ترقی اور تباہی کا سفر ساتھ ساتھ (قسط1)

عاجز  جمالی

یہ سال 2013ع کی بات ہے جب ابھی نواز شریف کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی کہ لاہور کی مشہور تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹائون پرائیویٹ لمیٹڈ نے کراچی میں ایک میگا پراجیکٹ شروع کرنے کی ٹھان لی تھی۔ اس مقصد کے لئے سب سے پہلے خاموشی کے ساتھ محکمہ ریونیو سندھ کے چھوٹے افسران کی خدمات حاصل کی گئیں جن میں مختیارکار ( تحصیلدار) ٹپے دار یعنی پٹواریوں کے ذریعے سپر ہائی وے کی ارد گرد موجود زمینوں کا ریکارڈ حاصل کیا گیا۔ سپر ہائی کے قریب سروے زمینیں، لیز شدہ زمینیں، سرکاری زمینیں اور مختلف ادوار میں محکمہ ریونیو کی جانب سے الاٹ شدہ زمینیں شامل تھیں۔ یہ پورا ریکارڈ کراچی کے سب سے بڑے ضلع ملیر کا تھا.

ملیر رقبے کے اعتبار سے کراچی کا سب سے بڑا ضلع ہے، جس میں زرعی زمینیں، فصل، باغات، سبزیوں کے کھیت، زرعی فارمز، پولٹری فارمز  اور سینکڑوں برس قدیمی دیہات شامل ہیں۔ ضلع ملیر ڈھائی ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا ہے. مجموعی طور پر لگ بھگ 65 ایکڑ اراضی موجود ہے جو کہ سہراب گوٹھ سپر ہائی وے سے شروع ہوکر ضلع جامشورو تک اختتام پذیر ہوتا ہے۔ سپر ہائی وے جسے اب موٹر وے ایم نائن کہا جاتا ہے اس کو ملیر کے علاوہ جامشورو اور ٹھٹہ کے اضلاع کی سرحدیں چھوتی ہیں. اس طرح کراچی سے حیدر آباد تک سفر کرتے ہوئے موٹر وے چار اضلاع پر پھیلا ہوا ہے، لیکن زمینیں مذکورہ تین اضلاع میں موجود ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ بحریہ ٹائون کو نقشے فراہم کرنے والے ریونیو کے افسران نے ہی مشورہ دیا تھا کہ گڈاپ اور کاٹھوڑ کے علاقے شہر کے قریب ہیں. نسبتاً ڈفینس ہائوسنگ اتھارٹی کا "ڈی ایچ اے سٹی” کراچی کا بحریہ ٹائون سے بھی بڑا منصوبہ ہے جو بھی ملیر کی زمینوں پر ہی زیر تعمیر ہے۔ بحریہ ٹائون کے ذمے داروں کا خیال تھا کہ ان کا منصوبہ ڈی ایچ اے سٹی سے چھوٹا ہے اور وہ جلد مکمل کرلیں گے اس لیئے قریبی علاقوں سے زمین کی خریداری کو ترجیح دی گئی۔

ریونیو کے افسران نے کاٹھوڑ اور گڈاپ کی چار دیہوں کے ریکارڈ کی نقل کاپیاں اور تفصیلات بحریہ ٹائون کے ذمے داروں کو فراہم کیں۔ مقامی افراد نے بتایا کہ سال 2013ع  کے آخر میں ان کے پاس کچھ پٹواری آئے جنہوں نے یہ نوید سنائی کہ آپ کی زمینوں کی بڑی قیمت لگنے والی ہے۔ کاٹھوڑ کے زمیندار اور پولٹری سیکٹر سے وابستہ بیوپاری قادر بخش کلمتی نے بتایا کہ جہاں پر اس وقت بحریہ ٹائون کا گیٹ ہے، وہاں پر میرا دفتر تھا اور میری زمین تھی. اس زمانے میں روڈ کے ساتھ موجود زمین کی قیمت ایک کروڑ روپے بھی فی ایکڑ نہیں تھی لیکن مجھے ریونیو کے ایک افسر نے کہا کہ  وہ دس گُنا زیادہ رقم دلا دیں گے اور اس طرح ایک ہی دن میں سودا ہوا ایک کروڑ روپے والی زمین کے دس کروڑ روپے ملے اور روڈ سے اندر صدیق گوٹھ تھا تب گوٹھ کی زمین کی قیمت دس لاکھ روپے فی ایکڑ تھی، تب ایک کروڑ روپے میں فی ایکڑ فروخت ہوا۔ قادر بخش کے بقول دو ڈھائی سو گھروں پر مشتمل گوٹھ تھا جو مقامی لوگوں نے خرید لیا۔ زمینوں کی پوری ڈیل محکمہ ریونیو کے افسران نے ہی کرائی تھی یقینی طور پر اس کے عوض انہوں نے اپنا کمیشن بھی لیا ہوگا، لیکن ابتدا میں تمام قانونی لوازمات اختیار کیئے گئے، زمینوں کی قیمت دس گنا زیادہ دی گئی. جن سے زمینیں خریدی گئیں ان کو سہولیات بھی دی گئیں تو اس لئے لوگوں نے قانونی طریقے سے اپنی زمینیں فروخت کرلی تھیں۔

