جرمنی سے بائیک پر عمرے کے لیے پہنچنے والا شامی مکہ پہنچتے ہی جاں بحق

ویب ڈیسک

شامی نژاد شہری جرمنی سے بائیک پر 73 دن کے سفر کے بعد مکہ پہنچتے ہی شدتِ جذبات سے اس قدر مغلوب ہو گئے کہ ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور یوں ان کی مقدس ترین شہر میں دفن ہونے کی خواہش پوری ہو گئی

عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے بائیک پر جرمنی سے مکہ المکرمہ جانے والا شامی حاجی مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد احرام کے لباس میں تھے کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 73 روز قبل جرمنی سے تریپن سالہ غازی جاسم نے سائیکل پر مسجد الحرام جانے کے لیے رختِ سفر باندھا تھا، جس کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی تھیں

غازی جاسم جرمنی کے رہائشی اور شام کے شہر حمص سے تعلق رکھتے تھے

انہوں نے 22 اکتوبر 2022 کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ سے سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ کے لیے اپنے سفر کا آغاز کیا لیکن ان کا انتقال جمعہ 17 فروری کو ہوا، جو اسراء اور معراج کی رات تھی

اپنے سفر کے دوران، وہ اپنی سائیکل سے منسلک ایک گاڑی کا استعمال کرتے ہوئے آسٹریا اور پھر اٹلی سمیت کئی ممالک سے گزر کر 4 فروری کو قاہرہ پہنچے، پھر وہ بحیرہ احمر کی طرف پیدل چلتے رہے، یہاں تک کہ وہ صفاگا کے ساحل پر پہنچ گئے، جہاں سے انہوں نے اپنی سائیکل سے جڑی گاڑی کا استعمال کیا۔ مکہ کی طرف روانہ ہوئے

غازی جاسم رب کی خوشنودی کے لیے استقلال کے ساتھ مقدس سفر پر رواں دواں رہے اور ہر آنے والی مشکل کا مسکرا کر مقابلہ کیا۔ اس دوران وہ سوشل میڈیا پر اپنے سفر کی روداد بھی بتاتے جا رہے تھے

غازی جاسم جیسے ہی اپنی منزل مقصود پر پہنچے، اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ زار و قطار روتے ہوئے نماز ادا کی اور اسی دوران انتقال کر گئے۔ مسجد الحرام میں ہی ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی گئی اور سرزمین مقدس میں ان کی تدفین کی گئی

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر وہ پہلے ہی مکہ مکرمہ میں انتقال اور وہیں دفن ہونے کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے اور اللہ نے ان کی یہ تمنا پوری کر دی

میڈیا پر غم کے اظہار کے ساتھ ساتھ غازی کے سفر کو سراہا جا رہا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close