کسان بھائی، فوجی بھائی

محمد حنیف

بچپن میں جب بزرگ کوئی بات ’ہمارے زمانے میں تو‘ سے شروع کرتے تھے تو ہم بور ہو جاتے تھے کہ اب یہی سننے کو ملے گا کہ بڑوں کا احترام، بکرے کا گوشت بارہ آنے سیر، نہ شوگر کی بیماری، نہ کینسر، ہندو مسلم بھائی بھائی، وغیرہ کا بھاشن سننے کو ملتا تھا۔

اب ہم خود عمر کے اس حصے میں آ گئے ہیں کہ آپ کو دھڑلے سے بتا سکتے ہیں کہ ہمارے بچپن کا زمانہ کتنا اچھا تھا، نہ انٹرنیٹ، نہ یوٹیوب، نہ کیبل ٹی وی۔ اخبار یا ڈائجسٹ کوئی شہر سے آنے والا مہمان چھوڑ گیا تو ہماری اینٹرٹینمنٹ ہو گئی۔ ٹی وی آ چکا تھا لیکن کچھ گھرانوں میں قوتِ خرید ہونے کے باوجود بدعت سمجھا جاتا تھا۔ ریڈیو پتہ نہیں کیوں حلال تھا اور ہر وقت بجتا تھا۔

شام کو مغرب کی نماز سے پہلے فوجی بھائیوں کا پروگرام آتا تھا، جس میں فوجی بھائیوں کی فرمائش کے گانے بجائے جاتے تھے اور کبھی کبھی اُن کے خطوط پڑھ کر سُنائے جاتے تھے، جس میں وہ دور دراز کے محاذوں اور مورچوں سے اپنے گھر والوں کو اپنی خیریت کا احوال دیتے تھے اور اپنے بچوں اور گائے بھینسوں بکریوں کا حال پوچھتے تھے۔

مغرب کی نماز کے بعد کسان بھائیوں کا پروگرام آتا تھا، جو تھوڑا زیادہ کُھلا ڈلا ہوتا تھا۔ اس میں اس وقت کے ریڈیو سُپراسٹار نظام دین اور معروف فلمساز سرمد کھوسٹ کے دادا سلطان کھوسٹ گپ شپ لگاتے تھے۔ لطیفے، شعر سناتے تھے، کبھی کسی زرعی ماہر کو بلا کر فصلوں کی بیماریوں اور پیداوار بڑھانے کے طریقوں پر بات ہوتی تھی۔ امریکی سنڈی کے خطرات شاید پہلی دفعہ تب سُنے تھے۔

فوجی بھائیوں اور کسان بھائیوں کے پروگرام کی زبان، حسِ مزاح، گانے بھی تقریباً ملتے جلتے تھے۔ ہو سکتا ہے ہمیں بچپن میں سب کو بھائی بھائی دیکھنے کی بیماری ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس زمانے میں زیادہ تر فوجی بھرتی کسان گھرانوں سے ہی ہوتی تھی۔

فوجی بھائیوں اور کسان بھائیوں کے پروگرام کی بات اس وقت آئی، جب پاکستان فوج نے ملک میں زرعی انقلاب لانے کے لیے فوجی فاؤنڈیشن کے تحت ایک نئے ادارے کا قیام کا اعلان کیا اور پھر سبز پاکستان کے نام سے وسطی پنجاب میں ایک جدید فارم کا افتتاح ہوا، خانیوال کے نزدیک ایک مقام پر۔

مجھے گاؤں کا نام پتہ ہے لیکن اس لیے نہیں لکھ رہا کہ یہ فارم جتنے بھی جدید ہوں آخر ہیں تو کھیت، لیکن ہو سکتا ہے کسی قانون کے تحت یہ دفاعی تنصیبات بھی ہوں اور ان کا محل وقوع بتا کر راقم کسی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا۔

