پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن اور مقدمہ در مقدمہ کے سلسلے کے پیچھے کون ہے؟

ویب ڈیسک

اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی کی سرکردہ لیڈرشپ جیلوں میں ہے۔ ان قیدیوں میں خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ پارٹی کے کئی ایسے رہنما اور کارکن بھی ہیں، جنہیں ابھی بمشکل عدالت سے ضمانت ملتی ہے تو انہیں وہیں سے کسی اور ’مقدمے‘ میں دھر لیا جاتا ہے

برطانیہ سے قانون کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے والی بیرسٹرخدیجہ صدیقی پی ٹی آئی کی کئی خواتین کی وکیل ہیں۔ وہ جیل میں قید پی ٹی آئی کی خواتین سے ملتی رہتی ہیں اور ان کے حالات سے آگاہی رکھتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ جیل میں پی ٹی آئی کی خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود وہ احتجاج کو اپنا آئینی اور جمہوری حق سمجھتی ہیں

اس خاتون وکیل نے دعویٰ کیا کہ یہ خواتین رہائی کے بدلے ریاستی اداروں کا یہ مطالبہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ تحریری طور پر اس بات کا اعتراف کریں کہ نو مئی کا احتجاج کرنے کے لیے انہیں عمران خان یا ڈاکٹر یاسمین راشد نے اکسایا تھا

بیرسٹرخدیجہ صدیقی نے بتایا کہ ان خواتین میں سے کئی خواتین کو یہ شکایت بھی رہی ہے کہ انہیں (جو کہ محض سیاسی قیدی ہیں) رات میں سنگین جرائم میں ملوث خواتین کے ساتھ بند کر دیا جاتا ہے، جس سے کئی مرتبہ انہیں رات کو نیند نہیں آتی

ان کے مطابق پی ٹی آئی کی اسیر خوتین کی اکثریت کو بیماریوں کا سامنا ہے، کئی خواتین نفسیاتی طور پر بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ معمر خاتون رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور ہیں اور انہیں سانس اور بلڈ پریشر کی تکالیف ہیں

بیرسٹرخدیجہ صدیقی کہتی ہیں کہ جیل کی روایات کے مطابق ہر قیدی کے گھر والے سوموار کے روز اسے بارہ بجے سے دو بجے تک مل سکتے ہیں۔ لیکن ملاقات سے پہلے مرحلوں میں گھر والوں کو اس قدر انتظار کروایا جاتا ہے کہ ملاقات کے لیے دس پندرہ منٹ ہی بچتے ہیں۔

راولپنڈی کے راجہ عاشق کوٹ لکھپت میں قید پی ٹی آئی کی رہنما اور اپنی بیٹی طیبہ راجہ سے ملنے کے لیے لاہور آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا، ”ایک ہفتے میرا بیٹا طیب آتا ہے اور ایک ہفتے میں آتا ہوں۔ اس ملاقات میں ہمارے دو دن صرف ہو جاتے ہیں۔ جیل میں ہر مرحلے پر رشوت دینی پڑتی ہے، رشوت نہ دیں تو وہ سامان نکال لیتے ہیں۔ بڑی مشکل سے بیس منٹ کی ملاقات ہوتی ہے پھر جیل کا عملہ آ کر دباؤ ڈالتا ہے کہ ملاقات ختم کرو۔ میں اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کو ساتھ نہیں لاتا کہ کہیں وہ ذہنی طور پر ڈسٹرب نہ ہو جائیں۔‘‘

راجہ عاشق بتاتے ہیں کہ پچھلی ملاقات پر ڈاکٹر یاسمین راشد نے مجھے بتایا تھا ’تسیں فکر نہ کرو ۔ طیبہ میری بیٹی اے میں اس دا خیال رکھدی آں‘‘

پی ٹی آئی کی گرفتار خواتین میں سب سے عمر رسیدہ پارٹی کی رہنما ڈاکٹر یاسمین راشد کی عمر تہتر سال ہے۔ ان کے ایک عزیز نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ”اگرچہ وہ بیمار ہیں اور ان کی عمر بھی زیادہ ہے لیکن وہ اسٹوڈنٹ لیڈر رہی ہیں۔ مشکلات سے گھبراتی نہیں بلکہ دوسروں کو حوصلہ دیتی ہیں۔ لیکن ہمیں یہ بھی دکھ ہے کہ ان کے جیل جانے سے ان کے فلاحی منصوبے بھی بری طرح سے متاثر ہو رہے ہیں۔‘‘

