بھارت: خواتین کمیشن کی سربراہ سواتی مالیوال بھی ہراسانی سے محفوظ نہ رہ سکیں!

ویب ڈیسک

2012ع کا گینگ ریپ کیس، جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے کئی واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت کا مرکزی دارالحکومت خواتین کے لیے کتنا غیر محفوظ ہے

واضح رہے کہ اگست 2022 میں نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو (این آر سی بی) کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں دہلی کو خواتین کے لیے سب سے غیر محفوظ میٹرو شہر قرار دیا گیا تھا۔ دہلی تمام میٹروپولیٹن شہروں میں خواتین کے خلاف جرائم کی فہرست میں مسلسل تیسرے سال سب سے اوپر ہے

ایک ایسے وقت میں جب بھارت کی چوٹی کی خواتین پہلوانوں کی جانب سے ’ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا‘ (آر ایف آئی) کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ اور کوچز پر جنسی استحصال کا الزام کا چرچا ہے، اب سواتی مالیوال کے حوالے سے بات ہو رہی ہے، جو خود دہلی کمیشن برائے خواتین (ڈی سی ڈبلیو) کی چیئرپرسن ہیں

ہر روز بھارتی اخبارات ملک بھر میں جنسی ہراسانی اور عصمت دری کے واقعات سے بھرے رہتے ہیں اور دہلی ایسے واقعات کے لیے بدنام ہے، جو وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں

دہلی کمیشن برائے خواتین (ڈی سی ڈبلیو) کی چیئرپرسن سواتی مالیوال کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا۔ دہلی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن ہونے کے باوجود آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس) کے باہر سڑک پر گذشتہ روز ان کے ساتھ ہراسانی کا تازہ واقعہ پیش آیا ہے

ہراسانی کے بعد ان کا ہاتھ ایک شراب کے نشے میں دھت ڈرائیور کی گاڑی کی کھڑکی میں پھنس گیا، جس کے بعد انہیں سڑک پر دس بیس میٹر تک بے دردی سے گھسیٹا گیا

سواتی نے ایک تازہ ٹویٹ میں بتایا ہے کہ جس شخص نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی تھی، اس نے دوسری خواتین کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ ایک لڑکی نے ہیلپ لائن 181 پر کال کر کے بتایا کہ کیسے 17 جنوری کو اس شخص نے لودھی روڈ پر اس کے سامنے کئی بار گاڑی روکی اور اسے گاڑی میں بیٹھنے کو کہا۔ ’یہ اچھا ہے کہ میں نے اسے پکڑ لیا۔ سب سے زیادہ اپیل یہ ہے کہ خوفزدہ نہ ہوں، اپنی آواز بلند کریں۔‘

اس واقعے نے ملک بھر کی خواتین کے اعتماد کو مزید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جب اس جیسی انتہائی بااختیار خواتین بھی شہر میں محفوظ نہیں ہیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں کہ دوسری خواتین کو تحفظ کا احساس نہیں ہوگا۔ تاہم، سواتی مالیوال نے اس واقعے کے بارے میں بے دھڑک بات کرنے کی جرأت کی ہے

سواتی مالیوال انجینئرنگ گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے ایچ سی ایل کے ساتھ کام کیا لیکن ان میں آگے بڑھنے کی لگن انہیں مختلف راستوں پر لے گئی۔ جب بیس کی دہائی کے اوائل میں تمام نوجوان ایک اچھی نوکری، ایک بڑا عہدہ اور ایک بہتر مستقبل حاصل کرنا چاہتے ہیں، سواتی نے بائیس سال کی عمر میں اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی

ملازمت چھوڑنے کے بعد وہ ملک کی کچی آبادیوں اور دیہی علاقوں میں رضاکارانہ طور پر کام کرنے لگیں۔ اس کے بعد وہ سال 2011ع میں انا ہزارے کی قیادت میں بدعنوانی مخالف تحریک کی سب سے کم عمر اراکین میں سے ایک بن گئیں

ایک مختصر مدت کے لیے وہ ایک مہم کے طور پر ’گرین پیس انڈیا‘ کا حصہ بھی بن گئیں۔ وہاں انہوں نے سال 2013ع میں بچوں اور خواتین کے لیے محفوظ خوراک فراہم کرنے کے لیے کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے سال 2014ع میں ترقیاتی مشیر کے طور پر دہلی میں ایک رکن پارلیمان کے ساتھ کام کیا

سواتی مالیوال این جی اوز کی ایک وسیع رینج کا حصہ بھی رہی ہیں، جو ملک کے اندر طاقت کی مرکزیت کے لیے کام کرتی ہیں۔ انہوں نے آر ٹی آئی ایکٹ کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کے لیے مہم کو منظم کرنے کے حوالے سے بھی کام کیا

سال 2015 میں وہ دہلی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن بنیں۔ تاہم، راستہ ہموار نہیں تھا کیونکہ انہیں کمیشن کی سابق سربراہ برکھا شکلا کی جانب سے شدید الزامات کا سامنا کرنا پڑا

