مسنگ پرسنز کے بارے میں اپنے ماضی کے موقف پر معافی۔۔ بازیابی کے بعد عمران ریاض کا پہلا انٹرویو

ویب ڈیسک

پاکستانی اینکر پرسن اور یوٹیوبر عمران ریاض خان نے اپنی گمشدگی اور بازیابی کے بعد پہلی بار اپنے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے ”میں جو بات کر رہا تھا وہ اختلاف رائے میں تو آتی تھیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مجھے ’ٹریٹ‘ کیا جاتا“

اپنے بچپن کے دوست اور وکیل میاں علی اشفاق کے ویڈیو پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران عمران ریاض خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں گمشدگیوں کو ریاستی مفاد میں قرار دینے کی رائے پر انہیں افسوس ہے

واضح رہے کہ ماضی میں عمران ریاض خان ملک میں ریاستی اداروں پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے تھے، لیکن عمران ریاض کے بقول، وہ پہلے اس معاملے کی شدت کو اس قدر محسوس نہیں کرتے تھے جتنا اب کرتے ہیں

بازیابی کے بعد پہلی بار ایک پوڈکاسٹ میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’مجھے آج افسوس ہے کہ میں نے کبھی زندگی میں یہ سوچا بھی کہ اگر کوئی غائب ہوا تو وہ کبھی ریاست کے مفاد میں بھی ہو سکتا ہے۔ نہیں، میں ان سارے لوگوں سے معافی مانگتا ہوں، جن کا دل دُکھا۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے حامی سمجھے جانے والے عمران ریاض خان نے واضح کیا کہ کسی کو غائب کرنے کا کبھی کوئی جواز نہیں ہوتا۔ اگر کوئی آدمی کتنا بھی بڑا مجرم ہے، آپ اسے قانون کے سامنے لے کر آئیں۔ میں اس کی تکلیف سمجھتا ہوں

انھوں نے مزید کہا کہ ’قانون بننا چاہیے اور یہ لوگ گھروں کو آنے چاہییں لیکن میں نے کبھی اس معاملے کو اس شدت سے محسوس نہیں کیا جو اب کرتا ہوں۔ مجھے اس کا افسوس ہے، میری زندگی رہی اور میں بولتا رہا تو کوشش کروں گا یہ قرضہ اتارنے کی۔‘

لیکن ان کے مطابق غیر قانونی ہتھکنڈوں اور تشدد کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا

سوا گھنٹے کی پوڈکاسٹ کے دوران یوٹیوبر عمران ریاض خان نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کون لے گیا تھا، کہاں رکھا گیا یا پھر ان کی بازیابی کن شرائط کی بنیاد پر ہوئی

عمران ریاض خان نے پوڈکاسٹ کے آغاز میں کہا ’میں کوئی غدار تو نہیں تھا میں نے ملک کے راز تو نہیں چُرائے ہوئے۔ میں دشمن ملک کے ساتھ تو نہیں ملا ہوا۔‘

انہوں کے کہ ’جب میں 142 دن گزار رہا تھا تو آخری دن تک مجھے یقین تھا کہ لوگ میرے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے۔ پکا۔۔ اور میں ایک دعا کیا کرتا کہ یا اللہ جو لوگ میرے لیے دعائیں کر رہے ہیں ان کی دعائیں قبول کر۔‘

عمران ریاض نے بتایا کہ ’مجھے تو کبھی لگتا تھا کہ کام مک گیا ہے اور اب اس سے زیادہ کیا آگے چلے گا۔ آپ کے سامنے ہی تھا میں۔ زندہ لاش کی طرح تھا جب آپ کو پہلے دن میں ملا ہوں۔ اس سے بھی گئی گزری حالت میری رہی ہے۔ مجھے بعض اوقات لگا کہ یہیں تک تھی کہانی اس کے آگے کوئی اور لکھے گا لیکن رب جانے اس کا کام جانے۔‘

یوٹیوبر عمران ریاض کا کہنا تھا کہ ’دیکھیں یہ کو 24 گھنٹے ہوتے ہیں ناں وہ بہت طویل ہوتے ہیں، مجھے پہلے پتہ ہی نہیں تھا۔‘

اپنے ساتھ سلوک کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثال قائم ہوئی ہے اور اب دیگر سیاسی جماعتوں اور صحافیوں کو ہوشیار ہو جانا چاہیے کیوں کہ اب اگر ایسا ہی کچھ ہوا تو کوئی اس بارے میں زیادہ فکر مند بھی نہیں ہوگا

وہ یاد کرتے ہیں کہ بازیابی کے بعد ’کوئی مجھے گلے لگانے آیا تو کوئی میرا تماشا دیکھنے آیا۔ کوئی مجھے حوصلہ دینے آیا، کوئی دعا دینے اور کوئی مخبری کرنے۔‘

انھوں نے بتایا کہ آج بھی انھیں بولنے میں کچھ دقت ہوتی ہے۔ ’جب میں واپس آیا تو بول نہیں پا رہا تھا۔۔۔ ابھی بھی پرابلم ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔‘

عمران ریاض خان نے بتایا کہ وہ پچھلے چند دن سے بولنے میں بہتری محسوس کر رہے ہیں اور اسی لیے وہ پوڈکاسٹ میں شریک ہوئے۔ ’میں بول رہا ہوں اور بہتر بولوں گا۔‘

اس سب کے باوجود عمران ریاض آج بھی پیکا قانون کی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت آن لائن مواد میں ریاستی اداروں پر تنقید کرنے پر صحافیوں کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ پیکا کا قانون صحافیوں پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔ ’جو لوگ کیچڑ اچھالتے ہیں، کیا یہ صحافت ہے؟ کیوں نہ ہوں سخت قوانین؟ ۔۔۔ میں قانون کے سخت ہونے کا حامی ہوں مگر اس کے غلط استعمال کے خلاف ہوں۔‘

تاحال اس کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ عمران ریاض خان نے اتنا عرصہ کہاں، کن حالات میں اور کس کی تحویل میں گزارا

نو مئی کو سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے ردعمل میں ملک کے مختلف شہروں میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے اور فوجی تنصیبات و عمارتوں پر حملے کیے گئے تھے

پولیس نے نقص امن کے خدشے کے تحت پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ عمران ریاض کو بھی گرفتار کیا تھا جو حکام کے مطابق سیالکوٹ ایئرپورٹ سے مبینہ طور پر بیرون ملک جانے کی کوشش کر رہے تھے

11 مئی کو رہائی ملنے کے بعد پولیس کے مطابق وہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہو گئے تھے اور کئی ماہ بعد ستمبر میں گھر واپس پہنچے

عمران ریاض کے اس انٹرویو پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آیا ہے

صحافی اقرار الحسن نے کہا کہ ’عمران ریاض خان کا انٹرویو دیکھا، اُن سے متعلق جو شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، وہ بھی نظر میں ہیں۔ بس اتنا کہوں گا کہ اِس ملک میں اپنا سچ ثابت کرنے کے لیے آپ کو ارشد شریف کی طرح مر کر دکھانا پڑتا ہے۔۔۔ اللہ عمران ریاض بھائی کا حامی و ناصر ہو۔‘

ایک صارف نے لکھا ’عمران بھائی آپ سے سيکھا کہ حق اور سچ کا ساتھ ديں۔ آپ ہماری آواز ہيں، ہم کیسے آپ کے لیے آواز نہ اٹھاتے۔‘

فوزیہ کلثوم نے کہا ’عمران ریاض نے مسنگ پرسنز کے بارے میں اپنے ماضی کے موقف پر معافی مانگ لی۔‘

جبکہ حسنین جمیل نے تبصرہ کیا کہ ’طویل عرصے بعد عمران ریاض کو سن کر بہت اچھا لگا۔ ’جس اعلیٰ ظرفی سے انھوں نے لاپتہ افراد کے حوالے سے اپنے ماضی کے موقف پر معافی مانگی اس سے میرے دل میں ان کی عزت مزید بڑھ گئی ہے۔‘

ایک اور صارف نے لکھا ’عمران ریاض کی آواز اس ریاست کا تعاقب کر رہی ہے، آج پھر سوال جنم لے رہے ہیں۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close