بیرسٹرخدیجہ صدیقی بتاتی ہیں ”پاکستان میں نظام انصاف کی خرابیوں کی وجہ سے بھی ان خواتین کی ضمانت نہیں ہو پا رہی۔ پولیس، تفتیشی عملے اور پراسیکوٹرز کے تاخیری حربے بھی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستانی قانون کہتا ہے کہ خواتین کی ضمانت کے کیسز فوری طور پر سنے جائیں اور انہیں ضمانت دینے میں نرمی کا مظاہرہ کیا جائے۔ یہاں قتل کے مقدمات میں بھی خواتین کو ضمانت مل جاتی ہے لیکن ہم ساڑھے چار ماہ سے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہو رہی۔‘‘

بیرسٹرخدیجہ صدیقی کے مطابق ”ماتحت عدالت سے ضمانت کی درخواست مسترد ہوئی تو لاہور ہائی کورٹ میں رجوع کیا گیا وہاں ڈھائی مہینوں بعد سرکار نے بتایا کہ ان خواتین کے مقدمات میں نئی دفعات لگائی گئی ہیں، ‘س پر چھ ستمبر کو ہمیں دوبارہ انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کرنے کا کہا گیا۔ وہاں گئے تو عدالت میں جج صاحب نہیں تھے۔ دو دن پہلے ان کا تقرر ہوا۔ اس سے پہلے ڈھائی ماہ لاہور ہائی کورٹ میں ضمات کی درخواست زیر التوا رہی۔ کبھی پراسیکوٹر تاریخ لے لیتے اور کبھی تفتیشی عملہ رخنہ اندازی کرتا رہا۔ اب پھر شروع سے کارروائی شروع ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو اتنے مہینوں بعد یہ کیوں یاد آیا کہ یہ خواتین ان جرائم میں بھی ملوث تھیں۔‘‘

بیرسٹرخدیجہ صدیقی کہتی ہیں کہ بنیادی طور پر تو زیادہ تر خواتین پر نو مئی کے واقعات پر ملوث ہونے کا الزام ہے کسی خاتون پر پتھر پھینکنے اور کسی پر ڈنڈے مارنے کا الزام ہے۔ ان واقعات میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد کچھ خواتین پر قتل کی دفعات بھی لگائی گئی ہیں۔ کچھ خواتین پر اقدام قتل اور دہشت گردی کے مقدمے قائم کیے گئے ہیں

واضح رہے کہ 9 مئی کے احتجاج کے دوران پی ٹی آئی نے بھی ریاستی اداروں کے ہاتھوں اپنے دسیوں کارکنوں کے قتل کے دعویٰ کیا ہے

پاکستان میں انسانی حقوق کا کمیشن کہہ چکا ہے کہ پی ٹی آئی سے وابستہ گرفتارشدہ عورتوں کی حراست کے معاملے میں شفافیت کا فقدان باعثِ تشویش ہے

پاکستان میں قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی بالادستی کی صورتحال اور اس سے متعلق دعوے ہمیشہ سے زیر بحث رہے ہیں۔ موجودہ حالات میں بھی نو مئی کے واقعات کے بعد جس طرح پے در پے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی رہنماؤں پر مقدمات قائم کیے گئے اور انھیں گرفتار کیا گیا اس نے ملک کے احتساب کے نظام، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار پر بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں

ماہرین کے مطابق ’جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘ کا اصول خاص طور پر سیاست میں ایک عرصے سے چلا آ رہا ہے اور سیاست دانوں پر اچھے اور برے دن کا ’سائیکل‘ ایک مستقل فیچر کی شکل اختیار کر گیا ہے

کل کا وزیر آج کا قیدی اور آج جیل میں تو کل ایوان اقتدار میں۔ مگر اس سب کے پیچھے کون ہے اور یہ گھن چکر کہاں جا کر رکے گا اور اس کے ملک پر کیا اثرات مرتب ہوں سکتے ہیں