سواتی مالیوال اپنے اب تک کے کا سفر خاص طور پر ڈی سی ڈبلیو کی چیئرپرسن بننے کے بعد کے بارے میں کہتی ہیں مجھے کئی مسائل کا سامنا رہا۔ ان ابتدائی دنوں میں مجھے اپنے دفتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ ڈی سی ڈبلیو میں سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی مکمل کمی تھی۔ سابق ڈی سی ڈبلیو سربراہ نے، جو اے سی بی کیس میں شکایت کنندہ ہیں، آٹھ سالوں میں ایک کیس کو ہینڈل کیا اور ہم نے اب تک ایک لاکھ کیس پر کارروائی کی ہے۔ ان ایک لاکھ مقدمات میں رشوت ستانی کا ایک بھی الزام نہیں ہے۔‘

ڈی سی ڈبلیو چیف کے طور پر مالیوال نے کافی مقبولیت حاصل کی۔ ان کی ٹیم میں 66 ساتھیوں نے متاثرہ خواتین کی پولیس کیس درج کرنے میں مدد کی۔ کمیشن کی ’181‘ خواتین کی ہیلپ لائن کو روزانہ تقریباً تین ہزار کالز موصول ہوتی ہیں۔ اس حکمت عملی نے کمیشن کو ریپ کے واقعات کے لیے میڈیا کی توجہ حاصل کرنے میں مدد کی۔ ریپ کے ان واقعات میں زیادہ تر بوڑھی اور نابالغ خواتین شامل تھیں

مالیوال یہیں نہیں رکیں۔ انہوں نے ایک ٹیم قائم کی جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے بچوں اور خواتین کے خلاف مجرمانہ مقدمات کی تلاش کی۔ ان میں سے ایک بڑے کیس میں مسلمان خواتین کی تصاویر آن لائن نیلامی کے مقصد سے ایک ایپ پر اپلوڈ کی گئیں۔ نتیجے کے طور پر ٹیم نے پولیس کو متعدد نوٹس بھیجے

اس ٹیم نے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا بھی مطالبہ کیا، جنہوں نے مشہور بھارتی کرکٹر ویراٹ کوہلی کی بیٹی کے بارے میں نازیبا تبصرے پوسٹ کیے تھے

ٹیم نے مکیش کھنہ (شکتیمان اداکار) کے خلاف ان کے بدتمیزی پر مبنی تبصروں کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کروائی

مالیوال نے ریسکیو آپریشنز بھی شروع کیے۔ انہوں نے ان صحت یا سپا مراکز کے خلاف بھی سخت کارروائی کی، جو مبینہ طور پر جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث تھے۔ وہ شراب مافیا کے ارکان کے خلاف چھاپے مارنے کے لیے بھی مشہور ہیں

ان کے چھاپوں کے طریقہ کار پر بہت سے سوالات پیدا ہوئے لیکن انہوں نے انہیں بے دھڑک انداز میں یہ کہتے ہوئے سنبھالا، ’ہم کاروباری اداروں اور ان تمام بدعنوان اہلکاروں کو نقصان پہنچا رہے ہیں جو ان ریکٹس کا حصہ ہیں۔ میں نے ایک پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔‘

سواتی مالیوال نے ہمیشہ کہا ہے کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ وہ صرف دہلی کمیشن برائے خواتین میں اہم تبدیلیوں کے لیے کام کرنا چاہتی ہے

لیکن دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن پر بھی مہربان نہیں تھی۔ سواتی مالیوال نے اپنے ٹویٹ میں اس مسئلے کا اظہار کیا۔ مالیوال نے ٹوئٹر پر کہا، ‘اگر دہلی میں خواتین کمیشن کی چیئرپرسن محفوظ نہیں ہیں تو آپ (خواتین کی حفاظت کی) حالت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔‘

ان کے ساتھ دہلی کی سڑکوں پر مبینہ طور پر چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ انہیں ایک کار ڈرائیور نے دس بیس میٹر تک گھسیٹ لیا جو نشے میں تھا۔ مزید یہ کہ ان کے دعوے کے مطابق ان کا ہاتھ میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے قریب کار کی کھڑکی میں پھنس گیا

ہرش چندر، کار ڈرائیور جس پر چھیڑ چھاڑ اور چوٹ پہنچانے کا الزام ہے، سنگم وہار کا سینتالیس سالہ رہائشی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس شخص سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے

ڈی سی ڈبلیو سربراہ نے پولیس کو بتایا کہ ایک نشے میں دھت شخص دو بار اس کے پاس آیا اور اسے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ جب وہ اس کی سرزنش کرنے کے لیے قریب گئی، تو اس نے کھڑکی کا شیشہ بند کرنے کی کوشش کی، جس سے ان کا ہاتھ کھڑکی میں پھنس گیا، جس کے بعد انہیں گھسیٹا گیا

پولیس نے بتایا کہ انہیں جمعرات کی صبح 3.11 بجے ایمس گیٹ کے سامنے ایک گشتی وین سے اس واقعہ کے بارے میں کال موصول ہوئی اور صبح 3.34 بجے کار کو روکا گیا۔ ڈرائیور ہریش چندر ساکن سنگم وہار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہیں نشے کی حالت میں پایا گیا اور چودہ دن کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ پولیس نے ملزم کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 323، 341، 354، 509 اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 185 کے تحت معاملہ درج کیا ہے

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب یکم جنوری 2023 کو بیرونی دہلی کے سلطان پوری علاقے میں ایک بیس سالہ خاتون کی اسکوٹی کو ایک کار نے ٹکر مارنے کے بعد اسے تقریبا چار کلومیٹر تک گھسیٹا تھا۔ اس المناک واقعے پر بھارت بھر میں کافی تہلکہ مچا تھا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close