ٹھٹہ کی پانچ ہزار ایکڑ زمین جامشورو منتقل، پی پی کے سابق ایم این اے کا انکشاف

نیوز ڈیسک

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سابق ایم این اے ، ڈاکٹر عبدالواحد سومرو نے  انکشاف کیا ہے کہ ٹھٹہ کے روینیو ڈپارٹمنٹ نے ضلع کی تقریباً پانچ ہزار ایکڑ اراضی کو صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر جامشورو کے رکارڈ میں منتقل کردیا ہے

مقامی صحافیوں کے ساتھ نقشہ جات اور روینیو کے ریکارڈ سمیت سرکاری دستاویزات کا تبادلہ کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالواحد سومرو ، جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے دوران 1970-1974 میں منصوبہ بندی اور ترقی اور جیلوں کا قلمدان سنبھالا تھا ، نے بتایا کہ نوری آباد سے جھمپير جانے والے روڈ سے ملحقہ ضلع ٹھٹہ کے دیہہ کوہستان  7/1 تپہ جھمپير کی پانچ ھزار ایکڑ زمين صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر  جامشورو ضلع کے روينيو ریکارڈ میں شامل کی گئی ہے، جس میں لینڈ مافيا کے ساتھ ساتھ ضلع ٹھٹہ کے روينيو عملدار اور سیٹلمنٹ سروے حيدرآباد کے عملدار ملوث ہیں.

ڈاکٹر عبدالواحد سومرو نے کہا کہ یہ زمین فراڈ اور جعلسازی کے ذريعے مختلف سرمايیہ داروں کو فروخت کرکے اربوں روپے کی کرپشن کی گئی ہے

واضح رہے کہ ڈاکٹر عبدالواحد سومرو اس سے قبل بھی کوھستان کی 23 ھزار ایکڑ زمين کے جعلی کھاتے سپريم کورٹ سے رد کروا چکے ہیں

ذرائع کے مطابق اس جعلسازی میں مختيارکار تھانہ بولا خان، تپيدار کلو کوہر، مختيارکار ٹھٹہ اور دیگر نے لینڈ مافيا سے کروڑوں روپے وصول کر کے انہیں کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور اس وقت مذکورہ زمين پر دھڑا دھڑ تعميراتی کام چل رہا ہے

ڈاکٹر عبدالواحد سومرو نے کہا کہ دسمبر 2007 میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد ہونے والے آتش زنی اور تشدد کے واقعات اور ہنگاموں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محکمہ ریونیو کے بےایمان عہدیداروں نے ریکارڈ میں جعل سازی کی

ڈاکٹر سومرو نے وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اصلاحی اقدامات کا کام ایماندار حکام کے سپرد کریں اور ٹھٹہ کی اراضی کو بچانے کے لئے سروے آف پاکستان کو آن بورڈ لے کر عام لوگوں کو بھی جعلسازوں اور لینڈ مافیا کے ہاتھوں لٹنے ہونے سے بچائیں

انہوں نے کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ اس معاملے کو بھی عدالت میں لے جائیں گے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close