میں نے قادر بخش کلمتی سے پوچھا  مطلب یہ کہ آپ لوگوں نے خود ہی زمینیں فروخت کیں؟ قادر بخش نے بلا جھجک جواب دیا کہ اپنا پلاٹ یا پولٹری فارم دس گنا زیادہ قیمت پر فروخت کرنا کوئی گناہ نہیں تھا کیونکہ سارا کام قانونی طریقے سے ہو رہا تھا۔ قادر بخش کے بقول لگ بھگ ایک کلومیٹر کے فاصلے تک اس طرح زمینیں خریدی گئیں زمینوں کے جب کھاتے تبدیل کروائے گئے تب ہمیں پتہ چلا کہ زمین کا اصل خریدار بحریہ ٹائون تھا۔ قادر بخش کے بقول کہ جنوری 2014ع  میں بحریہ ٹائون منظر عام پر آگیا اور ٹی وی پر اشتہارات چلنے لگے کہ سپر ہائی وے پر بڑا رہائشی منصوبہ شروع ہو رہا ہے۔

یہ تو تھی قادر بخش کی بات لیکن بحریہ ٹائون کراچی میں کافی برسوں سے دیگر منصوبوں پر کام کر رہا تھا۔ کراچی کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہے کہ کلفٹن میں عبدﷲ شاہ غازی کے مزار کے ساتھ ہی بحریہ ٹائون آئیکون ٹاور بھی زیر تعمیر تھا یعنی کراچی میں سپر ہائی پر منصوبے سے قبل بھی سرکار نے بحریہ ٹائون کو زمین الاٹ کی تھی۔ آئیکون ٹاور کی تعمیر 2009ع میں شروع ہوئی تھی، تب ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی. سندھ میں متحدہ قومی موومنٹ صوبائی حکومت کی اتحادی تھی جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کا حمایت یافتہ ڈاکٹر عشرت العباد سندھ کا گورنر تھا اور ایم کیو ایم سے ہی تعلق رکھنے والے مصطفیٰ کمال کراچی کے سٹی ناظم تھے. جس جگہ پر اس وقت بحریہ ٹائون کا آئیکون ٹاور ہے، اس کے ساتھ ہی پارک اور قدیمی ساحل سمندر کی تفریح گاہ موجود تھی۔ ایک مندر ابھی تک موجود ہے، تب یہ زمین سٹی حکومت نے بحریہ ٹائون کو الاٹ کی تھی۔ گورنر عشرت العباد کو صدر مملکت آصف علی زرداری کی مکمل آشیرباد حاصل تھی اور بحریہ ٹائون کے ساتھ پوری ڈیل گورنر ہائوس میں ہوئی تھی. اس لئے اس پس منظر کو ذہن میں رکھا جائے کہ سپر ہائی وے پر منصوبہ شروع ہونے سے بہت پہلے بحریہ ٹائون کراچی میں موجود تھا۔

جب سپر ہائی وے پر منصوبہ شروع ہونے کے تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات میں دھڑا دھڑ اشتہارات چل رہے تھے، تو آئیکون ٹاور سے بحریہ ٹائون کی بکنگ شروع ہوئی اور صرف رجسٹریشن کی فیس کے طور پر پندرہ ہزار روپے میں فی گھر کا فارم فروخت ہو رہا تھا. ایک طرف ابھی زمین کی خریداری شروع ہی ہوئی تو دوسری جانب آئیکون ٹاور پر فارم کے حصول کے لئے لمبی قطاریں تھیں..

صرف پہلے ماہ کے دوران 67 ہزار افراد نے بحریہ ٹائون میں بکنگ کے فارم خریدے  اس طرح اربوں روپے تو بکنگ کی مد میں جمع ہوئے. یہ ہی پیسے زمین کے مالکان کو دیئے گئے. اس طرح عوام سے لیئے گئے پیسوں پر منصوبہ شروع کیا گیا بلکہ آگے چل کر تو یہ صورتحال ہوئی کہ بحریہ ٹائون بکنگ فارم بلیک پر فروخت ہونے لگے. فارم کی قیمت ایک لاکھ روپے تک پہنچ گئی تھی اس کی ایک وجہ کراچی سے باہر بلکہ ملک سے باہر بیٹھے ہوئی سرمایہ داروں کی دلچسپی تھی، جنہوں نے بڑے پیمانے پر گھروں اور پلاٹوں کی خریداری شروع کر رکھی تھی، حالانکہ انھی تک نہ تعمیرات شروع ہوئی تھی نہ گھر تھے، صرف میڈیا کی پبلسٹی کا کمال تھا، اس طرح کروڑوں روپے کے اشتہارات کے کاروبار نے میڈیا ہائوسز کو بحریہ ٹائون کا غیر اعلانیہ پارٹنر بنا دیا تھا۔

