وزیراعلیٰ سندھ کا انٹر کے امتحانات کے حوالے سے بڑا اعلان

نیوز ڈیسک

کراچی: سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ نے لاک ڈاؤن کے فیصلے کے پیش نظر اگلے ہفتے ہونے والے امتحانات ملتوی کرنے اعلان کیا ہے اور کہا ہے لاک ڈاؤن کامیاب رہا تو 9 اگست سے سب کچھ کھولنا شروع کردیں گے

تفصیلات کے مطابق وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا ٹاسک فورس کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق پریس کانفرنس کی ، جس میں گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ ہماری ٹاسک فورس کی میٹنگ میں کچھ فیصلے ہوئے ہیں، سندھ ٹاسک فورس نے بہت مشکل فیصلے کئے، 20 یا 21مارچ 2020 میں ہم نے مکمل لاک ڈاؤن کیا تھا کیونکہ کوروناکی پہلی لہر میں جون میں صحت نظام پرسخت دباؤ تھا

امتحانات کے حوالے سے مراد علی شاہ نے کہا کہ کل سے ایک ہفتے تک کوئی امتحان نہیں ہوگا، تاریخ بڑھائی جائے گی

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کوروناکی دوسری اور تیسری لہر میں ہم محفوظ رہے ، کورونا کی تیسری لہر کے اثرات ناردرن ایریاز میں آئے تھے، جس کے بعد ہم نے اپنی ہیلتھ کیئرکو بہتر کیا پھر وبا پر کنٹرول شروع کیا

انھوں نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر میں ڈیلٹا ویئریئنٹ ہے، کوروناکی چوتھی لہر کافی خطرناک ہے ، ڈیلٹا ویرینٹ کم از کم پانچ لوگوں کو مزید متاثر کرتاہے، ڈیلٹا ویرینٹ سے سب سے زیادہ متاثر کراچی ہے

کورونا کیسز سے متعلق وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے بتایاکہ سو میں سے چالیس کیسز ڈیلٹا کے رپورٹ ہو رہےہیں، جون میں پانچ سو کیسزتھے اور گزشتہ تین دن سے  دو ہزار سے زائد کیسز آ رہے ہیں، کوروناوائرس اوپن ایئر میں کم اور تنگ جگہ پر زیادہ پھیلتا ہے

ڈیلٹاویرینٹ کے پھیلاؤ کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ڈیلٹاویرینٹ کوروکانہ گیاتویہ تیزی سےپھیلےگا، وائرس کا پھیلاؤ نہ روکا تو اسپتال کی سہولتیں چوک ہوجائیں گی ، تقریباً5فیصدلوگوں کواسپتال کی ضرورت پڑتی ہے، ہمارے پاس میڈیکل سہولت ایسی نہیں کہ سب کو کور کر سکیں،  چار یا پانچ دن یہی صورتحال رہی توطبی سہولتیں کولیپس کر جائیں گی

ان کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس میٹنگ کے بعد اسدعمر اور فیصل سلطان کو آگاہ کیا ہے، اسد عمر اور فیصل سلطان نے یقین دلایا کہ عمل درآمد میں مدد کریں گے، یہ مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہے ، جو چیزیں کھلی ہوں گی ان کی فہرست جاری کریں گے

سید مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ سمیت کراچی کے لوگوں سے درخواست ہے جزوی لاک ڈاؤن میں تعاون کریں، جزوی لاک ڈاؤن 8 اگست تک رہے گا. 9 اگست سے کھولنے کی طرف جائیں گے،  نو دن پورا تعاون کیا گیا تو پوری امید ہے وبا کا پھیلاؤ روک سکیں گے

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ وبا ختم ہونےوالی نہیں مگر اسپتالوں کی صورتحال بہتر ہوگی اور یہ سب تب ہی ممکن ہوگاکہ ہم ایس اوپیز پرعمل کریں اور مکمل احتیاط کریں، آپ لوگوں کی مدداورتعاون سےہی یہ سب کچھ ممکن ہو پائے گا

انھوں نے مزید بتایا کہ کراچی  دو ہفتے پہلے کورونا کیسز کی شرح 6 فیصد تھی ، اس وائرس کی چین بریک کرنے کے لئے اہم فیصلے کرناضروری تھے، کراچی کے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں 33 فیصد کیسز کی شرح ہے

وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ سماجی فاصلے ،ایس اوپیز پرعملدرآمد ہی پھیلاؤ روکنے کاواحد طریقہ ہے، لاک ڈاؤن میں باور کریں گے کہ ویکسین کا عمل متاثر نہ ہو جبکہ ٹرانسپورٹ صرف ویکسین لگوانے والوں کے لئے کھلی رہےگی

انھوں نے بتایا کہ ادویات اور کھانے پینے کی ضروری اشیا کا کاروبار کھلا رہے گا، ایکسپورٹ انڈسٹری کھلی رہے گی ، بینک وفاق کے ماتحت ہیں مگر حاضری کم رکھنے کا کہیں گے جبکہ میڈیا نمائندوں کو ماسک کے ساتھ کام کی اجازت ہے، ریسٹورنٹس کو صرف آن لائن ڈیلیوری کی اجازت ہے اور ساتھ ہی گروسری، میڈیکل اسٹور، میٹ اینڈ ملک شاپ کھلے رہیں گے

مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ سندھ میں ایس اوپیز پر عمل نہیں ہورا ہو رہا ، جب 9 اگست کو چیزیں کھولیں گے توایس اوپیز کے ساتھ سب کچھ ہوگا

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کراچی میں لاک ڈاؤن سے متعلق سندھ حکومت کے فیصلے ‏پر کہا ہے کہ کسی بھی صوبے یا اکائی کو انفرادی فیصلے کی اجازت نہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارامؤقف ہے این سی اوسی کی ‏پالیسی کو جاری رکھا جائے کسی بھی یونٹ کو اپنے طورپر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے

انہوں نے کہا کہ سندہ حکومت کے لاک ڈاؤن کے فیصلے کا بغور جائزہ لے رہے ہیں وزیر اعظم ‏کی پالیسی بالکل واضح ہے ہم ہر ایسے اقدام کے خلاف ہوں گے جس سے عام آدمی کی معیشت ‏شدید متاثر ہو

فوادچوہدری نے کہا کہ این سی او سی اور سندھ حکومت ایسا لائحہ عمل بنائیں کہ عام آدمی کا ‏روزگار، کاروبار متاثر نہ ہو، وزیراعظم نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے ہم نے معیشت ‏کو متاثر کئے بغیر کورونا کا مقابلہ کیا ہے

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صوبے یا اکائی کو انفرادی فیصلے کی اجازت نہیں، این سی اوسی اور ‏سندھ حکومت مشترکہ مؤقف پر کام کر رہی ہے اسد عمر اور ڈاکٹر فیصل کی مراد علی شاہ سے بات ‏ہوئی ہے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close