اس تناظر میں سابق سیکریٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل خالد نعیم لودھی کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو کہیں بہتر ہے کہ ’کچھ لوگ‘ کھل کر کسی نئے نظام کا اعلان کر دیں تا کہ سب کو پتہ چل سکے کہ اس وقت ملک میں کس کا اور کون سا نظام رائج ہے

یہ سب کون کروا رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں جنرل خالد نعیم نے کہا ”اس وقت جو لوگ ان معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہ بھی ہمارے ہی جتنے پڑھے لکھے ہیں، انھوں نے بھی ہمارے ہی جتنے کورس کیے ہوئے ہیں“

جنرل خالد نے کہا ”اپنے اپنے ادوار میں ہم نے بھی کوئی اتنے اچھے کام نہیں کیے ہیں“ تاہم ان کے مطابق ”ہم نے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں فوج کو کافی حد تک ان کاموں (سیاسی معاملات) سے نکال دیا تھا“

ان کارروائیوں کے اثرات سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ”ان کے پاس انٹیلیجنس ہے شاید انہیں زیادہ درست معلومات حاصل ہوں اور ممکن ہے کہ ہمیں بتانے والے سب جھوٹ بتا رہے ہوں، مگر جو کچھ سامنے ہے وہ سنگین حالات کا پتا دے رہا ہے“

تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات سے متعلق جنرل خالد نے کہا کہ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح سے کسی سیاسی جماعت کو ختم نہیں کیا جا سکتا ہے

کسی ادارے یا شخصیت کا نام لیے بغیر سابق سیکریٹری دفاع نے کہا ”جب کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو جائے تو اس کو لگتا ہے کہ یہ اس کی طاقت ہے مگر جب وہ گھوڑے سے اترتا ہے تو پھر معلوم ہوتا ہے کہ یہ گھوڑے کی طاقت تھی۔ جو لوگ حال ہی میں گھوڑوں سے اترے ہیں ان کا حال دیکھیں کہ اب وہ کہاں ہیں اور کدھر گئی ان کی وہ طاقت؟“

جنرل خالد نعیم لودھی کی رائے میں اسٹیبلشمنٹ صرف ملٹری کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں بیوروکریسی، پولیس اور دیگر کردار بھی شامل ہیں جو اسے ملٹری اسیبلشمنٹ سے کہیں بڑی اسٹیبلشمنٹ بنا دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پنجاب میں اس وقت نگراں حکومت کا بھی خاصا ’ہولڈ‘ ہے، جو باقاعدہ ایک حکومت کے طور پر سب منصوبوں کو دیکھ رہی ہے

جنرل خالد نعیم کی رائے میں جب پنجاب اور خیبر پختونخوا میں 90 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد نہیں ممکن بنایا گیا، تب سے ملک کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس وقت نظام گھسٹ گھسٹ کر آگے بڑھ رہا ہے

خالد نعیم لودھی نے کہا کہ ان کارروائیوں کے اگر نفسیاتی پہلو پر بات کی جائے تو جو لوگ اس وقت اس وقت حد سے زیادہ ناجائز کر رہے ہیں وہ ایک جماعت اور اس کے رہنما کو مزید شہرت کی بلندیوں پر پہنچا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس سارے کھیل میں قانون کا مذاق بن رہا ہے اور ملک کا نقصان ہو رہا ہے

ان کے خیال میں ”جس وقت تک عوام کی رائے کو مقدم نہیں مانا جائے گا اس وقت تک ملک کی میعشیت کو بہتر نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سیاسی استحکام کی منزل تک پہنچا جا سکتا ہے“

ان کا کہنا ہے کہ اگر عوام کی مرضی کے بغیر جو مرضی کر لیں اور کوئی بھی نظام لے آئیں، ملک کو دلدل سے نہیں نکالا جا سکتا ہے

سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ عدلیہ کی تاریخ کا سیاہ ترین دور چل رہا ہے۔ تاہم ان کے مطابق بابر ستار جیسے ججز بھی ہیں، جو امید کی کرن بنے ہوئے ہیں

