چڑیا چڑے کی کہانی

ابو الکلام آزاد

قلعۂ احمد نگر 17 مارچ 1943ء
صدیق مکرم
زندگی میں بہت سی کہانیاں بنائیں۔ خود زندگی ایسی گزری، جیسے ایک کہانی ہو:
ہے آج جو سرگزشت اپنی،
کل اس کی کہانیاں بنیں گی۔۔

آئیے آج آپ کو چڑیا چڑے کی کہانی سناؤں:
دگر ہا شنیدستی، ایں ہم شنو

یہاں کمرے جو ہمیں رہنے کو ملے ہیں، پچھلی صدی کی تعمیرات کا نمونہ ہیں۔ چھت لکڑی کے شہتیروں کی ہے اور شہتیروں کے سہارے کے لیے محرابیں ڈال دی ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ جا بجا گھونسلہ بنانے کے قدرتی گوشے نکل آئے اور گوریّاؤں کی بستیاں آباد ہو گئیں۔ دن بھر ان کا ہنگامۂ تگ و دو گرم رہتا ہے۔ کلکتہ میں بالی گنج کا علاقہ چونکہ کھلا اور درختوں سے بھرا ہوا ہے، اس لیے وہاں بھی مکانوں کے برآمدوں اور کارنسوں پر چڑوں کے غول ہمیشہ حملہ کرتے رہتے ہیں۔ یہاں کی ویرانی دیکھ کر گھر کی ویرانی یاد آ گئی،
اُگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب
ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے!

گزشتہ سال جب اگست میں یہاں ہم آئے تھے تو ان چڑیوں کی آشیاں سازیوں نے بہت پریشاں کر دیا تھا۔ کمرہ کے مشرقی گوشہ میں منہ دھونے کی ٹیبل لگی ہے۔ ٹھیک اِس کے اوپر نہیں معلوم کب سے ایک پرانا گھونسلہ تعمیر پا چکا تھا۔ دن بھر میدان سے تنکے چُن چُن کر لاتیں اور گھونسلے میں بچھانا چاہتیں۔ وہ ٹیبل پر گر کے اسے کوڑے کرکٹ سے اَٹ دیتے۔ اِدھر جگ بھروا کے رکھا، اُدھر تنکوں کی بارش شروع ہو گئی۔ پچھم کی طرف چارپائی دیوار سے لگی تھی۔ اِس کے اوپر نئی تعمیروں کی سرگرمیاں جاری تھیں۔ اِن نئی تعمیروں کا ہنگامہ اور زیادہ عاجز کر دینے والا تھا۔ ان چڑیوں کو ذرا سی تو چونچ ملی ہے اور مٹھی بھر کا بدن نہیں، لیکن طلب و سعی کا جوش اِس بلا کا پایا ہے کہ چند منٹوں کے اندر بالشت بھر کلفات کھود کے صاف کر دیں گی۔ حکیم ارشمیدس (Archimedes) کا مقولہ مشہور ہے:
Dos Mol Pau Sto Kai Ten Gen Kineso​
”مجھے فضا میں کھڑے ہونے کی جگہ دے دو، میں کرۂ ارضی کو اس کی جگہ سے ہٹا دوں گا۔“

اس دعوے کی تصدیق اِن چڑیوں کی سرگرمیاں دیکھ کر ہو جاتی ہے۔ پہلے دیوار پر چونچ مار مار کر اتنی جگہ بنا لیں گی کہ پنجے ٹیکنے کا سہارا نکل آئے۔ پھر اس پر پنجے جما کر چونچ کا پھاوڑا چلانا شروع کر دیں گی، اور اِس زور سے چلائیں گی کہ سارا جسم سکڑ سکڑ کر کانپنے لگے گا اور پھر تھوڑی دیر بعد دیکھیے تو کئی انچ کلفات اُڑ چکی ہوگی۔ مکان چونکہ پرانا ہے، اِس لیے نہیں معلوم کتنی مرتبہ چونے اور ریت کی تہیں دیوار پر چڑھتی رہی ہیں۔ اب مل ملا کر تعمیری مسالہ کا ایک موٹا سا دَل بن گیا ہے۔ ٹوٹتا ہے تو سارے کمرے میں گرد کا دھواں پھیل جاتا ہے، اور کپڑوں کو دیکھیے تو غبار کی تہیں جم گئی ہیں۔

