ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close