این سی آر بی کی رپورٹ: بھارت میں خودکشی کرنے والا ہر چوتھا انسان یومیہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور ہے

ویب ڈیسک

بھارت میں گذشتہ سال خودکشی کرنے والے 164,033 افراد میں سے 25.6 فیصد یومیہ اجرت والے مزدور تھے یعنی خودکشی کرنے والا ہر چوتھا شخص ایک مزدور تھا

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں کل 42,004 یومیہ اجرت والے مزدوروں نے خودکشی کی۔ ان میں 4,246 خواتین بھی شامل ہیں

اس کے ساتھ ہی خودکشی کرنے والے لوگوں کا ایک بڑا طبقہ وہ تھا، جو اپنا کاروبار چلاتے تھے۔ اس زمرے میں کل 20,231 افراد نے خودکشی کی جو کہ ملک میں ہونے والی مجموعی خودکشیوں کا 12.3 فیصد ہے

ان 20,231 افراد میں سے 12,055 کا اپنا کاروبار تھا اور 8,176 دیگر قسم کے اپنے روزگار سے منسلک تھے

خیال رہے کہ اس رپورٹ میں زرعی مزدوروں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو الگ الگ شمار کیا گیا ہے، اور انہیں ‘زرعی شعبے سے وابستہ افراد’ کے زمرے میں رکھا گیا ہے

سنہ 2021 میں کل 10,881 افراد نے ‘زرعی شعبے سے وابستہ افراد’ کے زمرے میں خودکشی کی۔ ان میں سے 5,318 کسان اور 5,563 زرعی شعبے سے وابستہ مزدور تھے

این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2021 میں پیشہ ورانہ یا تنخواہ دار طبقے میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد 15,870 تھی

گذشتہ سال خودکشی کرنے والوں میں 13,714 بے روزگار اور 13,089 طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں

ان کے علاوہ سنہ 2021 میں خودکشی کرنے والوں میں 23,179 گھریلو خواتین بھی شامل ہیں

جو لوگ ان میں سے کسی بھی زمرے میں نہیں آتے ہیں، انہیں ‘دیگر افراد’ کے طور پر درجہ بندی میں رکھا گيا ہے۔ اس زمرے میں 23،547 لوگوں نے خودکشی کی

این سی آر بی نے اپنی رپورٹ میں وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ڈیٹا صرف خودکشی کرنے والوں کا پیشہ بتاتا ہے اور اس کا خودکشی کرنے کی وجہ سے کوئی تعلق نہیں ہے

رپورٹ کے مطابق ریاست تمل ناڈو (7673)، مہاراشٹر (5270)، مدھیہ پردیش (4657)، تلنگانہ (4223)، کیرالہ (3345) اور گجرات (3206) میں سب سے زیادہ 42004 یومیہ اجرت والے مزدوروں نے خودکشی کی

این سی آر بی کی رپورٹوں میں گذشتہ پانچ سالوں سے خودکشیوں کے بارے میں سالانہ ڈیٹا (اعداد و شمار) شائع کیے جا رہے ہیں۔ اس سالانہ رپورٹ پر ایک نظر ڈالی جائے تو واضح ہوتا ہے کہ خودکشی کے واقعات کا گراف مسلسل بڑھتا ہی جا رہا ہے

سنہ 2017 میں ملک میں 129,887 خودکشیاں ریکارڈ کی گئیں۔ اس وقت خودکشی کی شرح 9.9 تھی۔ خودکشی کی شرح سے مراد فی لاکھ آبادی میں خودکشیوں کی تعداد ہے

سنہ 2018 میں خودکشی کی شرح میں اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 10.2 ہوگئی۔ اس سال ملک میں خودکشی کے 134,516 کیس درج ہوئے تھے

سنہ 2019 میں کل 139,123 لوگوں نے خودکشی کی جبکہ سنہ 2020 میں بڑھ کر یہ 153,052 ہو گئی

تازہ ترین اعداد و شمار سنہ 2021 کے جاری کیے گئے ہیں جس میں خودکشی کے کل تعداد 164,033 بتائی گئی ہے

2020 میں کل 37666 یومیہ اجرت والے مزدوروں نے خودکشی کی تھی۔ جبکہ گذشتہ سال اس زمرے میں خودکشی کے واقعات میں تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا ہے

اسی طرح خود کا کاروبار کرنے والے یا سیلف امپلائیڈ لوگوں میں جہاں سنہ 2020 میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد 17,332 تھی، وہیں سنہ 2021 میں اس میں تقریباً 17 فیصد اضافہ ہوا ہے

اعداد و شمار کے مطابق ایک کیٹیگری، جس میں خودکشی کرنے والے افراد کی شرح میں کمی آئی ہے، وہ بے روزگار افراد ہیں۔ این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق جہاں سنہ 2020 میں خودکشی کرنے والے بے روزگاروں کی تعداد 15652 تھی وہیں سنہ 2021 میں خودکشی کرنے والے بے روزگاروں کی تعداد 13714 ہے جو تقریباً 12 فیصد کم ہے

گذشتہ سال ذہنی امراض اور خودکشی سے بچاؤ پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر پٹھارے کہتے ہیں کہ بھارت کے سرکاری اعداد و شمار کو غلط سمجھا جاتا ہے اور اس مسئلے کو پوری طرح سے سامنے نہیں لایا جاتا ہے

انہوں نے کہا ‘اگر آپ ملین ڈیتھ اسٹڈی (جس میں 1998-2014 کے درمیان 2.4 ملین گھرانوں میں تقریباً 14 ملین افراد کی نگرانی کی گئی) یا لینسٹ سٹڈی کو دیکھیں تو انڈیا میں خودکشیوں کی تعداد 30 سے 100فیصد تک کم رپورٹ کی جاتی ہے۔‘

‘خودکشی جیسے سنگین مسئلے پر اب بھی کھل کر بات نہیں کی جاتی ہے۔ اسے ایک بدنما داغ کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور زیادہ تر خاندان اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انڈیا کے دیہی علاقوں میں اٹوپسی (پوسٹ مارٹم) کی ضرورت نہیں ہوتی ہے اور امرا مقامی پولیس کے ذریعے خودکشی کو حادثاتی موت ظاہر کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ پولیس کی رپورٹ غیر مصدقہ رہ جاتی ہیں۔‘

ڈاکٹر پٹھارے کا کہنا ہے ‘اگر ہم بھارت میں خودکشیوں کی تعداد کو دیکھیں تو وہ بہت کم ہیں۔ اصل تعداد عام طور پر دنیا میں چار سے 20 گنا زیادہ ہوتی ہیں۔ اس طرح اگر ہم دیکھیں تو بھارت میں گذشتہ سال خودکشی کے ڈیڑھ لاکھ واقعات رجسٹر کیے گئے تو اس حساب سے دیکھا جائے تو اصل تعداد چھ لاکھ سے 60 لاکھ تک ہو سکتی ہے۔’

ڈاکٹر پٹھارے کے مطابق یہ خطرے میں پڑنے والی پہلی آبادی ہے، جسے خودکشی سے روکنے کے لیے نشان زد کیا جانا چاہیے، لیکن ناقص اعدادوشمار کی وجہ سے ہم یہ کام صحیح طریقے سے نہیں کر پا رہے ہیں

انھوں نے کہا کہ ‘اقوام متحدہ کا ہدف ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا بھر میں خودکشیوں کو ایک تہائی تک کم کیا جائے، لیکن ہمارے یہاں اس تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔’

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close