ہجوم کی حیوانیت کے بیچ سانس لیتی انسانیت کی دو کہانیاں

ویب ڈیسک

برطانیہ کے شہر لیسٹر میں پچھلے دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایشیا کپ کے ایک میچ کے بعد مسلمان اور ہندو کمیونٹی کے درمیان کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی اور اس دوران ہونے والی جھڑپوں میں دونوں گروپوں کے افراد زخمی ہوئے تھے

لیسٹر میں ہونے والی یہ جھڑپیں 28 اگست کو ایشیا کپ کے پاکستان بھارت میچ کے بعد شروع ہوئی تھیں، جب پاکستانی شہری اور بھارتی شہری آمنے سامنے آگئے تھے

لیکن ان پرتشدد واقعات کے دوران ایک ایسی کہانی بھی منظرعام پر آئی ہے، جس میں ایک مسلمان شخص نے دنگے کے دوران ایک ہندو شخص کی جان بچائی

سوشل میڈیا پر کچھ دن قبل ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں ایک جتھے کو ایک سفید گاڑی کو گھیرنے کے بعد اس میں بیٹھے شخص پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے

گاڑی میں بیٹھے ہوئے شخص کا نام رام کیشوال تھا، جن پر مسلمانوں کے ایک مشتعل گروہ نے یہ الزام لگایا تھا کہ انہوں نے مسلمان افراد پر گاڑی چڑھا دی ہے

جب وہاں موجود افراد نے رام کیشوال کو گاڑی سے اتارنے کی کوشش کی تو مسلمان شہری ماجد فری مین بیچ میں آگئے اور کہا ’اسے چھوڑدو‘ اور گاڑی کا دروازہ دوبارہ بند کردیا

اس حملے میں رام کیشوال کے سر پر چوٹ آئی تھی اور انہیں ٹانکے بھی لگے تھے

برطانوی میڈیا ادارے سکائی نیوز کے مطابق 17 ستمبر کے اس واقعے کے بعد رام کیشوال اور ماجد فری مین کی ایک وڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں انہیں ایک کیفے میں بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے

وڈیو میں رام کیشوال کہہ رہے ہیں ’ماجد نے میری جان بچائی۔ انہی کی وجہ سے آج میں یہاں موجود ہوں۔‘

اسکائی نیوز کی یہ وڈیو ماجد نے بھی شیئر کی اور لکھا ’مجھے خوشی ہے کہ وہ (رام کیشوال) شدید زخمی نہیں ہوئے۔‘

امام احمد اور اجے ناگلا

دوسری جانب لیسٹر سے تعلق رکھنے والے امام احمد نے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنے بچپن کے ہندو دوست اجے ناگلا کے ساتھ مل کر لیسٹر میں بڑے پیمانے پر کشیدگی کے دوران صورتحال کو پرسکون رکھنے کی کوشش کی

کشیدگی میں بنیادی طور پر دو کمیونٹیز کے نوجوان شامل تھے، جو ہفتے 17 ستمبر کو بدامنی میں بدل گئی

اس دوران دونوں گروپوں نے ایک دوسرے پر بوتلیں پھینکیں۔ ایسا ہی کچھ ہندو مندر کے باہر بھی دیکھنے میں آیا جہاں امام احمد اور اجے ناگلا نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی

یہ دونوں شہر کے ہائی فیلڈز علاقے میں ایک ہی سڑک پر پلے بڑھے تھے

امام نے بتایا کہ وہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرنے کے لیے بیلگریو روڈ پر گئے تھے

انہوں نے بتایا ’زیادہ سے زیادہ مسلم نوجوان وہاں پہنچے تھے اور صورتحال مزید کشیدہ ہونے لگی تھی۔‘

’ایک شخص میرے پاس آیا، وہ مسلمان تھا، اس نے کہا ’میرے خیال میں کچھ لوگ جھنڈے کو جلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

’چنانچہ میں اس جگہ گیا اور انکیں روکا۔ میں نے کہا، ’دیکھو، تم جو کچھ کر رہے ہو وہ غیر اسلامی ہے، یہ غلط ہے‘ اور میں نے قرآن کی اس آیت کا ذکر کیا جو عبادت گاہوں کے تحفظ کی تلقین کرتی ہے۔‘

امام نے تناؤ میں ملوث افراد کو ’بے وقوف‘ قرار دیا اور کہا کہ انھیں یہ دیکھ کر افسوس ہوا

ناگلا بتاتے ہیں کہ ’ہجوم میں سے چند ایک ایسے تھے جو جھنڈوں کو ہٹا رہے تھے اور ان میں سے ایک کو آگ لگ گئی۔‘

’یہ وہ جگہ ہے جہاں احمد صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے جا کر اپنے ہاتھوں میں جھنڈا لیا مگر صورتحال کچھ اور کشیدہ ہو گئی۔‘

ناگلا نے بتایا کہ کشیدگی کے دوران انہوں نے لوگوں کو ان کی گاڑیوں اور گھروں تک پہنچنے میں مدد بھی کی

انہوں نے کہا کہ ’ریستوران کے مالکان نے ان میں سے کچھ کو سٹورز میں بند کر دیا تھا کیونکہ انھیں ایسا کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ میں نے امام کے ساتھ مل کر مالکان کو یقین دلایا کہ ہم سب کو ان کی گاڑیوں تک بحفاظت پہنچانے میں مدد کریں گے۔‘

انہوں نے کہا، اس میں تین ماہ کے بچے کے ساتھ ایک ماں بھی شامل تھی جسے ’چل کر گھر جاتے ڈر لگ رہا تھا۔‘

اس بدامنی کے دوران 16 افسران اور ایک پولیس کتا زخمی ہوئے، عارضی چیف کانسٹیبل راب نکسن نے کہا کہ فورس کو ’جارحیت‘ کا سامنا کرنا پڑا جو ایسٹ لیسٹر کے علاقے میں ایک احتجاج کی وجہ سے شروع ہوئی تھی

اتوار 18 ستمبر کو ایک اور احتجاج میں تقریباً ایک سو افراد شامل تھے

اس دوران تقریباً 50 گرفتاریاں ہوئیں، 158 پر مقدمات درج کیے گئے اور نو افراد پر فرد جرم عائد کی گئی

لیسٹر کے میئر نے آن لائن ڈس انفارمیشن کو کشیدگی میں اضافے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، جس میں ایک شخص (جو پہلے ہی اس کشیگی پھیلانے کی سزا بھگت چکا ہے) نے تسلیم کیا کہ اس کی سوچ پر سوشل میڈیا نے اثر ڈالا

رات کو اپنے دوست کو وہاں دیکھنے کے متعلق امام احمد نے کہا: ’مجھے بہت اچھا لگا کیونکہ اس نے یکجہتی کا پیغام دیا۔‘

ناگلا نے مزید کہا ’ہم لیسٹر میں چار دہائیوں سے ایک ساتھ رہ رہے ہیں اور ہم کسی کو امن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گے۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close