فرنیچر، کمپیوٹرز اور لیب کیمیکلز کی ’خریداری پر‘ اربوں خرچ لیکن سرکاری اسکول محروم!

ویب ڈیسک

ٹوٹی پھوٹی عمارتیں، اساتذہ کی کمی، سہولیات کی عدم دستیابی اور تعلیمی انقلاب بپا کرنے کے سرکاری دعوے۔۔ یہ مختصر سا تعارف ہے سندھ کے تباہ حال تعلیمی نظام کا

سندھ میں سرکاری اسکولوں میں فرنیچر، کمپیوٹرز، ہائی جین کٹ اور لیبارٹریز کے لیے سائنسی کیمیکلز کی خریداری کے نام پر اربوں روپے جھونک دیے گئے، لیکن اس کے باوجود سندھ کے سرکاری اسکولوں کا رخ کیا جائے تو ان سہولیات کی فراہمی کا کہیں سراغ نہیں ملتا

گذشتہ دو برسوں میں صوبائی دارالحکومت کراچی سمیت سندھ بھر میں ساڑھے چھ ارب کے فرنیچر کی خریداری کے باوجود بیشتر اسکولوں میں فرنیچر سے محروم ہیں

اربوں روپے کے ترقیاتی بجٹ کے باوجود سرکاری اسکول میں پینے کے پانی، باتھ روم اور صاف کلاس رومز کی سہولیات موجود نہیں ہیں، جبکہ جن سرکاری اسکولوں کو جو سامان بھی فراہم کیا گیا، وہ بھی انتہائی ناقص معیار کا تھا

حد تو یہ ہے کہ سابق وزیر تعلیم نے سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے ایک سرکاری اسکول میں اپنی بچی اور بھتیجی کو داخل کرانے کا میڈیا اسٹنٹ کیا تھا، وہ اسکول بھی فرنیچر سے محروم ہے

پیپلز پارٹی کے سابقہ دورِ حکومت میں حیدرآباد کا ایک ٹھیکیدار، جو چھتیس کروڑ کے فرنیچر کی رقم لے کر غائب ہوا تھا، آج بھی مفرور ہے، جس کی وجہ سے اسکولوں میں فرنیچر فراہم ہی نہیں ہو سکا

دلچسپ امر یہ ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے 58 کروڑ روپے کی سائنس کیمیکلز اور 1989 کلوگرام چاندی کی خریداری اس فرم سے خریدے گئے، جس پر کراچی یونیورسٹی نے پابندی لگا رکھی ہے

انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق مورخہ18-12-2022 اخبارات میں شائع شدہ ٹینڈر کو SPPRA کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا اور جس کی ایولیشن رپورٹ مورخہ 18-01-2023 کو شائع کی گئی اور جس کی فہرست میں ہزاروں کلوگرام غیرضروری کیمیکلز شامل کی گئیں تھیں۔ واضح رہے کہ کیمیکلز Consumable (قابل استعمال) ہوتی ہیں اور ان کی کوئی نشانی باقی نہیں رہتی

باخبر ذرائع کے مطابق افسران اور ٹھیکیدار نے مل کر ایک نیا طریقہ استعمال کیا کہ سائنس کے چار ٹینڈر تین ماہ کے اندر کھولے گئے، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن سیکنڈری ہائر سیکنڈری کراچی کے سائنس کے ٹینڈر جو کہ 14-11-2022 کو شائع کیے گئے تھے اور اسے 29-11-2022 کو کھولا گیا تھا، شہید بے نظیرآباد میں بھی سائنس کا سامان ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن سیکنڈری نے خریدا اس کے علاوہ ایسپائر پروجیکٹ نامی سائنس کا ٹینڈر بھی کھولا گیا، اسی طرح ایک ٹینڈر PMIU میں سائنس کا ٹینڈر کھولا گیا ہے اور یہ تمام ٹینڈر اسی سال ان ہی تین مہینوں میں کھولے گئے ہیں، مگر کمال کی بات یہ ہے کہ ان سارے ٹینڈرز اور اس سندھ سیکریٹریٹ کے ٹینڈر میں ایک حیرت انگریز بات ہے کہ یہ تمام ٹینڈر تقریباً 90 سے 100 آئیٹم پر مشتمل ہیں، جبکہ سندھ سیکریٹریٹ میں جو ٹینڈر کھلا، اس میں 301 آئیٹم شامل کئے گئے ہیں، جن میں زیادہ تر قیمتی کیمیکلز (جو عموماً اصلی نہیں ہوتے) قیمتی سلائیڈز جو کہ پڑوسی ملک سے منگوا کر ان پر کیورلینا USA کا لیبل لگایا جاتا ہے، شامل کی گئی ہیں۔ اور ایک منظورِ نظر ٹھیکیدار جس کو RSU میں (سینٹائزر کے ٹینڈر میں بھی سنگل بڈر کے طور پر کوالیفائی کیا گیا تھا اور دیگر تمام لوگوں کو ڈسکوالیفائی کیا گیاتھا)۔ اسی بڈر کو اب 58 کروڑ کے اس کیمیکل کے ٹینڈر میں کوالیفائی کرکے باقی کو ڈسکوالیفائی کیا گیا