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل فیصل صدیقی کی رائے مختلف ہے۔

ان کے مطابق یہ کہنا درست نہیں ہے کہ عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی ہے یا عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوا ہے

فیصل صدیقی کے مطابق اگر عدلیہ نے 12 مرتبہ پرویز الٰہی کی رہائی کے احکامات دیے ہیں تو 12 مرتبہ ہی پرویز الٰہی رہا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اب عدلیہ جب ضمانت دیتی ہے تو پھر وہ یہ نہیں کہتی کہ ملزم کو کسی اور مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے

تاہم ان کے مطابق جب عدلیہ کو یہ لگتا ہے کہ ریاست بدنیت ہے اور وہ کسی کو ہر صورت جیل میں رکھنا چاہتی ہے تو پھر ایسے میں عدلیہ ایسے آرڈر دیتی ہے کہ ملزم کو عدالت کی اجازت کے بغیر کسی بھی اور مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے

فیصل صدیقی کے مطابق جب لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الٰہی کو رہا کرنے کا حکم دیا اور انھیں کسی اور مقدمے نہ گرفتار کرنے کی بھی ہدایت کی تو پھر ایسے میں اسلام آباد پولیس کے انسپکر جنرل نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی میں انہیں لاہور سے جا کر گرفتار کر لیا

ایڈووکیٹ فیصل صدیقی کے مطابق عدالت نے آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کے خلاف ناقابل ضمانت گرفتاری کے احکامات جاری کیے اور توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی تو اب یہ مرحلہ ہے جہاں سے عدلیہ کا امتحان شروع ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں فیصل صدیقی نے بتایا کہ عدلیہ ان لوگوں کے خلاف ہی کارروائی کرتی ہے جو اس کے آرڈرز کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ تو بات ہر کوئی جانتا ہے کہ آئی جی کو آرڈر دینے والے انٹیلیجنس ایجنسیاں ہوتی ہیں مگر عدلیہ نے یہ دیکھنا ہے کہ ان کے احکامات کی خلاف ورزی کس نے کی ہے

فیصل صدیقی کے مطابق اب عدلیہ نے اگر کارروائی منطقی انجام تک نہ پہنچائی تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ عدلیہ کی رٹ اور ساکھ متاثر ہوئی ہے

پاکستان بار کونسل کے وکیل رہنما عابد ساقی کے خیال میں اس وقت سیاسی صورتحال سب کے سامنے ہے، قانون کی کوئی عزت نہیں رہ گئی ہے اور عدالتیں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں

ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی مرضی کے مطابق لوگوں کو اٹھا لیتے ہیں اور کھلم کھلا قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں

عابد ساقی کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی گرفتاری کے بعد چوبیس گھنٹوں تک عدالت کے سامنے پیش کرنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ آئین میں درج ہے کہ عدالتیں شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی ضامن ہیں

ان کے مطابق ”اب صورتحال ایسی ہو گئی ہے کہ ملک میں آئین موجود بھی ہے اور نہیں بھی ہے، عدالتیں حقوق کی ضامن ہیں بھی اور نہیں بھی“

وکیل رہنما کے مطابق اب کسی عدالت سے ریلیف کا پروانہ جاری ہوتا ہے تو کہیں سے گرفتاری کے احکامات موصول ہو جاتے ہیں، کہیں عدالتی احکامات نے ماننے پر توہین عدالت کی کارروائی چل رہی ہے تو کہیں مزید ایسی خلاف ورزیوں کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے ملزمان کو ہی جان بخشی کے لیے پریس کانفرنس کرنے کے مشورے دیے جا رہے ہوتے ہیں

ان کے مطابق انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر پامالی کا سلسلہ جاری ہے

تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریوں پر اپنے ردعمل میں تحریک انصاف کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل عمر ایوب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہ ایک ایس او پی ہے، جس کے تحت تحریک انصاف کے رہنماؤں کو اغوا کیا جاتا ہے اور پھر انھیں کئی دنوں تک غیرقانونی حراست میں رکھا جاتا ہے۔‘