اِس مصیبت کا علاج بہت سہل تھا یعنے مکان کی ازسرِ نو مرمت کر دی جائے اور تمام گھونسلے بند کر دیے جائیں۔ لیکن مرمت بغیر اس کے ممکن نہ تھی کہ معمار بلائے جائیں، اور یہاں باہر کا کوئی آدمی اندر قدم رکھ نہیں سکتا۔ یہاں ہمارے آتے ہی پانی کے نل بِگڑ گئے تھے۔ ایک معمولی مستری کا کام تھا، لیکن جب تک ایک انگریزی فوجی انجینئر کمانڈنگ آفیسر پروانۂ راہداری لے کر نہیں آیا، ان کی مرمت نہ ہو سکی۔
چند دنوں تک تو میں نے صبر کیا، لیکن پھر برداشت نے صاف جواب دے دیا اور فیصلہ کرنا پڑا کہ اب لڑائی کے بغیر چارہ نہیں،
من و گزر و میدان و افراسیاب

یہاں میرے سامان میں ایک چھتری بھی آ گئی ہے۔ میں نے اٹھائی اور اعلانِ جنگ کر دیا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد معلوم ہو گیا کہ اس کوتاہ دستی کے ساتھ اِن حریفانِ سقف و محراب کا مقابلہ ممکن نہیں۔ حیران ہو کر کبھی چھتری کی نارسائی دیکھتا، کبھی حریفوں کی بلند آشیانی۔ بے اختیار حافظ کا شعر یاد آ گیا:
خیالِ قدِّ بلند تو می کند دلِ من
تو دستِ کوتہ من بین و آستین دراز

اب کسی دوسرے ہتھیار کی تلاش شروع ہوئی۔ برآمدہ میں جالا صاف کرنے کا بانس پڑا تھا۔ دوڑتا ہوا گیا اور اُسے اٹھا لایا۔ اب کچھ نہ پوچھئے کہ میدانِ کارزار میں کِس زور کا رن پڑا۔ کمرہ میں چاروں طرف حریف طواف کر رہا تھا اور میں بانس اُٹھائے دیوانہ وار اس کے پیچھے دَوڑ رہا تھا۔ فردوسی اور نظامی کے رجز بے اختیار نکل رہے تھے:
بہ خنجر زمین را مَیستان کنم،
بہ نیزہ ہوا را نَیستان کنم

آخر میدان اپنے ہی ہاتھ رہا، اور تھوڑی دیر کے بعد کمرہ اِن حریفان سقف و محراب سے بالکل صاف تھا:
بہ یک تاختن تا کجا تا ختم
چہ گردن کشاں را سراند اختم

اب میں نے چھت کے تمام گوشوں پر فتحمندانہ نظر ڈالی۔ اور مطمئن ہو کر لکھنے میں مشغول ہو گیا۔ لیکن ابھی پندرہ منٹ بھی پورے نہیں گزرے ہوں گے کہ کیا سُنتا ہُوں۔ حریفوں کی رجز خوانیوں اور ہوا پیمائیوں کی آوازیں پھر اُٹھ رہی ہیں۔ سر اٹھا کے جو دیکھا تو چھت کا ہر گوشہ ان کے قبضہ میں تھا میں فوراً اُٹھا اور بانس لا کر پھر معرکۂ کارزار گرم کر دیا۔
بر آرم دیا راز ہمہ لشکرش
بہ آتش بسوزم ہمہ کشورش

اِس مرتبہ حریفوں نے بڑی پامردی دکھائی۔ ایک گوشہ چھوڑنے پر مجبور ہوتے تو دُوسرے میں ڈٹ جاتے لیکن بالآخر میدان کو پیٹھ دکھانی ہی پڑی۔ کمرے سے بھاگ کر برآمدہ میں آئے اور وہاں اپنا لاؤ لشکر نئے سرے سے جمانے لگے۔ میں نے وہاں بھی تعاقب کیا، اور اس وقت تک ہتھیار ہاتھ سے نہیں رکھا کہ سرحد سے بُہت دُور تک میدان صاف نہیں ہو گیا تھا۔

اب دشمن کی فوج تِتّر بِتّر ہو گئی تھی مگر یہ اندیشہ باقی تھا کہ کہیں پھر اکٹھی ہو کر میدان کا رُخ نہ کرے۔ تجربے سے معلوم ہوا تھا کہ بانس کے نیزہ کی ہیبت دشمنوں پر خُوب چھا گئی ہے۔ جس طرح رُخ کرتا تھا، اُسے دیکھتے ہی کلمۂ فرار پڑھتے تھے۔ اس لیے فیصلہ کیا کہ ابھی کچھ عرصہ تک اسے کمرہ ہی میں رہنے دیا جائے۔ اگر کسی اِکا دُکا نے رُخ کرنے کی جُرأت بھی کی تو یہ سربفلک نیزہ دیکھ کر الٹے پاؤں بھاگنے پر مجبور ہو جائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ سب سے پُرانا گھونسلہ مُنہ دھونے کی ٹیبل کے اوپر تھا۔ بانس اس طرح وہاں کھڑا کر دیا گیا کہ اس کا سرا ٹھیک ٹھیک گھونسلے کے دروازے کے پاس پہنچ گیا تھا۔ اب گو مستقبل اندیشوں سے خالی نہ تھا، تاہم طبیعت مطمئن تھی کہ اپنی طرف سے سر و سامانِ جنگ میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ میر کا یہ شعر زبانوں پر چڑھ کہ بُہت پامال ہو چکا ہے، تاہم موقعہ کا تقاضا ٹالا بھی نہیں جا سکتا:
شکست و فتح نصیبوں سے ہے ولے اے میر،
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔۔

اب گیارہ بج رہے تھے۔ میں کھانے کے لیے چلا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو کمرہ میں قدم رکھتے ہی ٹھٹک کے رہ گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سارا کمرہ پھر حریف کے قبضہ میں ہے اور اس اطمینان و فراغت سے اپنے کاموں میں مشغول ہیں، جیسے کوئی حادثہ پیش آیا ہی نہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ، کہ جس ہتھیار کی ہیبت پر اس درجہ بھروسہ کیا گیا تھا، وہی حریفوں کی کامجوئیوں کا ایک نیا آلہ ثابت ہوا۔ بانس کا سِرا جو گھونسلے سے بالکل لگا ہوا تھا، گھونسلے میں جانے کے لیے اب دہلیز کا کام دینے لگا ہے۔ تنکے چُن چُن کر لاتے ہیں، اور ان نو تعمیر دہلیز پر بیٹھ کر بہ اطمینان تمام گھونسلے بچھاتے ہیں۔ ساتھ ہی چُوں چُوں بھی کرتے جاتے ہیں۔ عجیب نہیں یہ مصرعہ گنگنا رہے ہوں کہ:
عُدو شود سببِ خیر گر خُدا خواہد۔۔

اپنی وہمی فتحمندیوں کا یہ حسرت انگیز انجام دیکھ کر بے اختیار ہمت نے جواب دے دیا۔ صاف نظر آ گیا کہ چند لمحوں کے لیے حریف کو عاجز کر دینا آسان ہے مگر اُن کے جوشِ استقامت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں، اور اب اس میدان میں ہار مان لینے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں رہا:
بیا کہ ما سپراند اختیم اگر جنگ است

