چَھڑی (جاپانی ادب سے منتخب افسانہ)

کو بوایبی (ترجمہ: محمد عاصم بٹ)

یہ جون کی ایک مرطوب اتوار تھی۔
اسٹیشن سے پار ڈپارٹمنٹل اسٹور کی پر ہجوم چھت پر سے، جو بارش کے بعد سے کاروں اور لوگوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، میں نے اپنے دونوں بچوں کو قریب کرتے ہوئے اردگرد دیکھا۔ سیڑھیوں اور روشن دان کے درمیان خالی جگہ کو دیکھ کر میں تیزی سے اس طرف لپکا۔ میں نے دونوں بچوں کو باری باری اُوپر اٹھایا تاکہ وہ جنگلے سے پار دیکھ سکیں۔ وہ جلد ہی اس منظر سے اوبھ گئے، لیکن مجھے اس میں دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔ اصل میں بچوں کے مقابلے میں جنگلے سے چمٹے ہوؤں میں بڑوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی۔ اکثر بچے بور ہونے کے بعد اپنے والدین سے ضد کر رہے تھے کہ واپس گھر چلیں۔ بچوں کو جھڑکتے ہوئے کہ جیسے انہیں کسی ضروری کام میں ٹوکا گیا ہو، والدین جنگلے پر اپنی دہری کلائیوں پر ٹھوڑیاں جمائے خوابناک آنکھوں سے سامنے ایک ٹک دیکھ رہے تھے۔

اگر کوئی یہ اعتراض کرے تو حق بجانب ہوگا کہ یہ واقعہ حظ دینے والا نہیں۔۔ لیکن پھر بھی اس میں ایسی بات نہیں تھی کہ جس پر فکرمند ہوا جائے۔ بالکل خالی دماغ کے ساتھ میں وہاں کھڑا تھا۔۔ یا کم از کم میں کسی بھی ایسی شے کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا کہ جسے بعد ازاں خاص طور پر یاد رکھا جاتا۔ شاید میں مرطوب ہوا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس سے مجھے شدید اُلجھن ہورہی تھی اور میں اپنے بچوں پر برس پڑا۔

بڑا لڑکا یوں چیخا، جیسے وہ مجھے سے نارض ہو، ”ڈیڈی!“ پھر جیسے اس کی آواز سے بچنے کے لیے میں کچھ سوچے سمجھے بغیر جنگلے پر آگے تک جھک گیا۔ یہ ایک لمحاتی احساس تھا اور اس میں اس کے علاوہ کوئی تشویش ناک بات نہیں تھی۔ لیکن اچانک یوں ہوا کہ میرا جسم ہوا میں تیرنے لگا۔ بچے کی آواز ’ڈیڈی‘ اب بھی میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ میں نیچے گر رہا تھا۔

میں نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ گرنے کے دوران ہوا یا ایسا ہو چکنے کے بعد میں نے گرنا شروع کیا۔۔ بہرحال یوں ہوا کہ میں چھڑی میں تبدیل ہو گیا۔ نہ موٹی اور نہ پتلی، میں ایک سیدھی، اور ہاتھ میں پکڑنے والی کوئی تین فٹ لمبی چھڑی تھا۔ یہ آواز ’ڈیڈی‘ پھر سے گونجی۔ نیچے فٹ پاتھ پر تیز تیز حرکت کرتے ہوئے ہجوم میں خلاء پیدا ہوا۔ اس خلاء کو نشانہ بناتے ہوئے میں تیز ترین رفتار کے ساتھ نیچے گرنے لگا۔ تیز اور کھردری آواز کے ساتھ فٹ پاتھ پر ٹپا کھا کر میں ایک درخت سے ٹکرایا اور ٹرالی ٹرکوں اور فٹ پاتھ کے درمیان ایک درز میں جا پھنسا۔ اُوپر جنگلے کے ساتھ ساتھ مجھے اپنے بچوں کے چہرے صاف دکھائی دے رہے تھے۔

راہ گیر برہمی کے ساتھ اُوپر چھت کی طرف دیکھ رہے تھے۔ داخلی دروازے میں کھڑا گارڈ کَہہ رہا تھا کہ وہ ان بدمعاشوں کی ابھی خبر لے گا جو بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ گئے تھے۔ پُرجوش لوگوں نے اُوپر والوں کو مکّے لہرا کر دکھائے اور دھمکیاں دیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں گڑ میں ہی پڑا رہا اور کچھ دیر تک واقعی کسی کو دکھائی بھی نہ دیا۔

آخر ایک طالب علم نے مجھے دیکھا۔ اس کے ساتھ دو اور لوگ بھی تھے۔ ایک تو اسی جیسا طالب علم تھا، ویسا ہی یونیفارم پہنے ہوئے۔ دوسرا ان کا استاد لگتا تھا۔ دونوں طالب علم اپنے قد کاٹھ چہرے کے تاثرات اور ٹوپیاں پہننے کے انداز سے جڑواں بھائی لگتے تھے۔ استاد اپنی سفید مونچھوں اور عینک کی وجہ سے بہت سنجیدہ معلوم ہوتا تھا اور دراز قامت تھا۔
مجھے کھینچ کر باہر نکالتے ہوئے پہلے طالب علم نے کسی قدر حزن آگیں آواز میں کہا، ”حتٰی کہ اس شے کو بھی جب یہ قابلِ استعمال نہ رہے، فنا کر دینا چاہیے۔“

”یہ مجھے دو۔“ استاد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ طالب علم سے مجھے لیتے ہوئے دو تین بار جھلایا اور کہا ، ”جتنی میں نے سوچی تھی، یہ اس سے بھی ہلکی ہے۔۔ لیکن کسی کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ اگر غور کرو تو یہ تمہارے لیے مطالعے کا اچھا موضوع ثابت ہو سکتی ہے۔ اسے تمہاری پہلی مشق کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ہم سوچیں تو سہی کہ اس سے ہم آخر کیا سیکھ سکتے ہیں؟“

مجھے زمین سے بجاتے ہوئے وہ بوڑھا آدمی آگے چلنے لگا۔ طلباء اس کے پیچھے پیچھے آرہے تھے۔ وہ ہجوم سے کتراتے ہوئے اسٹیشن کے سامنے میدان میں آئے اور اردگرد کسی خالی بینچ کی تلاش میں نظر دوڑائی۔ تمام بنچوں پر لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ گھاس پر ایک دوسرے کے برابر بیٹھ گئے۔ اپنے دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر استاد نے روشنی میں میرا معائنہ کرتے ہوئے آنکھیں سکیڑ لیں۔ تب میں نے ایک عجیب بات دیکھی۔ دونوں طالب علموں نے ایک وقت میں اس بات پر غور کیا اور ایک ساتھ بول اٹھے ”ٹیچر، آپ کی مونچھ۔۔۔“

صاف لگتا تھا کہ یہ نقلی مونچھ تھی۔ اس کا بایاں کنارہ اتر کر لٹکا ہوا اور ہَوا کے دوش پر جھول رہا تھا۔ استاد نے سکون کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا اور تھوک میں بھیگی انگلی اس پر پھیر کر اسے واپس اپنی جگہ چپکا دیا۔ پھر یوں ظاہر کرتے ہوئے کہ جیسے کچھ بھی نہیں ہوا تھا، وہ اپنے دائیں بائیں بیٹھے طلباء کی طرف متوجہ ہوا اور بولا، ”اب بولو، تم اس چھڑی سے کیا نقطہ اخذ کر سکتے ہو؟ اس پر غور کرو، اس کا تجزیہ کرو۔۔ پھر ہم اس کی سزا کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔“

پہلے دائیں جانب بیٹھے طالب علم نے مجھے تھاما اور مختلف زاویوں سے معائنہ کیا، ”پہلی بات جو دیکھنے والے کے علم میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ اس کے دو حصے ہیں، ایک نچلا اور دوسرا گھسا ہوا اور خستہ ہے۔ اس کا میرے نزدیک مطلب یہ ہے کہ یہ چھڑی یونہی سڑک کے کنارے نہیں پھینک دی گئی بلکہ یہ لوگوں کے استعمال میں رہی ہے۔ اور یہ بات بھی واضح ہے کہ اسے کسی سخت کام کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس پر جگہ جگہ خراشیں پڑی ہوئی ہیں۔ مزید یہ کہ اسے ایک طویل عرصہ تک استعمال کے بعد ہی یوں پھینکا گیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب تک یہ استعمال ہوتی رہی، یہ ایک سادہ اور کارآمد اوزار تھی۔“

”تم نے جو کچھ کہا، وہ درست ہے۔۔ لیکن تمہارا تجزیہ خاصا تاثراتی ہے۔“

پھر بائیں جانب بیٹھے ہوئے طالب علم نے قدرے تند لہجے میں کہا، ”میرے خیال میں یہ چھڑی شاید بالکل ہی ناکارہ ہے ۔ یہ ضرورت سے زیادہ سادہ شے ہے۔ انسان کے لیے یہ بات باعثِ تحقیر ہے کہ وہ اس سادہ چھڑی کو کسی اوزار کے طور پر استعمال کرے۔ حتیٰ کہ ایک بندر بھی چھڑی کا استمال جانتا ہے۔“

”لیکن اس کے برعکس بات بھی کہی جاسکتی ہے۔“ دائیں جانب بیٹھے طالب علم نے بات بڑھاتے ہوئے کہا، ”کیا یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ چھڑی سے ہی ہر طرح کے اوزار کی ابتدا ہوئی۔ مزید یہ کہ اسے کچھ زیادہ تبدیل کیے بغیر ایک سے زیادہ طریقوں سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسے اندھا اپنی رہنمائی کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور اس سے کتے کو سدھارنے کا کام بھی لیا جا سکتا ہے۔ ایک لیور کے طور پر اس سے وزنی اشیاء کو دھکیلنے کا کام لیا جا سکتا ہے اور یہ جھگڑوں کے دوران بھی استعمال ہو سکتی ہے۔“

”چھڑی سے اندھا آدمی راہنمائی حاصل کر سکتا ہے؟ میرے لیے یہ بات ماننا مشکل ہے۔ میرے خیال میں ایسا نہیں ہوتا کہ اندھا چھڑی سے راہنمائی حاصل کرتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ اس چھڑی کی مدد سے وہ اپنی راہنمائی آپ کرتا ہے۔“

”خیر کیا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ایک قابلِ اعتماد اور کام کی شے ہے۔ اس سے استاد طالب علم کو پیٹنے کا کام بھی لے سکتا ہے۔“

”اگر استاد مجھے اس چھڑی سے پیٹ سکتا ہے تو کیا اس کی مدد سے میں بھی اسے نہیں پیٹ سکتا۔“

استاد قہقہہ مار کر ہنس دیا۔۔ ”تمہاری بحث کو سن کر مجھے واقعی خوشی ہوئی ہے۔ تم دونوں خربوزوں کے ایک جوڑے کی طرح معلوم ہوتے ہو۔ ایک ہی بات کو مختلف انداز میں کہہ رہے ہو۔ اگر میں تمہاری باتوں کو مختصر طور پر بیان کروں تو کہوں گا کہ یہ انسانوں کے استعمال میں آنے والی چھڑی ہے۔ اسے ایک انسان سے تشبیہ دینا ضروری ہو گیا ہے۔ بہر حال مختصر یہ کہ یہ چھڑی محض ایک چھڑی ہے۔“

”لیکن ۔۔۔“ دائیں جانب بیٹھے ہوئے طالب علم نے افسوس بھری آواز میں کہا: ”یہ کہتے ہوئے کہ یہ ایک چھڑی ہونے کے اہل ہے، کیا ہم اس کی خصوصیات کا اعتراف نہیں کر رہے ہیں۔ میں نے اسکول میں نمونوں سے بھرے ہوئے کمرے میں ہر طرح کے انسانوں کو دیکھا ہے لیکن کبھی ایک چھڑی کو نہیں دیکھا۔ اس طرح کی ایمانداری بالکل غیر معمولی بات ہے۔“

