عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا

نیوز ڈیسک

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے 25 مئی کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کردیا ہے

پشاور میں پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پارٹی کی کور کمیٹی نے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کی تاریخ کا فیصلہ کرلیا ہے. ملکی خودمختاری کے لیے جتنا وقت بھی اسلام آباد میں رہنا پڑا رہیں گے، ہم جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں فوج سے کہتا ہوں نیوٹرل رہنے کا کہا ہے تو اب نیوٹرل ہی رہیں

انہوں نے کہا ”میں 25 مئی کو دوپہر تین بجے سری نگر ہائی وے پر ملوں گا اور مارچ کا آغاز کروں گا، پوری قوم بالخصوص نوجوان مارچ میں شامل ہوں“

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف ہماری حکومت کے خلاف رجیم چینج کی سازش کی گئی، یہ سازش میری حکومت کے خلاف نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف کی گئی اور اس میں وہ لوگ شامل ہوئے جو اپنی کرپشن چھپانا چاہتے تھے. ہم نے پوری کوشش کی تھی کہ سازش کامیاب نہ ہو لیکن بدقسمتی سے ہم اس سازش کو نہیں روک سکے

انہوں نے کہا کہ 2018ء میں ہمیں ملک دیوالیہ حالت میں ملا، ہماری حکومت اس وقت گرائی گئی جب ملک ترقی کی راہ پر لگ چکا تھا، 8 ماہ قبل حکومت تبدیلی کے لیے امریکا نے کرپٹ ترین لوگوں کو اپنے ساتھ ملایا، نئی حکومت کے لوگوں کا تجربہ صرف کرپشن کرنے، مقدمات ختم کرنے اور انتقام لینے میں ہے، ان کے پاس نہ منصوبہ ہے اور نہ فیصلہ کرنے کی قوت

ان کا کہنا تھا اس سازش کے تحت جن لوگوں کو مسلط کیا گیا وہ نا اہل ہیں وہ فیصلے نہیں کر پا رہے

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کے خلاف سازش کی گئی، ہمیں دھمکیاں دے کر ہماری توہین کی گئی کہ بائیس کروڑ عوام کے منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا، ہمیں دھمکی دی گئی کہ اگر عمران خان کو نہیں ہٹایا گیا تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا

تحریک انصاف کے چیئرمین نے کہا کہ وزیر خارجہ اور عسکری قیادت کی مشاورت سے روس کا دورہ کرنے گیا تھا، ہم نے روس سے تیس فیصد سستے پیٹرول کے لیے بات کرلی تھی جب کہ اس حکومت کی جرأت نہیں ہے کہ وہ سستا تیل یا گندم حاصل کرلے، موجودہ حکومت سلامتی کمیٹی سے کہہ رہی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کریں، یہ اس کا بوجھ بھی فوج پر ڈالنا چاہتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ کسی صورت ہم اس حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، ہمارا مطالبہ اسمبلیاں توڑنا اور الیکشن کی تاریخ ہے، تیسری کوئی بات ہمیں قبول نہیں. یہ سیاست نہیں، جہاد ہے، پاکستان کی حقیقی آزادی کی جنگ ہے

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں تحلیل کی جائیں اور صاف شفاف انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائے، پھر اگر قوم ان چوروں کو لانا چاہتی ہے تو بے شک لے آئے، مگر کوئی بیرونی ملک ان کو ہم پر مسلط نہ کرے

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ میں سب کو دعوت دیتا ہوں، میری چھبیس سالہ سیاست پر امن رہی ہے، اس دوران ہم نے نہ انتشار کرنے کی کوشش کی، نہ کسی کو کرنے دیا ہے

انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست پر امن رہی ہے، ہمارے جلسوں میں خواتین، بچوں سمیت ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد آتے ہیں، یہ پاکستان کی حقیقی آزادی کی جنگ ہے، یہ سیاست نہیں، ایک بار پھر کہتا ہوں کہ یہ سیاست نہیں، جہاد ہے، اس کے لیے ہر آخری حد تک میں جانے کے لیے تیار ہوں

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ لوگ بار بار کہتے ہیں کہ جان کو خطرہ ہے، کوئی جان کو خطرہ نہیں ہے، یہ اللہ کا کام ہے، یہ اس کا حکم ہے، اوپر والے کا ہمیں حکم ہے کہ جب نا انصافی ہو یا کوئی آپ کی آزادی لینے کو کوشش کرے تو اس سےبہتر ہے موت، بجائے اس کے کہ غلام بنیں

انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے، میں پوری قوم، اساتذہ، نوجوان، مزدور،کسان، طلبا، وکلا سب کو دعوت دیتا ہوں کہ ظلم اور غلامی کے خلاف آگے آئیں اور مارچ میں شامل ہوں، اس سے زیادہ خودداری کا جنازہ کیا نکلے گا کہ باہر سے حکومت گرادی جائے

عمران خان نے کہا کہ جتنی دیر بھی اسلام آباد میں رہنا پڑا رہیں گے، ہم اپنی آزادی کے لیے جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار ہیں، امپورٹڈ حکومت کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے

چیئرمین پی ٹی آئی کا بیوروکریسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر ہمارے پر امن احتجاج کے خلاف کوئی غلط کارروائی کی تو یاد رکھیں کہ یہ غیر قانونی ہوگا اور آپ کے خلاف ہم ایکشن لیں گے

ان کا کہنا تھا کہ پولیس، بیورکریسی، فوج یہ سب ہمارے اپنے ادارے ہیں، یہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہے، یہ عوام کے خلاف نہیں، ہم نے کوئی توڑ پھوڑ نہیں کرنی

ان کا کہنا تھا کہ میں فوج کو بھی کہتا ہوں کہ آپ نے کہا کہ آپ نیوٹرل ہیں، تو اب اس میں بھی نیوٹرل ہی رہیں، پھر سے میں کہتا ہوں کہ یہ اس ملک کی سالمیت اور اس کی آزادی کے لیے ہے

ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت ہمارے مارچ میں مختلف رکاوٹیں جیسے انٹرنیٹ، پیٹرول، ٹرانسپورٹ کی بندش سمیت دیگر طریقوں سے مشکلات پیدا کرسکتی ہے، اس لیے آپ لو گ ہر طرح سے تیار ہو کر اسلام آباد کے لیے نکلیں

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل ملتان میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تھا کہ اتوار کو پشاور میں کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں 25 مئی سے 29 مئی کے درمیان کسی تاریخ کو اسلام آباد آنے کا فیصلہ کریں گے

لانگ مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے یا نہیں فیصلہ اتحادی کریں گے، وزیر داخلہ

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو اسلام آباد آنے دینا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اتحادی کریں گے

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد نہ آنے دینے کا فیصلہ ہوا تو ان کو گھر سے نہیں نکلنے دوں گا، شیخ رشید کہتا تھا آگ لگا دو، ماردو اور اب کہتا ہے خونی لانگ مارچ ہوگا

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ یہ تقریریں کرتے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں اور ہمیں ان کے جلسوں سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ 28 مئی کو بہاولپور میں جلسہ کریں گے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close