اب یہ فکر ہوئی کہ ایسی رسم و راہ اِختیار کرنی چاہیے کہ ان ناخواندہ مہمانوں کے ساتھ ایک گھر میں گزارہ ہو سکے۔ سب سے پہلے چارپائی کا معاملہ سامنے آیا۔ یہ بالکل نئی تعمیرات کی زد میں تھی۔ پرانی عمارت کے گرنے اور نئی تعمیروں کے سر و سامان سے جس قدر گرد و غبار اور کوڑا کرکٹ نکلتا، سب کا سب اسی پر گرتا۔ اس لیے اسے دیوار سے اتنا ہٹا دیا گیا کہ براہِ راست زد میں نہ رہے۔ اِس تبدیلی سے کمرہ کی شکل ضرور بگڑ گئی، لیکن اب اس کا علاج ہی کیا تھا؟ جب خود اپنا گھر ہی اپنے قبضہ میں نہ رہا تو پھر شکل و ترتیب کی آرائشوں کی کسے فکر ہو سکتی تھی؟ البتہ مُنہ دھونے کے ٹیبل کا معاملہ اتنا آسان نہ تھا۔ وہ جس گوشے میں رکھا گیا تھا، صرف وہی جگہ اس کے لیے نکل سکتی تھی، ذرا بھی ادھر ادھر کرنے کی گنجائش نہ تھی۔ مجبوراً یہ انتظام کرنا پڑا کہ بازار سے بہت سے جھاڑن منگوا کر رکھ لیے اور ٹیبل کی ہر چیز پر ایک ایک جھاڑن ڈال دیا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد انہیں اٹھا کر جھاڑ دیتا اور پھر ڈال دیتا۔ ایک زیادہ مشکل مسئلہ فرش کی صفائی کا تھا، لیکن اُسے بھی کسی نہ کسی طرح حل کیا گیا۔ یہ بات طے کر لی گئی کہ صبح کی معمولی صفائی کے علاوہ بھی کمرے میں بار بار جھاڑو پھر جانا چاہیے۔ ایک نیا جھاڑو منگوا کر الماری کی آڑ میں چھُپا دیا۔ کبھی دن میں دو مرتبہ، کبھی تین مرتبہ کبھی اس سے بھی زیادہ اس سے کام لینے کی ضرورت پیش آتی۔ یہاں ہر دو کمرے کے پیچھے ایک قیدی صفائی کے لیے دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ہر وقت جھاڑو لیے کھڑا نہیں رہ سکتا اور اگر رہ بھی سکتا تو اس پر اتنا بوجھ ڈالنا انصاف کے خلاف تھا، اس لیے یہ طریقہ اختیار کرنا پڑا کہ خود ہی جھاڑو اٹھا لیا، اور ہم سایوں کی نظریں بچا کے جلد جلد دو چار ہاتھ مار دیے۔ دیکھیے ان ناخواندہ مہمانوں کی خاطر تواضع میں کنّاسی تک کرنی پڑی:
عشق ازیں بسیار کر دست و کند

ایک دن خیال ہوا کہ جب صلح ہو گئی تو چاہیے کہ پوری طرح صلح ہو۔ یہ ٹھیک نہیں کہ رہیں ایک ہی گھر میں، اور رہیں بیگانوں کی طرح۔۔ میں نے باورچی خانے سے تھوڑا سا کچا چاول منگوایا، اور جس صوفے پر بیٹھا کرتا ہوں، اس کے سامنے کی دری پر چند دانے چھٹک دیے۔ پھر اس طرح سنبھل کے بیٹھ گیا، جیسے شکاری دام بچھا کے بیٹھ جاتا ہے۔ دیکھیے، عرفی کا شعر صورت حال پر کیسا چسپاں ہوا ہے:
فتادم دام بر کنجشک و شادم، یادِ آں ہمت
کہ گر سیمرغ می آمد بدام، آزاد می کردم!