ان کے مطابق ان رہنماؤں کو صرف اس صورت میں رہائی ملتی ہے جب وہ طویل ذہنی اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنے کے بعد تحریک انصاف سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان میں انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ایچ آر سی پی کی چیئرپرسن حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کا ایم پی او (نقص امن) کے تحت کی جانے والی گرفتاریوں سے متعلق بہت واضح موقف ہے کہ کسی کو بھی اس کے تحت گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی کے خلاف بھی مقدمات ہیں تو پھر ان کا ٹرائل عدالتوں میں ہونا چاہیے

حنا جیلانی کے مطابق ایچ آر سی پی ’پری-ٹرائل ڈیٹنشن‘ کے بھی خلاف ہے، یعنی کسی پر مقدمہ ثابت ہونے سے قبل اسے طویل عرصے کے لیے قید میں نہیں رکھا جا سکتا

ان کا کہنا ہے کہ ایچ آر سی پی یہ سمجھتی ہے کہ سب کو فیئر ٹرائل اور انصاف کے حصول تک شفاف رسائی ملنی چاہیے

ان کے مطابق ان کی تنظیم کسی ایک شخصیت یا پارٹی سے متعلق تو تبصرہ نہیں کرتی مگر یہ ضرور ہے کہ چاہے نو مئی جیسے واقعات ہوں یا کوئی اور معاملہ بہرحال حکومت اورعدالتوں کو اپنے دائرہ اختیار کو مدنظر رکھ کر کسی کے خلاف کارروائی آگے بڑھانی چاہیے

ان کے مطابق ٹرائل سے پہلے ہی گرفتاری انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ حنا جیلانی کے مطابق ’آربیٹریری ڈیٹنشن‘ اور جبری گمشدگیوں جیسی پریکٹسز سے ’رُول آف لا‘ متاثر ہوتا ہے

ایچ آرسی پی کی چیئرپرسن کے مطابق جو سیاسی نوعیت کے کریک ڈاؤن ہیں یہ جمہوریت پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ملک میں مزید انتشار بڑھتا ہے

حنا جیلانی کے مطابق یہ سلسلہ پرانا ہے صرف سیاسی کردار بدل جاتے ہیں۔ ان کے مطابق آج کا متاثرہ سیاستدان کل کا بینفشری ہو گا مگر رول آف لا کے اثرات عام عوام پر صحیح معنوں میں مرتب ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ سلسلہ دیرپا نہیں ہے اور اب لاٹھی کے استعمال کے طریقے بھی بدل چکے ہیں۔ ان کے مطابق اب لاہور قلعے کا دروازہ کھلا نہیں ہے، جہاں برف کی سِلوں پر سیاسی کارکنان اور رہنماؤں کو لٹا کر کوڑے مارے جاتے تھے

ان کے مطابق جدوجہد سے فرق پڑتا ہے اور کہیں نہ کہیں جا کر رول آف لا کا دباؤ بڑھتا ہے۔ ان کے مطابق رول آف لا یہ بھی ہے کہ جب کسی نے جرم کیا ہو تو پھر اسے اس کے کیے کی سزا بھی ملنی چاہیے۔ حنا جیلانی کے مطابق نو مئی کو جلاؤ گھیراؤ ہوا اور اس بحث سے ہٹ کر کہ وہ فوجی تنصیبات تھیں جہاں آگ لگی، مگر وہ غیرقانونی عمل ہی تھا

ان کے مطابق اب رول آف لا کے تحت ان کارروائیوں میں ملوث افراد کو سزا دی جانی عین قانون کی حکمرانی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ نو مئی کے بعد چار ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ وہ خود متعدد مقدمات میں عدالتوں کے سامنے پیش ہوتی ہیں اور ابھی تک نو مئی کے واقعات میں گرفتار کیے جانے والے ملزمان کا ٹرائل تک شروع نہیں ہو سکا

حنا جیلانی کا کہنا ہے کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ رول آف لا کا معاملہ نہیں ہے بلکہ غصہ نکالا جا رہا ہے۔ یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ نہیں ہے، اب ایسی ناانصافیوں، قانون کو عزت نہ دینے اور عدلیہ کی بے توقیری کرنے جیسے اقدامات کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close