جب 67 ہزار لوگوں کو فارم بیچنے کے بعد 2014ع میں سپر ہائی وے پر بحریہ ٹائون شروع ہوا، تو اس وقت اس کے پاس صرف صدیق گوٹھ کی چند ایکڑ زمین ہی تھی. اس کے بعد اسی بکنگ کے پیسوں سے ارد گرد کی سروے زمینوں کی خریداری شروع کی گئی. ابتدائی پلان کے مطابق یہ منصوبہ پانچ ہزار ایکڑ اراضی پر مشتمل تھا۔ دو برس قبل روزنامہ ڈان میں بحریہ ٹائون کے متعلق شائع تحقیقی رپورٹ کے مطابق  بحریہ ٹائون کے سینئر افسر کرنل ریٹائرڈ خلیل الرحمان نے بتایا کہ بحریہ ٹائون 6631 ایکڑ پر مشتمل ہے اور یہ زمین مقامی افراد سے پاور آف اٹارنی کے ذریعے خریدی گئی ہے۔ لیکن اس وقت بحریہ ٹائون کی صورتحال بلکل مختلف ہے، اس وقت کاٹھوڑ، لنگھیجی، بولہاڑی اور کونکر کی چار دیہوں کی زمین تو بحریہ ٹائون کے کنٹرول میں ہے لیکن بحریہ ٹائون ایک جانب ضلع جامشورو کی جانب بڑھ رہا ہے تو دوسری جانب اس کا رخ حب بلوچستان کی جانب ہے۔ اس وقت بحریہ ٹائون میں پہلا فیز مکمل ہوگیا جس کے بنگلوز اور فلیٹوں میں بیس ہزار سے زائد لوگ آباد ہیں۔ لیکن بحریہ ٹائون کی چار دیواری تیزی سے طویل ہوتی جا رہی ہے ایک اندازے کے مطابق اب تک 35 کلومیٹر تک یہ چار دیواری پھیل چکی ہے جس میں کئی قدیمی دیہات بھی چار دیواری کے اندر ہیں اور مزید گوٹھوں کو چاردیواری میں شامل کرنے کے لئے قدیمی دیہات پر چڑھائی کا سلسلہ جاری ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو گوٹھ بچے ہوئے ہیں، ان کو کیسے بچایا جائے؟ چھہ ہزار ایکڑ سے پینتیس کلومیٹر تک پھیلاؤ میں کس کس نے بحریہ ٹائون کا ساتھ دیا؟ آخر کون سی بات ہے گذشتہ آٹھ برس سے جبر کا سلسلہ جاری ہے اور مقامی باشندوں کی مزاحمت بھی جاری ہے؟ آخر وہ کون سی قوتیں ہیں جو بحریہ ٹائون کے ساتھ ہیں کہ بحریہ ٹائون پر ریاست کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتا اور نا حکومتیں، عدالتیں، انتظامیہ، ریاستی مشینری، پولیس اور سندھ حکومت کچھ کر سکتی ہے؟ تمام سیاسی، مذہبی، قوم پرست جماعتیں بحریہ ٹائون کے مظالم پر اتنے برسوں سے خاموش کیوں ہیں؟ اس کی ایک اہم وجہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی جس میں بحریہ ٹائون پر جرمانہ لگا کر اس کو ایک حد میں رہ کر منصوبہ مکمل کرنے کا کہا گیا،  لیکن بحریہ ٹائون کی حد کیا ہے؟

اس میں سندھ حکومت کے سرکاری اداروں کا اہم کردار رہا۔ محکمہ ریونیو، ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سمیت کئی اداروں اور افسران نے سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کی حمایت میں بات کی۔ اس میں دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ صرف رئیس وڈے ہی بحریہ ٹائون کے حامی ہیں یا دیگر سیاسی و مذہبی قیادت کے بھی ملک صاحب سے گہرے تعلقات ہیں؟

(جاری ہے)

بحریہ ٹائون کے متعلق یہ مضمون روزنامہ عوامی آواز میں قسط وار شایع ہوا، جس کا اردو ترجمہ قارئین کے لئے یہاں  مصنف کی اجازت اور مصنف اور عوامی آواز کے شکریے کے ساتھ شایع کیا جا رہا ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close