کچھ دیر تک تو مہمانوں کی توجہ نہیں ہوئی۔ اور اگر ہوئی بھی تو ایک غلط اندازِ نظر سے معاملہ آگے نہیں بڑھا۔ لیکن پھر صاف نظر آ گیا کہ معشوقانِ ستم پیشہ کے تغافل کی طرح یہ تغافل بھی نظر بازی کا ایک پردہ ہے۔ ورنہ نیلے رنگ کی دری پر سفید سفید ابھرے ہوئے دانوں کی کشش ایسی نہیں کہ کام نہ کر جائے:
حور و جنت جلوہ بر زاہد دہد، در راہ دوست
اندک اندک عشق در کار آور د بیگانہ را

پہلے ایک چڑیا آئی اور ادھر ادھر کودنے لگی۔ بظاہر چہچہانے میں مشغول تھی مگر نظر دانوں پر تھی۔ وحشی یزدی خوب کہہ گیا ہے:
چہ لطف ہا کہ دریں شیوۂ نہانی نیست
عنایتے کہ تو داری بمن بیانی نیست​
پھر دوسری آئی اور پہلی کے ساتھ مل دری کا طواف کرنے لگی۔ پھر تیسری اور چوتھی بھی پہنچ گئی۔ کبھی دانوں پر نظر پڑتی، کبھی دانہ ڈالنے والے پر۔ کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ جیسے آپس میں کچھ مشورہ ہو رہا ہے۔ کبھی معلوم ہوتا ہر فرد غور و فکر میں ڈوبا ہوا ہے۔ آپ نے غور کیا ہوگا کہ گوریّا جب تفتیش اور تفحص کی نگاہوں سے دیکھتی ہے تو اس کے چہرے کا کچھ عجیب سنجیدہ انداز ہو جاتا ہے۔ پہلے گردن اٹھا کر سامنے کی طرف دیکھے گی۔ پھر گردن موڑ کے داہنے بائیں دیکھنے لگے گی۔ پھر کبھی گردن کو مروڑ دے کر اوپر کی طرف نظر اٹھائے گی اور چہرے پر تفحص و استفہام کا کچھ ایسا انداز چھا جائے گا، جیسے ایک آدمی ہر طرف متعجبانہ نگاہ ڈال ڈال کر اپنے آپ سے کہہ رہا ہو کہ آخر یہ معاملہ ہے کیا؟ اور ہو کیا رہا ہے؟ ایسی متفحص نگاہیں اس وقت بھی ہر چہرہ پر ابھر رہی تھیں۔

پایم بہ پیش از سر ایں کُو نمی رَود
یاراں خبر دہید کہ ایں جلوہ گاہِ کیست؟​

پھر کچھ دیر کے بعد آہستہ آہستہ قدم بڑھنے لگے۔ لیکن براہِ راست دانوں کی طرف نہیں۔ آڑے ترچھے ہو کر بڑھتے اور کترا کر نکل جاتے۔ گویا یہ بات دکھائی جا رہی تھی کہ خدانخواستہ ہم دانوں کی طرف نہیں بڑھ رہے۔ دروغِ راست مانند کی یہ نمائش دیکھ کر بے اختیار ظہوری کا شعر یاد آ گیا:
بگو حدیثِ وفا، از تو با درست، بگو
شوم فدائے دروغے کہ راست مانندست​

آپ جانتے ہیں کہ صید سے کہیں زیادہ صیاد کو اپنی نگرانیاں کرنی پڑتی ہیں، جونہی ان کے قدموں کا رخ دانوں کی طرف پھرا، میں نے دم سادھ لیا، نگاہیں دُوسری طرف کر لیں، اور سارا جسم پتھر کی طرح بے حس و حرکت بنا لیا۔ گویا آدمی کی جگہ پتھر کی ایک مورتی دھری ہے۔ کیونکہ جانتا تھا، اگر نگاہِ شوق نے مضطرب ہو کر ذرا بھی جلد بازی کی، تو شکار دام کے پاس آتے آتے نکل جائے گا۔ یہ گویا نازِ حسن اور نیازِ عشق کے معاملات کا پہلا مرحلہ تھا:
نہاں از و بہ رُخش داشتم تماشائے
نظر بہ جانبِ ما کرد و شہ مسارشدم​

