موسمیاتی تبدیلی پاک بھارت آبی تنازعے پر کس طرح اثرانداز ہو رہی ہے؟

ویب ڈیسک

پچھلے کچھ عرصے سے پاکستان اور بھارت کے مابین آبی تقسیم کے 1960ع میں طے پانے والے معاہدے پر اختلافات سے کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق دونوں پڑوسی ممالک مفاہمت کی راہ اپنا کر ماحولیاتی اور اقتصادی نقصانات سے بچ سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ ہوگا کیسے؟

عالمی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات میں اضافے کے ساتھ ہی پانی کی مقدار میں کمی پاکستان اور بھارت دونوں ہی کے لیے تشویش اور پریشانی کا باعث ہے۔ اس سلسلے میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کے چھ دہائیاں پرانے سندھ طاس معاہدے پر دوبارہ بات چیت کی تجویز پیش کی ہے، تاہم پاکستان ابھی تک اس تجویز کی مخالفت کر رہا ہے

لیکن ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ دوبارہ مذاکرات یا کم از کم معاہدے میں تبدیلی پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے مساوی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ دونوں ممالک میں ڈیموں کی تعمیر پر زور، بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے پانی کی طلب میں اضافہ، کبھی خشک سالی اور کبھی سیلابوں نے پانی کے حقوق اور اس تک رسائی کو ایک بڑی تشویش کا باعث بنا دیا ہے

واضح رہے کہ عالمی بینک کی ثالثی میں 1960ء میں کیا گیا سندھ طاس آبی معاہدہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کی شناخت اور پھر ان کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کی تقسیم کو منظم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ تعطل، جھڑپوں حتیٰ کہ جنگوں کا مقابلہ بھی کر چکا ہے، لیکن کشمیر کے متنازعہ خطے کی وجہ سے 2019ع سے نئی دہلی اور اسلام آباد کے مابین سفارتی تعلقات اپنی نچلی ترین سطح پر ہیں اور دونوں حریف ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم اور رسد پر جھگڑا اب شدت اختیار کرتا جا رہا ہے

اس وقت دونوں ملکوں کے پاس سندھ طاس میں ہائیڈرو پاور کے درجنوں آپریشنل یا زیرِ تعمیر منصوبے موجود ہیں۔ تاہم پاکستان دریائے جہلم پر بھارت کے 330 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت والے کشن گنگا ڈیم اور دریائے چناب پر 850 میگاواٹ والے رتلے ڈیم کے منصوبوں کی مخالفت کرتا ہے

پاکستان ان دونوں منصوبوں کے حوالے سے اپنے تحفظات پر دی ہیگ میں بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کر چکا ہے، جبکہ حیران کن طور پر بھارت اس معاہدے کے ثالث کی شمولیت پر بھی اعتراض کر رہا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی کے لیے دو طرفہ بات چیت کرے تاکہ اس معاملے میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت کو روکا جا سکے۔ اس معاہدے کی موجودہ شرائط کے تحت دونوں ممالک تنازعات کو عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانبدار ماہر کے ذریعے یا ثالثی عدالت میں حل کر سکتے ہیں

پاکستان نے ثالثی عدالت کا راستہ اختیار کیا ہے کیونکہ اسے تشویش ہے کہ بھارت کے ہائیڈرو پاور ڈیموں کے کچھ منصوبے پانی کے اس بہاؤ کو کم کر دیں گے، جو پاکستان میں زراعت کے لیے درکار پانی کی کم از کم 80 فیصد ضروریات پورا کرتا ہے۔ تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی شرائط کے مطابق ہی اپنے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس ڈیزائن اور تعمیر کر رہا ہے

سرحد کے دونوں جانب کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی طرف سے بھارت کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے اس معاہدے میں تبدیلی کا امکان نہیں ہے کیونکہ بھارت کے مقابلے میں ایک چھوٹا ملک ہونے کے باعث پاکستان کو یقین ہے کہ اس معاملے میں بین الاقوامی اداروں کی شمولیت اسلام آباد کی پوزیشن مضبوط کرے گی

اس کے باوجود کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ پہلی بارموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے پیش نظر اس دوطرفہ معاہدے پر نظرثانی کی جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر کنگز کالج لندن میں جغرافیے کے پروفیسر دانش مصطفٰی نے کہا کہ ایسا کرنے سے بالآخر پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے کیونکہ بھارت سے توقع کی جائے گی کہ وہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کی ڈیزائننگ اور پانی کے بارے میں فیصلے کرتے وقت موسمیاتی حدت میں اضافے کے اثرات کو مدنظر رکھے گا

سائنسی جریدے نیچر میں پاکستانی اور اطالوی محققین کی 2019ع میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیاں دونوں ممالک کے مابین اعتماد کو تیزی سے ختم کر رہی ہیں اور یہ کہ اس معاہدے میں ’ماحولیاتی تبدیلیوں اور سندھ طاس کی پائیداری سے متعلق مسائل پر رہنما خطوط کا فقدان‘ ہے

جبکہ اسلام آباد میں مقیم ماحولیات اور ترقی سے متعلقہ امور کے تجزیہ کار علی توقیر شیخ کہتے ہیں ”موسمیاتی تبدیلیوں پر گہری تشویش اور ان کے باعث بڑھتا ہوا دباؤ اس وقت پانی کی تقسیم پر باہمی تعاون اور علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے دستیاب امکانات میں سے بہترین ذریعہ ہیں“

علی توقیر شیخ کا کہنا ہے ”موسمیاتی تبدیلیوں کا شکار بننے کے بجائے دونوں ممالک کو مل کر ایسی پالیسیاں بنانے کے لیے کام کرنا چاہیے، جو دونوں ہی کے لیے کارآمد ہوں۔ گلیشیئرز کے پگھلنے سے لے کر بارشوں میں مزید شدت تک آب و ہوا سے متعلق خدشات سے نجات پانے کے لیے سندھ طاس معاہدے کو اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے۔“

اس حوالے سے مقبوضہ کشمیر کی یونیورسٹی کے شعبہ ارضیاتی علوم کے پروفیسر شکیل رومشو کہتے ہیں کہ اس معاہدے میں تبدیلی اس لیے بھی ضروری ہے کہ سندھ طاس پر انحصار کرنے والی برادریاں پہلے ہی بڑھتی ہوئی گرمی، طویل خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں سے نمٹ رہی ہیں۔ ان کے بقول جنوبی ایشیا میں تیزی سے عام ہونے والی موسمیاتی تبدیلیاں کی وجہ سے دریاؤں کے بہاؤ میں کمی کے امکانات ‘معیشت کے مختلف شعبوں پر نمایاں اثرات‘ مرتب کریں گے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ”دریا کے بہاؤ میں مزید کمی پورے سندھ طاس میں خوراک، توانائی اور واٹر سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دے گی۔‘‘

پاکستان اور بھارت دونوں کی خارجہ امور اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی ملکی وزارتوں نے سندھ طاس معاہدے یا دونوں ممالک کے درمیان جاری پانی کے تنازعات پر تبصرہ کرنے کی روئٹرز کی درخواستوں کا کوئی جواب نہ دیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close