بتایا گیا ہے کہ یہ جدید فارم بنجر زمین کو آباد کر کے بنایا گیا ہے۔

یہ ہمارے جدید کارپوریٹ کسانوں کا ہی کمال ہے کہ انھوں نے عین وسطی پنجاب کے بیچ بنجر زمین ڈھونڈ لی۔ اگر کبھی اس علاقے کے آس پاس کا سفر کیا ہو تو علم ہوگا کہ یہ پاکستان کی زرخیز ترین زمین سمجھی جاتی ہے، اور یہاں کے کسان بغیر کسی کارپوریٹ فارمنگ کے بھی نسبتاً خوشحال ہیں۔ میں نے خود دو ایکڑ کاشت کرنے والوں کو اپنے بچے بچیاں یونیورسٹی میں پڑھاتے دیکھا ہے۔

یہ خیال بھی آیا کہ اگر پاک فوج کاشتکاری کرے گی تو پھر کاشتکار کیا کریں گے؟ لیکن پھر اس فارم کی وڈیو دیکھی تو تسلی ہوئی، حالانکہ اس فارم میں زیادہ تر کام خود کار مشینیں کر رہی ہیں لیکن کسان موجود ہیں، بس انہوں نے گرین پاکستان والے لوگو کے ساتھ کوٹ اور ہیلمٹ پہن رکھے ہیں۔ ایک منشی نما شخص نے گوروں والا ہیٹ بھی پہن رکھا ہے۔

پاک فوج کو کھیتوں میں دیکھنا ایک پرانا خواب بھی ہے۔ جب سپہ سالار جنرل راحیل شریف کو لاہور میں انڈین بارڈر کے ساتھ 80 ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین الاٹ ہوئی تھی تو قوم نے خواب دیکھا تھا کہ جب وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کُرتا لاچا پہن کر اپنی زمین پر چارپائی ڈال کر مونچھوں کو تاؤ دیں گے تو پھر ہندوستان کو پتہ چلے گا کہ ہم کس مٹی سے بنے ہیں۔ جنرل راحیل شریف کو سعودی عرب میں بہتر نوکری مل گئی، اب پتہ نہیں ان کی زمین پر کارپوریٹ فارمنگ ہوتی ہے یا بس ٹھیکے پر دے دی۔

پاکستانی فوج کے غیرفوجی دھندوں پر کبھی کبھار تنقید ہوتی رہتی ہے لیکن اب چونکہ فوج نے زرعی انقلاب اور سنگلاخ پہاڑوں کا سینہ چیر کر قیمتی معدنیات نکالنے کی ٹھان رکھی ہے تو مان جانا چاہیے کہ فوج کے پاس یہ سب کچھ کرنے کے لیے ’ایف ڈبلیو او‘ جیسے ادارے موجود ہیں جو ملک کے طول و عرض میں سڑکوں اور پُلوں کا جال بچھا چکے ہیں، ان کے پاس بنجر زمینوں کو آباد کرنے اور پہاڑوں کا سینہ چیرنے کے لیے ہیبت ناک مشینری بھی موجود ہے۔

پاکستان کی جیّد دفاعی تجزیہ نگار عائشہ صدیقہ کو ایک انٹرویو میں فوج کے زرعی انقلاب کے رستے میں حائل مشکلات کا ذکر کرتے سُنا۔ انہوں نے ہاریوں اور چھوٹے کسانوں کا ذکر کیا، پھر فرمایا کہ اس زرعی انقلاب کے لیے پانی کہاں سے آئے گا۔ پھر انہوں نے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کو مخاطب کر کے کہا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ یہ زرعی انقلاب شروع کرنے کے بعد منیر نیازی کا یہ شعر پڑھتے پائے جائیں:

ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو،
میں ایک دریا کے پار اُترا تو میں نے دیکھا۔۔

تجزیہ جیسا بھی ہو لیکن اگر کوئی تجزیہ نگار اس میں منیر نیازی کا شعر جڑ دے تو میں اثبات میں سر ہلا دیتا ہوں۔

لیکن عائشہ صدیقہ سے نہایت ادب سے اختلاف کرنا چاہوں گا کیونکہ اگر واقعی جنرل عاصم منیر کو ایک اور دریا کا سامنا ہوا تو انہیں منیر نیازی یاد نہیں آئے گا، وہ ایف ڈبلیو او والوں کو بُلا کر کہیں گے بناؤ ایک اور پُل اس دریا پر، دوسری طرف والی بنجر زمین پر بھی ایک کارپوریٹ فارم بناتے ہیں۔

بشکریہ: بی بی سی اردو
(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close