
گزشتہ 15 دنوں کے دوران وائٹ ہاؤس میں ہونے والی تین ہنگامی میٹنگز اور تہران کو دی جانے والی 300 بلین ڈالر کی خطیر پیشکش نے مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کی ایک ایسی تبدیلی ہے جہاں واشنگٹن اب "اپر ہینڈ” حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی معاشی ترغیبات کے باوجود تہران کے ساتھ کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ پانا اس حقیقت کا غماز ہے کہ اب بساط کے مہرے واشنگٹن کے بجائے تہران کی مرضی سے حرکت کر رہے ہیں۔ یہ تجزیہ اس "تزویراتی تعطل” کی گہرائیوں کو چھوتا ہے جہاں واشنگٹن کی بے بسی اب ایک عالمی حقیقت بن کر سامنے آ رہی ہے۔
ریموٹ کنٹرول اب کس کے ہاتھ میں؟ تہران کا نیا سیاسی قد
مشرق وسطیٰ کے اس پیچیدہ کھیل میں اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ جنگ یا امن کا "ریموٹ کنٹرول” ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس ہے۔ ٹرمپ کی تمام تر کوششوں کے باوجود کھیل ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ ماہرِ امورِ مشرق وسطیٰ بوبی نقوی کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر اگرچہ حالیہ دنوں میں ایک حادثے میں زخمی ہونے اور مصنوعی عضو (Prosthetic limb) کے لگنے کے انتظار کے باعث منظرِ عام سے عارضی طور پر اوجھل ہیں، لیکن تمام تر ریاستی امور اور تزویراتی فیصلوں پر ان کی گرفت پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
ایران کے موجودہ موقف کی مضبوطی کے اہم ستون درج ذیل ہیں:
- فیصلہ سازی کی مطلق قوت: مجتبیٰ خامنہ ای کسی بھی بیرونی دباؤ کے بغیر جنگ کے تسلسل یا مکمل خاتمے کا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
- تزویراتی تحمل (Strategic Patience): تہران کو کسی قسم کی سیاسی عجلت نہیں ہے؛ وہ جانتے ہیں کہ وقت جتنا گزرے گا، واشنگٹن کی پوزیشن اتنی ہی کمزور ہوگی۔
- ٹرمپ کی سیاسی ضرورت کا ادراک: ایرانی قیادت اس حقیقت سے واقف ہے کہ ٹرمپ کو اپنی سیاسی بقا کے لیے ایک "بڑی جیت” کی ضرورت ہے، اور وہ اسی ضرورت کو رعایتیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
مذاکرات کی میز: ٹرمپ کی پانچ شرائط اور ایران کا ردعمل
ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لیے ایک ایسی "فیس سیونگ” (Face Saving) کی تلاش میں ہیں جس سے وہ امریکی عوام کو یہ تاثر دے سکیں کہ انہوں نے ایران کو جھکا دیا ہے۔ تاہم، تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ٹرمپ کے "پراپرٹی ڈیلر” والے ذہن کو اچھی طرح سمجھتے ہیں جو جنگ کے نقصانات کو "ریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ” (Real Estate) کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
ذیل میں ٹرمپ کی پیشکشوں اور تہران سے کیے گئے مطالبات کا تقابلی جائزہ پیش ہے:
|
ٹرمپ کی پیشکش / رعایت |
ایران سے مطالبہ (شرط) |
| آبنائے ہرمز سے امریکی بحری محاصرے کا خاتمہ | ہرمز کے راستے کی مکمل بحالی اور آزادانہ آمد و رفت |
| منجمد اثاثوں کی فوری واپسی | 441 کلوگرام (60 فیصد تک افزودہ) یورینیم کی حوالگی |
| 300 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری اور مسمار عمارتوں کی تعمیرِ نو | ایٹمی بم نہ بنانے کا تحریری معاہدہ اور ضمانت |
| معاشی پابندیوں میں بتدریج نرمی | ایٹمی پروگرام کی مستقل بندش کی دستاویزی توثیق |
| عالمی تجارتی منڈیوں تک رسائی | بین الاقوامی انسپکٹرز کو حساس تنصیبات تک لامحدود رسائی |
تہران کے نزدیک شرط نمبر 4 اور 5 ناقابلِ قبول ہیں، کیونکہ وہ یورینیم کے اس ذخیرے کو اپنے دفاع کی آخری ضمانت سمجھتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور نیوکلیئر فائل: تہران کے دفاعی ہتھیار
