فری لانسرز کے لیے ڈجیٹل نومیڈ ویزا کیا ہے اور یہ کیسے ملتا ہے؟

ویب ڈیسک

دنیا بھر کے متعدد ملکوں میں فری لانسرز اور آن لائن کام کرنے والوں کو متوجہ کرنے کے لیے ’نومیڈ ویزا‘ کا اجرا کیا جا رہا ہے، جس کے لیے مختلف طریقہ کار اور شرائط رکھی گئی ہیں

اس رپورٹ میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ یہ ویزا کیا ہے اور اسے کیسے حاصل کر کے کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے

اس بارے میں ٹرو ہولی ڈیز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور ویزا کنسلٹنٹ بلال اسلم کہتے ہیں ”ڈجیٹل نومیڈ ویزا کو ریموٹ ورک ویزا بھی کہتے ہیں۔ یہ ویزا دراصل اس ورکر کے لیے ہوتا ہے، جو اپنا کام دنیا میں کہیں بھی بیٹھ کر سکتا ہے، جس میں فری لانسرز آتے ہیں“

بلال بتاتے ہیں ”یہ ویزا پچاس سے زیادہ ممالک دے رہے ہیں۔ سوال یہ آتا ہے کہ ہمیں کس ملک کا ویزا لینا چاہیے؟ اس میں آپ نے اپنی ضرورت کو دیکھنا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیں کہ کیا آپ اس ملک میں جا کر بسنا چاہتے ہیں یا آپ وقتی طور پر جگہ تبدیل کرنا چاہ رہے ہیں؟“

انہوں نے بتایا ”عموماً یہ وقتی ورک ویزا ہوتا ہے کہ آپ جاتے ہیں اور ایک سال سے لے کر تین، چار سال وہاں رہتے ہیں اور پھر آپ اپنے ملک میں واپس آجاتے ہیں۔ دوسرا آپ اسے مستقل رہائش کی طرف بھی لے کر جا سکتے ہیں۔ اس میں یہ بھی اہم ہے کہ آپ نے فیملی کو لے کر جانا ہے یا اکیلے جانا ہے؟ مثال کے طور پر اگر ہم ہنگری کے نومیڈ ویزا کی بات کریں تو وہاں آپ فیملی کو نہیں لے کر جا سکتے“

بلال کا کہنا ہے ”اسی طرح اسٹونیا کے ویزا میں توسیع ممکن نہیں ہے۔ دیکھنا ہے آپ کتنے عرصے کے لیے جا رہے ہیں۔ فیملی کو لے کر جانا چاہ رہے ہیں یا نہیں۔ یہ ویزا شہریت کی طرف لے جاتا ہے یا نہیں؟“

”پرتگال ایک ایسا ملک ہے، جہاں اگر آپ ڈجیٹل نومیڈ ویزا پر پانچ سال تک رہتے ہیں تو آپ اس کو مستقل رہائش میں تبدیل کر وا سکتے ہیں اور اس کے بعد یہ شہریت کی طرف بھی چلا جاتا ہے“

بلال کے مطابق ”جرمنی نومیڈ ویزا کو فری لانسر ویزا کہتا ہے۔ یہاں کا آپ کو ایک فائدہ یہ ہو سکتا ہے کہ باقی ممالک یہ کہتے ہیں کہ آپ کی ایک حد تک آمدن ہونی چاہیے، جیسے کروشیا کہتا ہے کہ دو ہزار تین سو یوروز ہونی چاہیے۔ دبئی کے لیے آپ کی آمدن پانچ ہزار یورو ہونی چاہیے۔ کچھ ممالک آپ سے ڈھائی ہزار سے پانچ ہزار یورو ماہانہ آمدن کا تقاضا کرتے ہیں لیکن جرمنی میں اس طرح کی کوئی شرط نہیں ہے۔ جرمنی کے لیے اگر آپ کی آمدن اتنی نہیں ہے لیکن آپ کے پاس نو ہزار یورو بینک میں پڑے ہوئے ہیں تو آپ اپنا پراجیکٹ کانٹریکٹ دکھا کر جرمنی جا سکتے ہیں“

