میکسیکو کے 43 لاپتہ طلبا: واقعے کے اہم کرداروں کا کیا ہوا؟

ویب ڈیسک

میکسیکو کے ایک چھوٹے اور پُرسکون قصبے ’ککولا‘ سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر کوڑے کرکٹ کے ایک ڈھیر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وہ مقام ہے، جس کے نیچے ان 43 طلبا کی آخری آرام گاہ ہے، جو 26 ستمبر 2014ع کو ایک مظاہرے میں حصہ لینے کے بعد واپس اپنے گھروں کو جا رہے تھے لیکن وہاں کبھی نہیں پہنچ پائے

استعمال شدہ ناکارہ پلاسٹک اور روز مرہ کے کوڑا کرکٹ اور ملبے کے درمیان یہی وہ جگہ ہے، جس کے بارے میں میکسیکو کے سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ ’گوریرس یونیڈس‘ یا ’متحدہ جنگجو‘ نامی تنظیم کے لوگوں نے 43 طلبا کو یہاں پر آگ لگانے کے بعد، ان کی باقیات کو دفن کر دیا تھا

ان تمام طلبا کا تعلق ایک دیہی ادارے ’آئیوتزی ناپا رورل ٹیچرز کالج‘ سے تھا۔ درحقیقت اِن طلبا کو پولیس نے قریبی قصبے سے گرفتار کر کے ’متحدہ جنگجوؤں‘ کے غنڈوں کے حوالے کر دیا تھا

تاہم سنہ 2016ع تک غیر جانبدار اور آزاد ذرائع نے حکومت کی اس کہانی کو غلط ثابت کر دیا تھا کہ طلبا کو ہلاک کرنے کے بعد کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا گیا تھا۔ آزاد ذرائع کے مطابق یہ میکسیکو کی تاریخ کی سب سے بڑی ’جھوٹی کہانی‘ تھی۔۔ اُس ملک کی کہانی، جہاں بدعنوانی حکومت کے تمام اداروں میں سرایت کر چکی تھی اور مار دھاڑ عام ہو چکی تھی

آٹھ برس بعد اب تک صرف تین طلبا کی باقیات کی شناخت ممکن ہو سکی ہے۔ گذشتہ برسوں کے شدید عوامی دباؤ کے بعد ملک کے موجودہ صدر آنڈرئس مانئول لوپیز اوبراڈور نے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے، جس نے طلبا کی ہلاکت کو ’ریاست کا جرم‘ قرار دیتے ہوئے اس کی تفتیش شروع کروا دی ہے

کمیشن کے مطابق اس واقعہ میں غنڈوں کے علاوہ فوجی، مقامی سرکاری اہلکار اور وفاقی حکومت کے افسران بھی شامل تھے اور اس کے تانے بانے حکومت کی اعلیٰ ترین شخصیات سے ملتے ہیں

گذشتہ دو حکومتوں کے ادوار میں لوگ مسلسل احتجاج کرتے رہے ہیں کہ طلبا کی ہلاکت کے واقعہ میں جو بھی سچ ہے، اسے لوگوں کے سامنے لایا جائے

طلبا کے اغوا اور اُن کے غائب کیے جانے کے آٹھ برس بعد واقعے میں ملوث کچھ مرکزی کرداروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، کچھ خود روپوس ہو چکے ہیں لیکن کچھ لوگ اب بھی اپنے سوالوں کے جواب تلاش کر رہے ہیں

رواں برس 19 اگست کو میکسیکو کے سب سے بڑے سرکاری وکیل جیزز مرلو کرام کو اس واقعے کے پس منظر میں حراست میں لیا گیا

جب وہ صدر اریق پینا نیاٹو کی حکومت میں اٹارنی جنرل تھے تو انہوں نے ہی طلبا کو غائب کیے جانے کے واقعے کی باقاعدہ تفتیش شروع کی تھی

اب ان پر طلبا کو زبردستی لاپتہ کرنے، اُن پر تشدد کروانے اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کے الزامات میں فرد جرم عائد کر دی گئی ہے

صدر پینا نیاٹو کے بعد میکسیکو کے صدر بننے والے، مسٹر لوپیز اوبراڈور نے کہا ہے ”طلبا کی گمشدگی کے بعد ان کی گرفتاری کی جھوٹی کارروائی اس بات کا ’ثبوت‘ ہے کہ جیزز مرلو نے معاملے کی پردہ پوشی کی اور ان کا مقصد وفاقی حکومت کو کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے بچانا تھا“

24 اگست کو عدالت کے سامنے اُن کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ تفتیش میں کچھ غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن ابھی تک کوئی شخص کوئی ایسی توجیہہ پیش نہیں کر سکا ہے، جس سے طلبا کے زبردستی اغوا کے علاوہ کسی دوسری بات پر یقین کیا جا سکے

اب جیزز مرلو کرام پر باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ اگرچہ عدالتی کارروائی کی کوئی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے، تاہم جج نے حکم دیا ہے کہ کارروائی شروع ہونے تک سابق اٹارنی جنرل پولیس کسٹڈی میں ہی رہیں گے

موجودہ حکومت نے میکسیکو کی تحقیقاتی ایجنسی کے اس وقت کے سربراہ ٹامس زیرون پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سرکاری موقف کو تقویت دینے کی غرض سے طلبا کی گمشدگی کے واقعے کے گواہوں پر تشدد کیا، جن میں گوریلا تنظیم کا ایک رکن بھی شامل تھا

ٹامس زیرون پر مبینہ طور پر شواہد میں گڑبڑ کرنے کا الزام بھی ہے۔ وہ ان الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے

سنہ 2019ع میں خبر ملی تھی کہ ٹامس زیرون کینیڈا فرار ہو گئے ہیں، لیکن جولائی 2021ع میں اسرائیلی اور میکسیکو کے حکام نے کہا تھا کہ وہ فرار ہو کر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی ہے

اس کے بعد میکسیکو نے اسرائیل سے ٹامس زیرون کی حوالگی کا مطالبہ کیا تھا اور میکسیکو کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ان کی میکسیکو واپسی موجودہ حکومت کی بڑی ترجیحات میں شامل ہے۔ ابھی تک اسرائیلی حکام نے میکسیکو کی حوالگی کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے

موجودہ حکومت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سرکاری حکام نے ان کی ممکنہ واپسی اور الزامات کا سامنا کرنے کے حوالے سے فروری میں اسرائیل میں مسٹر زیرون سے ملاقات بھی کی تھی، تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ ابھی تک اسرائیل میں ہیں

ہوزے لوئس ابارکا، اگویالا کے سابق میئر
سنہ 2014ع میں اگویالا کے میئر بننے والے ہوزے لوئس ابارکا طلبا کے اغوا کے چند ہی دن بعد اپنی بیوی کے ہمراہ قصبے سے فرار ہو گئے تھے۔ ایک ماہ بعد دونوں کو میکسیکو سٹی سے گرفتار کر لیا گیا تھا اور اب یہ دونوں منی لانڈرنگ اور بڑے جرائم پیشہ گروہوں سے تعلق کے جرم میں قید کاٹ رہے ہیں

ان الزامات کے باوجود کہ وہ طلبا کی گمشدگی کے معاملے میں ملوث تھے، ان کے خاندان کے کچھ افراد ان کا دفاع کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گذشتہ ماہ مقامی لوگوں نے ان کی رہائی کے لیے مظاہرہ بھی کیا تھا

14 ستمبر کو ایک جج نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر انہیں طلبا کے اغوا کے الزام سے بری کر دیا، تاہم انہیں منی لانڈرنگ کے علاوہ دو مقامی سرگرم کارکنوں کے قتل کے الزام میں ایک دوسرے مقدمے کا سامنا ہے

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وہ عدالتی فیصلے کو چیلنج کریں گے اور انھوں نے ٹامس زیرون کے جلد رہا ہونے کے امکانات کو رد کیا ہے

واضح رہے کہ ’گوریرس یونیڈس‘ یا ’متحدہ جنگجو‘ نامی گروہ پر الزام ہے کہ اغوا کے بعد طلبا کو اس کے غنڈوں نے ہلاک کیا تھا، لیکن متحدہ جنگجو اب بھی ایک متحرک گروہ ہے