اس کے علاوہ سندھ کے کسی بورڈ کے نصاب میں جو پریکٹیکل ہوتے ہیں، وہ اس فہرست میں شامل نہیں کئے گئے بلکہ تقریباً سارے ہی آئیٹم ایسے رکھے گئے ہیں کہ جو صرف، یونیورسٹیز میں تحقیق کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اسکولوں میں نہیں ہوتے۔

اس ٹینڈر میں سوپ (صابن) کو بھی سائنس کے سامان میں شامل کر دیا گیا ہے اور کچھ آپریٹرز بھی غلط طریقے سے لکھے گئے ہیں، جیسے کہ ویکٹر بورڈ جو دوپولی پر مشتمل ہوتا ہے، اُس کا تین پولی پر کرکے مزید ایک پولی کے کا اضافہ کر دیا گیا ہے

مزید یہ کہ کیمیکل کی طرح گلاس وئیر کو بھی Pyrex جاپان اور دیگر قیمتی کمپنیوں کے نام کے ساتھ مانگا گیا ہے کیونکہ گلاس وئیر بھی بریک ایبل ہوتا ہے اور یہ بھی کنزیوم ایبل میں ہی آتا ہے

دلچسپ امر یہ ہے کہ سندھ میں وزیر اعلیٰ، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم کی تبدیلی کے باوجود محکمہ تعلیم میں سیکرٹریز سمیت تمام افسران بشمول سیکشن آفیسر، G1/DDO اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اور سندھ بیسک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کےپروجیکٹ ڈائریکٹر تاحال اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں۔ اسے طرح سابق وزیر تعلیم کا پی اے عبدالحلیم سومرو جو 24 اگست 2021 کو ٖغیرقانونی طور پر ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر محکمہ بہبود آبادی سے آیا تھا، تاحال اپنے محکمہ تعلیم میں موجود ہے

دوسری جانب سندھ کے سرکاری اسکولوں میں تاحال درسی کتابیں فراہم نہیں کی گئیں، جس کے سبب تدریسی عمل تاحال تاخیر کا شکار ہے جس کے سبب سیکڑوں طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے

حکومت سندھ جاتے جاتے بچوں کی تعلیم کا بڑا نقصان کر گئی ہے، سرکاری تعلیمی اداروں میں درسی کتابیں تاحال نہیں پہنچ سکی ہیں اور بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہو رہی ہے

کالج سطح پر تبدیل ہونے والے نصابی کتب بازار ہی میں دستیاب نہیں ہیں، طلباء اور اساتذہ پریشان ہیں کہ کیا پڑھا اور پڑھایا جائے

سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ اور محکمہ تعلیم کی مجرمانہ غفلت کے باعث صوبے کے سرکاری تعلیمی اداروں میں کتابوں کی عدم فراہمی کے باعث غیر یقینی کی صورتحال جوں کی توں ہے، جس کے سبب تدریسی عمل شروع نہ ہو سکا

کتابوں کے نہ ہونے کے باعث سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ و طالبات کی حاضری نہ ہونے کے برابر ہے

موسم گرما کی چھٹیوں کا وقفہ ملنے کے باوجود کتابیں سرکاری تعلیمی اداروں تک نہ پہنچ سکیں، سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے

چند روز قبل سندھ ٹیچرز کوآرڈینیشن کمیٹی کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ سندھ اور چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کو درخواست بھی لکھی گئی مگر اس کا نتیجہ بھی صفر رہا

سندھ کے تعلیمی اداروں میں تدریسی کتب کی فراہمی کو یقینی بنانا متعلقہ حکام کے لئے اولین ترجیح ہونا چاہیے تھا مگر محکمہ تعلیم کے افسران خواب خرگوش کے مزے لیتے چلے گئے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close