خیر، خدا خدا کر کے اس عشوۂ تغافل نما کے ابتدائی مرحلے طے ہوئے، اور ایک بتِ طنّاز نے صاف صاف دانوں کی طرف رُخ کیا، مگر یہ رُخ تھا، ہزار تغافل اِس کے جلو میں چل رہے تھے۔ میں بے حس و حرکت بیٹھا دل ہی دل میں کہہ رہا تھا:
بہ ہر کُجا ناز سر بر آرد، نیاز ہم پائے کم نہ دارد
توؤ خرامے و صد تغافل، من و نِگاہے و صد تمنا​
ایک قدم آگے بڑھتا تھا تو دو قدم پیچھے ہٹتے تھے۔ میں جی ہی جی میں کہہ رہا تھا کہ التفات و تغافل کا یہ ملا جلا انداز بھی کیا خوب انداز ہے۔ کاش تھوڑی سی تبدیلی اس میں کی جا سکتی۔ دو قدم آگے بڑھتے، ایک قدم پیچھے ہٹتا۔ غالب بھی کیا خوب کہہ گیا ہے:
وداع و وصل جدا گانہ لذتے دارد
ہزار بار بِرَد، صد ہزار بار بیا​

التفات و تغافل کی اِن عشوہ گریوں کی ابھی جلوہ فروشی ہو ہی رہی تھی کہ ناگہاں ایک تنومند چڑے نے جو اپنی قلندرانہ بے دماغی اور رندانہ جرأتوں کے لحاظ سے پورے حلقہ میں ممتاز تھا، سلسلۂ کار کی درازی سے اکتا کر بے باکانہ اقدام اٹھا دیا۔ اور زبانِ حال سے یہ نعرۂ مستانہ لگاتا ہوا، بہ یک دفعہ دانوں پر ٹوٹ پڑا کہ:
ز دیم بر صفِ رنداں د ہر چہ بادا باد

اِس ایک قدم کا اٹھنا تھا کہ معلوم ہوا، جیسے اچانک تمام رُکے ہوئے قدموں کے بندھن کھل پڑے۔ اب نہ کسی قدم میں جھجک تھی، نہ کسی نگاہ میں تذبذب، مجمع کا مجمع بہ یک دفعہ دانوں پر ٹوٹ پڑا۔۔ اور اگر انگریزی محاورہ کی تعبیر مستعار لی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ حجاب و تامل کی ساری برف اچانک ٹوٹ گئی۔ یا یوں کہیے کہ پگھل گئی۔ غور کیجئے، تو اس کارگاہِ عمل کے ہر گوشہ کی قدم رانیاں ہمیشہ اسی ایک قدم کے انتظار میں رہا کرتی ہیں۔ جب تک یہ نہیں اٹھتا، سارے قدم زمین میں گڑے رہتے ہیں۔ یہ اُٹھا اور گویا ساری دنیا اچانک اٹھ گئی:
نامردی و مردی قدمے فاصلہ دارد​

اِس بزمِ سُود و زیاں میں کامرانی کا جام کبھی کوتاہ دستوں کے لیے نہیں بھرا گیا، وہ ہمیشہ انہی کے حصے میں آیا، جو خود بڑھ کر اٹھا لینے کی جرأت رکھتے تھے۔ شاد عظیم آبادی مرحوم نے ایک شعر کیا خوب کہا تھا:
یہ بزمِ مے ہے، یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ میں، مینا اُسی کا ہے​

اِس چڑے کا یہ بے باکانہ اقدام کچھ ایسا دل پسند واقع ہوا، کہ اُسی وقت دل نے ٹھان لی، اِس مرد کار سے رسم و راہ بڑھانی چاہیے۔ میں نے اس کا نام قلندر رکھ دیا۔ کیونکہ بے دماغی اور دارستگی کی سرگرانیوں کے ساتھ ایک خاص طرح کا بانکپن بھی ملا ہوا تھا۔ اور اس کی وضعِ قلندرانہ کو آب و تاب دے رہا تھا:
رہے اِک بانکپن بھی بے دماغی میں تو زیبا ہے
بڑھا دو چینِ ابرو پر ادائے کج کلاہی کو​

دو تین دن تک اسی طرح ان کی خاطر تواضع ہوتی رہی۔ دِن میں دو تین مرتبہ دانے دری پر ڈال دیتا۔ ایک ایک کر کے آتے، اور ایک ایک دانہ چن لیتے کبھی دانہ ڈالنے میں دیر ہو جاتی تو قلندر آ کر چوں چوں کرنا شروع کر دیتا کہ وقت معہود گزر رہا ہے۔ اس صورت حال نے اب اطمینان دلا دیا تھا کہ پردۂ حجاب اٹھ چکا۔ وہ وقت دور نہیں کہ رہی سہی جھجک بھی نکل جائے گی۔
اور کھل جائیں گے دو چار ملاقاتوں میں!​

چند دنوں کے بعد میں نے اس معاملہ کا دوسرا قدم اٹھایا۔ سگرٹ کے خالی ٹین کا ایک ڈھکنا لیا۔ اِس میں چاول کے دانے ڈالے، اور ڈھکنا دری کے کنارے رکھ دیا۔ فوراً مہمانوں کی نظر پڑی۔ کوئی ڈھکنے کے پاس آ کر منہ مارنے لگا۔ کوئی ڈھکنے کے کنارے پر چڑھ کر زیادہ جمعیتِ خاطر کے ساتھ چگنے میں مشغول ہو گیا۔ آپس میں رقیبانہ ردّ و کد بھی ہوتی رہی۔ جب دیکھا کہ اس طریقِ ضیافت سے طبیعتیں آشنا ہو گئی ہیں تو دوسرے دن ڈھکنا دری کے کنارے سے سے کچھ ہٹا کر رکھا۔ تیسرے دن اور زیادہ ہٹا دیا۔ اور بالکل اپنے سامنے رکھ دیا۔ گویا اس طرح بتدریج بُعد سے قُرب کی طرف معاملہ بڑھ رہا تھا۔ دیکھیے بُعد و قُرب کے معاملہ نے عالیہ بنت المہدی کا مطلع یاد دلا دیا:
و حبب، فان الحب داعیۃ الحب
وکم من بعید الدار مستوجب القرب​

اتنا قریب دیکھ کر پہلے تو مہمانوں کو کچھ تامل ہوا۔ دری کے پاس آ گئے مگر قدموں میں جھجک تھی اور نگاہوں میں تذبذب بول رہا تھا، لیکن اتنے میں قلندر اپنے قلندرانہ نعرے لگاتا ہوا آ پہنچا اور اس کی رندانہ جرأتیں دیکھ کر سب کی جھجک دور ہو گئی۔ گویا اِس راہ میں سب قلندر ہی کے پیرو ہوئے۔ جہاں اس کا قدم اٹھا، سب کے اٹھ گئے، وہ دانوں پر چونچ مارتا، پھر سر اٹھا کے اور سینہ تان کے زبانِ حال سے مترنم ہوا:
وما الدہر، اِلا من رواۃ قصائدی
اذا قلت شعرا، اَصبح الدہر منشدا​

جب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا، تو پھر ایک قدم اور اُٹھایا گیا اور دانوں کا برتن دری سے اٹھا کے تپائی پر رکھ دیا۔ یہ تپائی میرے بائیں جانب صوفے لگی رہتی ہے اور پوری طرح میرے ہاتھ کی زد میں ہے۔ اس تبدیلی سے خوگر ہونے میں کچھ دیر لگی، بار بار آتے اور تپائی کا چکر لگا کر چلے جاتے۔ بالآخر یہاں بھی قلندر ہی کو پہلا قدم بڑھانا پڑا اور اس کا بڑھنا تھا کہ یہ منزل بھی پچھلی منزل کی طرح سب پر کھل گئی۔ اب تپائی کبھی تو ان کی مجلس آرائیوں کا ایوانِ طرب بنتی اور کبھی باہمی معرکہ آرائیوں کا اکھاڑا۔

جب اس قدر نزدیک آ جانے کے خوگر ہو گئے تو میں نے خیال کیا، اب معاملہ کچھ اور آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ایک دن صبح یہ کیا کہ چاول کا برتن صوفے پر ٹھیک اپنی بغل میں رکھ دیا اور پھر لکھنے میں اس طرح مشغول ہو گیا کہ گویا اس معاملے سے کوئی سر و کار نہیں:
دل و جانم بتو مشغول و نظر بر چپ و راست
تا نہ دانند رقیباں کہ تو منظورِ منی!​

تھوڑی دیر کے بعد کیا سنتا ہوں کہ زور زور سے چونچ مارنے کی آواز آ رہی ہے۔ کنکھیوں سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ ہمارا پرانا دوست قلندر پہنچ کیا ہے اور بے تکان چونچ مار رہا ہے۔ ڈھکنا چونکہ بالکل پاس دھرا تھا، اس لیے اس کی دم میرے گھٹنے کو چھو رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد دوسرے یارانِ تیز گام بھی پہنچ گئے؛ اور پھر تو یہ حال ہو گیا کہ ہر وقت دو تین دوستوں کا حلقہ بے تکلف میری بغل میں اچھل کود کرتا رہتا۔ کبھی کوئی صوفے کی پشت پر چڑھ جاتا، کبھی کوئی جست لگا کر کتابوں پر کھڑا ہو جاتا، کبھی نیچے اُتر آتا اور چوں چوں کر کے واپس آ جاتا۔ بے تکلفی کی اس اچھل کود میں کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ میرے کاندھے کو درخت کی ایک جھکی ہوئی شاخ سمجھ کر اپنی جست و خیز کا نشانہ بنانا چاہا، لیکن پھر چونک کر پلٹ گئے، یا پنجوں سے اسے چھوا اور اوپر ہی اوپر نکل گئے۔ گویا ابھی معاملہ اس منزل سے آگے نہیں بڑھا تھا، جس کا نقشہ وحشی یزدی نے کھینچا ہے:

ہنوز عاشقی و دِلربائیے نہ شدہ است
ہنوز زوری و مرد آزمائیے نہ شدہ است
ہمیں تواضع عام است حسن رابا عشق
میانِ ناز و نیاز آشنائیے نہ شدہ است​

بہرحال رفتہ رفتہ ان آہوانِ ہوائی کو یقین ہو گیا کہ یہ صورت ہمیشہ صوفے پر دکھائی دیتی ہے، آدمی ہونے پر بھی آدمیوں کی طرح خطرناک نہیں ہے۔ دیکھیے محبت کا افسوں جو انسانوں کو رام نہیں کر سکتا، وحشی پرندوں کو رام کر لیتا ہے:
درسِ وفا اگر بود زمزمۂ محبتے
جمعہ بہ مکتب آورد طفل گریز پائے را​

بار ہا ایسا ہوا کہ میں اپنے خیالات میں محو، لکھنے میں مشغول ہوں؛ اتنے میں کوئی دلنشیں بات نوک قلم پر آ گئی یا عبارت کی مناسبت نے اچانک کوئی پر کیف شعر یاد دلا دیا، اور بے اختیار اس کی کیفیت کی خود رفتگی میں میرا سر و شانہ ہلنے لگا، یا منہ سے ’ہا‘ نکل گیا، اور یکایک زور سے پروں کے اڑنے کی ایک پھر سی آواز سنائی دی۔ اب جو دیکھتا ہوں تو معلوم ہوا کہ ان یارانِ بے تکلف کا ایک طائفہ میری بغل میں بیٹھا بے تامل اپنی اچھل کود میں مشغول تھا۔ اچانک انہوں نے دیکھا کہ یہ پتھر اب ہلنے لگا ہے، تو گھبرا کر اڑ گئے۔ عجب نہیں، اپنے جی میں کہتے ہوں، یہاں صوفے پر ایک پتھر پڑا رہتا ہے، لیکن کبھی کبھی آدمی بن جاتا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد کی شہرہ آفاق تصنیف ’ غبار خاطر ‘ سے ماخوذ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close