بلال کہتے ہیں ”نومیڈ ویزا اپلائی کرنا انتہائی آسان ہے۔ آپ آن لائن بھی کر سکتے ہیں یا آپ کسی کنسلٹنٹ کو رکھ لیں جو آپ کو یہ خدمات فراہم کرے گا۔ آن لائن ایپلیکیشنز فارمز ہوتے ہیں۔ کئی صورتوں میں آپ کو وی ایف ایس کو رابطہ کرنا پڑتا ہے اور انہیں اپنے سارے دستاویزات دکھانے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ایک ملک کہتا ہے کہ آپ کی ماہانہ آمدن دو ہزار یورو ہونی چاہیے تو آپ کے پاس دوسری چیز آپ کی نوکری کا معاہدہ ہونا چاہیے“

بلال کا کہنا ہے ”دوسرے دو ہزار یورو آپ کے بینک اکاؤنٹ میں نظر آںے چاہیے۔ یہ آپ کے دو ثبوت بنتے ہیں“

بلال اسلم نے مزید کہا ”اگر ہم سب سے سستے ملک کی بات کریں تووہ پرتگال ہے، آپ کی ماہانہ آمدن اگر 705 یورو بھی ہے، آپ پرتگال کا ڈجیٹل نومیڈ ویزا اپلائی کر سکتے ہیں“

بلال کا کہنا تھا ”اگر ہم دیگر ممالک کی بات کریں تو یورپ کے کافی ممالک آپ کو ڈجیٹل نومیڈ ویزا دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کو گلف ممالک جیسے دبئی، ٹراپیکل میں تھائی لینڈ اور مالدیپ یہ ویزا دے رہا ہے“

بلال کے مطابق ”اس ویزا کو لانچ کرنے کی وجہ ڈجیٹل پول کو اپنی طرف کھینچنا۔ فارن ریمٹینس لے کر آنا اورٹیکسیشن کا حصہ بنانا ہے۔ کرونا کی وبا کے بعد یہ کافی حد تک ممکن ہو گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان ممالک نے ڈجیٹل نومیڈ کی اجازت دی ہے۔ یہ دو سال پہلے شروع ہوا تھا اور ابھی بھی یہ اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔ کئی ممالک اس میں مسلسل بہتری لا رہے ہیں۔ اس میں مزید آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں“

بلال کے مطابق ”یہ ویزا مہنگا نہیں ہے۔ اس کی ابتدائی فیس پینتیس یورو سے شروع ہو کر دو ہزار یوروز تک جاتی ہے وہ بھی بڑے کم ممالک ہیں۔ اگر ہم بڑے ملکوں کی بات کرتے ہیں تو ان کا بھی اتنا ہی خرچہ ہے پینتیس یورو، ایک سو یورو، ڈیڑھ سو یورو اس طرح کا خرچہ ہے تو یہ آپ کی پہنچ میں ہے۔ یہ ویزا جیب پر بھاری نہیں ہے اور یہ آپ کی زندگی کا اسٹائل تبدیل کر دے گا“

بلال نے بتایا ”لوگ اکثر یہ بھی پوچھتے ہیں کہ آپ ایک دوسرے ملک میں جا رہے ہیں تو آپ نے ٹیکس دینا ہے یا نہیں دینا؟ اس کا انحصار اس بات پر ہےکہ آپ کتنے دورانیے کے لیے جا رہے ہیں؟ کچھ ممالک آپ کے وہاں رہنے کے دورانیے کو بھی کیپ کرتے ہیں۔ جیسے پرتگال کہتا ہے کہ چوبیس مہینوں میں سے سولہ مہینے آپ نے پرتگال میں رہنا ہے۔ اسی طرح کچھ ممالک کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک خاص مدت سے کم عرصہ رہ رہے ہیں توآپ کو ڈبل ٹیکسیشن کی ضرورت نہیں ہے۔“