سرکاری حکام کے مطابق یہ گروہ میکسیکو کے تین صوبوں میں اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وراداتوں میں ملوث ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گینگ ہیروئن بناتا ہے اور اسے امریکہ سمگل کرتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس گروہ کے رابطے میکسیکو میں منشیات کا دھندہ کرنے والے سب سے طاقتور گروہ، جالیسکو نیو جنریشن سے بھی ہیں

اس سے قبل اگست میں میکسیکو کے حکام نے اعلان کیا تھا کہ اس گروپ کے 14 افراد 83 لوگوں کے اس بڑے گروپ میں شامل تھے، جو 43 طلبا کی گمشدگی کے سلسلے میں گرفتاری کے لیے مطلوب تھا

اپنے خاندانوں کے تین افراد سمیت، اس گینگ کے مزید چودہ ارکان، جو تمام طلبا کی ہلاکت کے معاملے سے منسلک تھے، سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں جبکہ دوسرے طبی موت مر گئے

میکسیکو کے حکام پر بھی بارہا الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اعترافی بیانات حاصل کرنے کے لیے گینگ کے مشتبہ ارکان پر تشدد کرتے رہے تھے

اس گروہ کے ایک اور رکن، سالگاڈو گُزمین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے طلبا کے اغوا میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، اور اسے پولیس نے ستمبر 2021ع میں گولی مار دی تھی۔ لیکن ایک تازہ ترین سرکاری رپورٹ کے مطابق اس شخص کی موت کے حوالے سے حکومتی کہانی میں کئی جھول ہیں جن کی بنیاد پر حکام نے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ جب پولیس نے اسے گولی ماری تو وہ پہلے ہی زخمی تھا

اگویالا میں طلبا کی گمشدگی کی پراسرار کہانی بڑی حد تک میکسیکو کی فوج کے کردار کے ارد گرد گھومتی ہے

سرکاری حکام کے مطابق ایک فوجی مخبر طلبا کے ساتھ سفر کر رہا تھا اور طلبا پر حملے سے پہلے تک جو کچھ ہو رہا تھا، فوج کو اس کی پوری خبر تھی۔ حکام یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ فوج نے اپنے اس مخبر کو تلاش کرنے کی کوئی کوشش نہیں اور وہ ابھی تک لاپتہ ہے

اس کے علاوہ فوج پر یہ بھی الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ اس نے حکام سے وہ معلومات مخفی رکھیں جو طلبا کو تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی تھیں۔ واقعے کے بعد ڈرون سے بنائی جانے والی ویڈیو میں بحریہ کے کچھ اہلکاروں کو بظاہر ککولا کے کیمپ میں موجود شواہد میں گڑبڑ کرتے بھی دیکھا جا سکتا ہے

15 ستمبر کو حکام نے بتایا تھا کہ انہوں نے اس معاملے کے حوالے سے فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل، ہوزے روڈریگز پیرز کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعہ کے وقت وہ کرنل تھے اور وہ اگویالا میں ہی تعینات تھے۔ ان کے علاوہ حکام نے دو مزید فوجی افسران کی گرفتاری کا دعویٰ بھی کیا ہے

میکسیکو کی انسانی حقوق کی تنظیم کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ غنڈوں کے گروہ نے اغوا کیے جانے والے طلبا میں سے چھ کو ایک گودام میں رکھا تھا اور پھر انھیں کرنل ہوزے کے حوالے کر دیا تھا جنھوں نے انھیں ہلاک کر کے لاشیں پھینک دینے کا حکم دیا تھا

حال ہی میں کل بیس فوجی اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، جن میں ان دو یونٹوں کے سربراہ بھی شامل ہیں، جو واقعہ کے وقت علاقے میں تعینات تھیں

اگرچہ میکسیکو کی حکومت کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث فوجی اہلکاروں کو انسانی حقوق کی پامالی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، لیکن اس معاملے کی ابتدائی تفتیش میں جو چیزیں سامنے آئی تھیں، ان میں سے اکثریت پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close