ایران کے لیے اب آبنائے ہرمز محض ایک گزرگاہ نہیں بلکہ ایٹمی ہتھیار سے بھی بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ ماہرین (امریش مشرا اور بوبی نقوی) کے تجزیے کے مطابق، تہران نے ایک "60 روزہ مرحلہ وار پلان” (Staged Plan) پیش کیا ہے:
- پہلے 30 دن: امریکہ اپنا بحری محاصرہ ختم کرے، جس کے بدلے میں ایران 30 دن کے لیے بغیر کسی ٹول ٹیکس (Toll) کے تجارتی بحری جہازوں کو راستہ دے گا۔
- اگلے 30 دن: اگر امریکہ اپنی نیت ثابت کرتا ہے، تو اگلے مرحلے میں نیوکلیئر فائل اور دیگر تزویراتی معاملات پر مذاکرات ہوں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد قالیباف نے "قالیباف ڈاکٹرائن” کے تحت تہران کا سخت گیر موقف واضح کر دیا ہے:
- ایران رعایتیں مذاکرات کی میز پر نہیں بلکہ "میزائلوں کے زور پر” لیتا ہے۔
- تہران کسی کاغذی یا تحریری ضمانت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ صرف "عملی اقدامات” (Action) کا مطالبہ کرتا ہے۔
- ایران کا فلسفہ یہ ہے کہ اصل فاتح وہ ہے جو معاہدے کے فوری بعد "دوبارہ جنگ کی تیاری” شروع کر دے۔
واشنگٹن کا اندرونی خلفشار: مڈ ٹرم الیکشن اور فوجی بیزاری
ٹرمپ اس وقت "تزویراتی عجلت” (Strategic Haste) کا شکار ہیں کیونکہ ان پر داخلی محاذ سے شدید دباؤ ہے۔ واشنگٹن کی یہ کمزوری خامنہ ای کے لیے ایک سنہری موقع بن چکی ہے۔
ٹرمپ کو درپیش تین بڑے تزویراتی چیلنجز:
- مڈ ٹرم الیکشن اور ریپبلکن پارٹی کی ساکھ: نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور ٹرمپ کی پارٹی کی حالت نازک ہے۔ انہیں ووٹرز کو مطمئن کرنے کے لیے فوری "سفارتی فتح” کی ضرورت ہے۔
- پینٹاگون اور فوج کی بیزاری: امریکی دفاعی حکام اور فوجی اہلکار اب اسرائیل کے مفادات کے لیے ایک بے مقصد جنگ میں ایندھن بننے کو تیار نہیں ہیں۔ وہ واپسی کے خواہشمند ہیں، جس نے ٹرمپ کی سودے بازی کی قوت کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
- داخلی مہنگائی اور معاشی بحران: امریکہ میں تیل اور گیس کی قیمتوں نے عوامی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل نہ ہوئی تو معیشت ان کے سیاسی کیریئر کو لے ڈوبے گی۔
علاقائی نتائج: اسرائیل کی تنہائی اور پراکسیز کا مستقبل
امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ "عدم جارحیت کے معاہدے” (Non-Aggression Pact) کی خبروں نے تل ابیب کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھا دی ہے۔ امریش مشرا کے مطابق، ایسا معاہدہ جو پاکستان اور بھارت کے درمیان بھی نہیں ہو سکا، اگر امریکہ اور ایران کے درمیان ہوتا ہے تو یہ اسرائیل کی مکمل علاقائی تنہائی کا باعث بنے گا۔
16 اپریل کے جنگ بندی کے معاہدے اور "دریائے لیطانی کے شمال” (North of Litani River) میں جاری حالیہ اسرائیلی جارحیت کے باوجود، ایران حزب اللہ، حماس اور حوثیوں کے مفادات پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں۔ ٹرمپ اس وقت اپنی سیاسی بقا کے لیے نیتن یاہو کو قربان کرنے کی پوزیشن میں نظر آ رہے ہیں، جو خطے میں اسرائیل کے "ناقابلِ شکست” ہونے کے تاثر کو زائل کر رہا ہے۔
ایک نئی عالمی حقیقت کا ظہور
موجودہ جیو پولیٹیکل بساط یہ ظاہر کرتی ہے کہ تہران نے واشنگٹن کو ایک ایسے مقام پر لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے ایران کی شرائط تسلیم کرنی پڑیں گی۔ ٹرمپ اسے ایک "انویسٹمنٹ ڈیل” کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ ایران کا مطالبہ ہے کہ 300 بلین ڈالر سے لے کر 1 ٹریلین ڈالر تک کی یہ رقم سرمایہ کاری نہیں بلکہ "جنگی نقصانات” (War Damages) کا ازالہ ہے۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف ایک ایٹمی دہلیز پر کھڑی ریاست ہے بلکہ وہ جغرافیائی گزرگاہوں پر کنٹرول کے ذریعے عالمی معیشت کی نبض تھامنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔




