امریکہ، چین اور روس کے مابین افریقہ میں اثرو رسوخ کی دوڑ۔۔۔

ویب ڈیسک

امریکہ کے مطابق افریقہ میں چین اور روس کے قدم دن بدن مضبوط ہوتے جا رہے ہیں اور اس کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔ امریکہ نے اس براعظم کے رہنماؤں کے لیے ریڈ کارپٹ بچھاتے ہوئے اربوں ڈالر کے منصوبوں کا اعلان کر دیا ہے

گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران یہ پہلی براعظمی کانفرنس ہے، جس میں شرکت کے لیے انچاس افریقی رہنما واشنگٹن پہنچے ہیں

امریکہ معدنیات کی دولت سے مالا مال براعظم افریقہ میں اپنا اثر و رسوخ دوبارہ بڑھانے کی خواہش رکھتا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن اس مقصد کے حصول کے لیے ذاتی سطح کی سفارتکاری میں مصروف ہیں

تین روزہ سربراہی اجلاس کے آغاز پر کئی افریقی صدور کے ساتھ ایک پینل میں امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے الزام لگایا کہ ”اس خطے میں امریکی حریفوں کا نقطہ نظر اور ان کے مقاصد مختلف ہے۔“ وہ دراصل چین اور روس کی جانب اشارہ کر رہے تھے

آسٹن کے بقول، ”چین اپنے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر افریقہ میں اپنے قدموں کے نشان چھوڑ رہا ہے۔ پریشان کن بات یہ ہے کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، اس میں شفافیت نہیں ہے اور اس طرح ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جو آخرکار عدم استحکام پیدا کرتے ہیں‘‘

امریکی وزیر دفاع کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا ”روس سستے ہتھیاروں کی فروخت جاری رکھے ہوئے ہے اور کرایے کے فوجیوں کو پورے براعظم میں تعینات کر رہا ہے۔ اس طرح عدم استحکام پیدا ہو رہا ہے‘‘

لیکن بائیڈن انتظامیہ اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ وہ افریقی رہنماؤں کو یہ کہنے سے گریز کر رہی ہے کہ ’یا تو ہمارے ساتھ چلو یا پھر چین اور روس کے ساتھ روابط رکھو۔‘ بائیڈن انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ چین نے افریقہ میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے شروع کر رکھے ہیں اور اب ان کا خاتمہ ممکن نہیں

صدر جو بائیڈن آئندہ تین برسوں میں افریقہ کے لیے 55 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اپنے پہلے اعلان میں وائٹ ہاؤس نے کہا ”امریکہ 2025ع کے مالی سال تک افریقی صحت کے کارکنوں کی تربیت کے لیے چار بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔“

اس سمٹ میں امریکی خلائی ادارے ناسا کو بھی لایا گیا۔ نائیجیریا اور روانڈا ’آرٹیمس معاہدے‘ پر دستخط کرنے والے پہلے افریقی ممالک بن گئے ہیں۔ امریکہ چاند، مریخ اور اس سے آگے کے سفر کے لیے بین الاقوامی تعاون کا خواہاں ہے۔ آرٹیمس معاہدے میں پہلے سے ہی یورپی اتحادی، جاپان اور کئی لاطینی امریکی طاقتیں شامل ہیں

امریکہ اس خلائی منصوبے کو ایک ایسے وقت میں تیزی سے وسعت دے رہا ہے، جب چین خلائی منصوبوں اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور روس کے ساتھ بگڑتے ہوئے تعلقات کی وجہ سے ’امریکہ روس خلائی تعاون‘ بھی خطرے سے دوچار ہے

دوسری جانب چین نے افریقہ میں اپنے کردار پر امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ واشنگٹن میں تعینات چینی سفیر چن گانگ نے کہا ہے کہ براعظم افریقہ کو بڑی طاقتوں کے مقابلے کا میدان نہیں بننا چاہیے

دریں اثناء بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وینبن نے بدھ کو صحافیوں کو بتایا ”واشنگٹن کو چاہیے کہ افریقی عوام کی خواہش کا احترام کرے اور اسے افریقہ کی ترقی میں مدد کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں، بجائے اس کے کہ وہ اپنی توجہ دوسرے ممالک کو بدنام کرنے پر مرکوز رکھے‘‘

واضح رہے کہ سن 2014ع میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کی طرف سے افریقی لیڈروں کو مدعو کرنے کے بعد یہ پہلا ’امریکی-افریقی سربراہی‘ اجلاس ہے۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی براعظم افریقہ میں عدم دلچسپی کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں تھی

لیکن اب ایک مرتبہ پھر صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ بائیڈن انتظامیہ نے ’سکیورٹی اور سفارتی‘ دونوں محاذوں پر افریقی یونین کے ساتھ کام کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں یہ مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل طور پر ایک افریقی نشست بھی ہونی چاہیے

افریقی یونین کے سربراہ موسیٰ فاکی ماہمت نے امریکی حمایت کو سراہا لیکن ساتھ ہی متنبہ کرتے ہوئے کہا ”امریکہ کی توجہ اب بھی مشرق وسطیٰ میں شدت پسندوں سے لڑنے پر مرکوز ہے، اس دوہرے معیار کے افریقہ اور دنیا میں امن و جمہوریت کے لیے تباہ کن نتائج برآمد ہوئے ہیں‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close