کیا آپ آئن سٹائن کی اس تصویر کے پیچھے چُھپی کہانی کے بارے میں جانتے ہیں؟

ویب ڈیسک

جب آپ البرٹ آئن سٹائن کے بارے میں سوچتے ہیں تو ذہن میں کیا آتا ہے؟ کیا یہ اس کا نظریہ خاص اضافیت ہے، جس نے مشہور مساوات E=mc2 بنائی؟ کیا فوٹو الیکٹرک افیکٹ کی دریافت کے لیے ان کا نوبل انعام ہے؟ لیکن رکیے۔۔ کیا واقعی ایسا ہے۔۔۔؟ آپ کس سے مذاق کر رہے ہیں!

اگر آپ ہم میں سے زیادہ تر لوگوں کی طرح ہیں، تو البرٹ آئن سٹائن کے بارے میں سوچتے ہی سب سے پہلے جو چیز آپ کے ذہن میں ابھرتی ہے، وہ ہے وہ زبان والی ایک بے زبان تصویر، جو آپ کو ہر جگہ نظر آتی ہے۔ ایک سنجیدہ سائنس دان کے لیے، جس نے کائنات کے بارے میں ایسی زبردست دریافتیں کی ہیں، یہ ایک بہت ہی احمقانہ چہرہ ہے، لیکن جب آپ حالات کو سمجھتے ہیں، تو یہ سمجھ میں آتا ہے

گارڈین اس تصویر کو بیسویں صدی کی کسی بھی شخصیت کی سب سے مشہور پریس تصویروں میں سے ایک کہتا ہے

یہ ستر برس پہلے کی بات ہے، جب دنیا کے ایک معروف ماہر طبعیات نے تنگ کر دینے والے رپورٹروں کو زبان نکال کر دکھائی۔ اس تصویر نے انہیں ایک آئیکون میں بدل دیا۔۔ آج ہم اس تصویر کے پیچھے چُھپی کہانی جاننے کی کوشش کرتے ہیں

یہ 14 مارچ 1951ع کا دن تھا، جب البرٹ آئن سٹائن 72 برس کے ہو چکے تھے۔ جرمنی کے شہر اُلم میں پیدا ہونے والے آئن سٹائن پہلے ہی کئی برسوں سے امریکہ میں مقیم تھے۔ اس وقت وہ نیو جرسی میں پرنسٹن انسٹیٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈی میں کام کر رہے تھے۔ ریسرچ سینٹر میں ہی ان کے اعزاز میں سالگرہ کی ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا

وہاں ہال کے باہر پاپرازی بھی چھپے ہوئے تھے تاکہ وہ باہر نکلیں اور وہ عالمی سیاسی صورتحال سے متعلق دنیا کے مشہور سائنسدان کی رائے جان سکیں۔ اسی دوران اُن کی یہ تصویر لی گئی، جو بعدازاں دنیا بھر میں مشہور ہوئی

سائنسدان اپنی سالگرہ کی پارٹی سے نکل رہے تھے، جہاں فوٹوگرافروں کی بھیڑ اس کی منتظر تھی ، اور وہ ساری رات تقریب میں مسکراتے مسکراتے تھک چکے تھے

آئن سٹائن میڈیا کی کوریج کو بھی کچھ زیادہ پسند نہیں کرتے تھے اور انہیں یہ بھی اچھا نہیں لگا کہ اچانک وہاں رپورٹر بھی نمودار ہو چکے تھے۔ وہ ایک لیموزین کی بیک سیٹ میں پھنس چکے تھے۔ ان کی ایک جانب انسٹیٹیوٹ کے سابق ڈائریکٹر فرانک آیڈیلوٹ اور دوسری جانب سابق ڈائریکٹر کی اہلیہ میری بیٹھی ہوئی تھیں۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ کیمروں کی چمکتی روشنی سے بچ نکلتے

کہا جاتا ہے کہ وہ نامہ نگاروں پر کئی مرتبہ چیخے کہ ”اب بہت ہو گیا“

لیکن انہوں نے ایک نہ سنی۔ اس دوران ان میں سے ایک رپورٹر نے اونچی آواز میں کہا ”ہائے پروفیسر! سالگرہ کی تصویر کے لیے مسکرائیں، پلیز‘‘

البرٹ آئن سٹائن اس وقت جھنجھلاہٹ کا شکار تھے۔۔ انہوں نے غصے سے فوٹوگرافروں کی بھیڑ کی طرف دیکھا اور اپنی زبان نکالی، پھر فوراً پیچھے ہٹ گئے

یہ ایک لمحہ تھا، لیکن یو پی آئی کے فوٹوگرافر آرتھر ساس اس اسپلٹ سیکنڈ شاٹ پر قبضہ کرنے کے لیے کافی خوش قسمت تھے اور انہوں نے اس لمحے کو اپنے کیمرے میں قید کر لیا۔ یہ تصویر تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گئی اور اس طرح ایک مشہور تصویر بن گئی

پراگندہ بالوں والا غائب دماغ پروفیسر، جو اکثر موزے پہننا بھول جاتا تھا، اصل میں دنیا کا ایک ذہین ترین شخص تھا۔ ان کے نظریہ اضافیت کو اب بھی دنیا کے فقط ذہین دماغ ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اُس وقت بھی ان کو ایک افسانوی شخصیت ہی سمجھا جاتا تھا۔ اس ”گستاخانہ اسنیپ شاٹ‘‘ نے انہیں ایک پاپ آئیکون کا درجہ دے دیا تھا

اس تصویر کے بارے میں دوسری حیران کن بات سنیے۔۔۔ یہ فوٹوگرافر نہیں تھا، جس نے اس تصویر کو دنیا بھر میں شہرت دلائی، بلکہ خود آئن اسٹائن نے ایسا کیا تھا!

بعد ازاں آئن سٹائن کو یہ تصویر پسند آ گئی اور اس نے یو پی آئی سے اس کے پرنٹس مانگے، جنہیں وہ ذاتی گریٹنگ کارڈ کے طور پر استعمال کر سکتا تھا

آئن سٹائن نے اس تصویر کے متعدد پرنٹس کا آرڈر دیا اور آیڈیلوٹ جوڑے کو تصویر میں سے کاٹ دیا

اس کے بعد آئن سٹائن نے درجنوں تصاویر اپنے ساتھیوں، دوستوں اور جاننے والوں کو بھیجیں۔ انہوں نے اپنی دوست جوہانا فانٹوا کو خط میں یہ تصویر بھیجتے ہوئے لکھا ”یہ پھیلی ہوئی زبان میرے سیاسی خیالات کی عکاسی کرتی ہے‘‘

2009ع میں اس تصویر کی ایک اصل دستخط شدہ کاپی نیلامی میں تقریبا 74 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی۔ یہ البرٹ آئن سٹائن کی اب تک کی مہنگی ترین تصویر ہے

آئن سٹائن ایک یہودی تھے اور نازی جرمنی کے مبینہ مظالم سے فرار ہو کر امریکہ پہنچے تھے۔ امریکی سینیٹر جوزف میکارتھی کی جانب سے انہیں ‘غیر امریکی‘ کہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا کیوں کہ وہ کمیونسٹوں اور سرد جنگ کے بارے میں خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے

آئن سٹائن کے پاس انسانی حماقتوں کے بارے میں کہنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ ان کا جرمن زبان کا ایک محاورہ ہے ”دو چیزیں لامحدود ہیں، کائنات اور انسانی حماقت۔ لیکن مجھے ابھی تک کائنات کے بارے میں مکمل یقین نہیں ہے‘‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close