وہ کہتے ہیں ”آپ اپنے ملک میں ٹیکس دے سکتے ہیں۔ اس میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس ملک میں ٹیکسیشن کتنی ہے؟ جیسے ہم دبئی کی بات کریں تو وہاں بہت سے غیر ملکی آتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں پر ٹیکس بہت کم کٹتا ہے۔ ٹیکسیشن کا عمل ہر ملک میں مختلف ہے۔ اور یہ اس پر منحصر ہے کہ آپ وہاں کتنا عرصہ ٹھہر رہے ہیں؟“

بلال کے مطابق ”آپ نے ایسے ہی ویزا اپلائی نہیں کر دینا کہ آپ کو کسی نے کہا کہ ڈیجیٹل نومیڈ ویزا بڑا اچھا ہے جرمنی چلے جائیں۔ آپ نے دیکھنا ہے کہ وہ ملک آپ کو سوٹ کر رہا ہے کہ نہیں۔ اس کے لیے آپ کو کتنی آمدن چاہیے، وہاں آپ فیملی لے کر جا سکتے ہیں یا نہیں، وہاں ٹیکسیشن کتنی ہے وہاں کا موسم کیسا ہے؟ یہ وہ سارے عوامل ہیں جن کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے“

اس حوالے سے ڈجیٹل مارکیٹنگ اور آؤٹ سورسسنگ کی کمپنی کانسیپٹ بینز کی بانی وجہیہ غزل کہتی ہیں ”اگر آپ دوسرے ممالک میں اپنا آفس بنانا چاہتے ہیں تو وہاں پر آپ کو کام کے لیے اجازت نامہ لینا ہوتا ہے۔ آپ کو بزنس سیٹ کرنے لیے مختلف ضروریات ہوتی ہیں۔ بہترین شارٹ کٹ حل یا بہترین موقع آج کل جو چل رہا ہے وہ ڈجیٹل نومیڈ ویزا ہے“

وجیہہ نے بتایا ”کرونا کے بعد ہم دیکھ رہے ہیں کہ بہت سے ممالک میں افرادی قوت کا کافی مسئلہ آ رہا ہے۔ پہلے یہ ممالک آؤٹ سورس کر رہے ہوتے تھے۔ ہم یہاں دور بیٹھے کام کر رہے ہوتے تھے۔ لیکن اب انہیں مین پاور کی کمی کا سامنا ہے تو آج کل وہ اپنے ہی ممالک کے اندر یہ ویزا آفر کر رہے ہیں اور مین پاور کو اپنے ممالک کی طرف کھینچ رہے ہیں“

وجیہہ کے مطابق ”پاکستان میں فری لانسرز کو ٹائم زون کے مسائل کا سامنا بھی ہے۔ اگر ہم آسٹریلین ٹائم کے مطابق کام کر رہے ہیں تواس کے لیے آپ کو صبح چار بجے اٹھنا پڑ رہا ہے۔ اگر آپ امریکہ کے وقت کےمطابق کام کر رہے ہیں تو ہمیں رات گئے کام کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ ہمارے شام کے پانچ، چھ بجے ان کا دن شروع ہو رہا ہوتا ہے“

ان کا کہنا ہے ”آپ کے لیے کتنا مشکل ہو جاتا ہے کیوں کہ زیادہ تر غیر ملکی کمپنیاں اپنے وقت کے مطابق ہمارے ساتھ کام کرتی ہیں۔ وہ اپنا وقت ہمیں بتاتے ہیں اور ہم اس ٹائم پر کام کرتے ہیں۔ جب آپ ان کے ٹائم زون کے مطابق چلتے ہیں تو رات گئے تک کام کرنا پڑتا ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close