”نہیں نہیں۔ صرف اس بنا پر کہ نمونوں والے کمرے میں اس جیسی کوئی شے نہیں ہے، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ کوئی غیر انسانی شے ہے۔“ استاد نے جواب دیا، ”اس کے برعکس یہ ایک عام سے جگہ ہے، جہاں ہم نے اسے پایا۔ یہ مکمل طور پر ایک عام سی شے ہے اور اس لیے ہمیں اس کی کوئی خاص وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ کیوں ہم اسے اٹھائیں اور اس کا تجزیہ کریں۔“

طالب علموں نے جیسے اس بات سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے اپنے چہروں کو اٹھایا اور ارد گرد لوگوں کے ہجوم پر نگاہ دوڑائی۔

استاد مسکرایا۔ ”نہیں۔ معاملہ یوں نہیں ہے کہ یہ تمام لوگ چھڑیاں ہیں۔ جب میں کہتا ہوں کہ کسی شے کا چھڑی ہونا ایک بالکل عام سی بات ہے تو میرا اشارہ اس کی خصوصیات کی طرف ہے۔ یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ماہرین ریاضیات مثلث کی خصوصیات بیان کرنے پر زیادہ زور صرف کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ کیوں کہ اس پر وقت ضائع کرنے سے ہم کوئی خاص بات دریافت نہیں کر سکتے۔“ کچھ توقف کے بعد وہ پھر سے گویا ہوا۔ ”بہر حال تمہارے خیال میں ہمیں اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے۔“

”کیا ہمیں اس چھڑی کے لیے ضرور کوئی سزا تجویز کرنی چاہیے۔“ دائیں جانب بیٹھے ہوئے طالب علم نے جیسے بے یقینی کے ساتھ کہا۔

”تمہارا کیا خیال ہے؟“ استاد نے اپنے بائیں جانب بیٹھے ہوئے طالب علم سے پوچھا۔

”بلاشبہ ہمیں اس کے لیے کوئی سزا تجویز کرنی چاہیے۔ ایک مردہ شے کو سزا دینا ہی ہمارا اصل جواز ہے۔ چونکہ ہم زندہ اور موجود ہیں، اس لیے ہمیں اس کے لیے کوئی سزا تجویز کرنا چاہیے۔“

”تو پھر سوچ کر بتاؤ اس کے لیے کیا سزا مناسب رہے گی؟“

کچھ دیر کے لیے دونوں طالب علم گہری سوچ میں مستغرق ہو گئے۔ استاد نے مجھے پکڑتے ہوئے مٹی میں کچھ لکیریں کھینچنا شروع کیں۔ یہ ایک خاکہ تھا، جس کے کوئی خاص معانی نہیں تھے۔ اس خاکے نے جلد ہی بازو اور ٹانگیں باہر نکالیں اور ایک شیطانی صورت اختیار کرلی۔ پھر استاد نے تصویر کو مٹانا شروع کر دیا۔ اسے مٹا کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا اور پرے دیکھتے ہوئے بڑبڑاہٹ کے انداز میں بولا ”تم دونوں نے اس معاملے پر خاصا غور و غوض کیا ہے۔ اصل میں جواب اس لیے اتنا مشکل ہے کہ یہ بہت آسان ہے۔ تم چاہو تو میرے لیکچروں کو یاد کر کے اس جواب کو پا سکتے ہو۔ اس کا اس لیے تجزیہ کیا جائے کیوں کہ ان کا عام طور پر تجزیہ نہیں کیا جاتا۔“

”مجھے یاد ہے۔“ دونوں طالب علم ایک ساتھ بولے، ”عدالتوں کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ انسانوں کی ایک خاص تعداد کے بارے میں فیصلہ دے دیں۔ جب تک انسان لافانی نہیں ہو جاتا، ہمیں اس کے بارے میں لازماً فیصلہ دینا ہوگا۔ لوگوں کی اصل تعداد کے مقابلے میں ہمارے تعداد بہت کم ہے۔ اگر ہمیں مُردوں کے بارے میں ایک ہی انداز میں فیصلہ دینا ہو تو ایسا کرتے ہوئے ہم خود ہی موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ یہاں مخصوص تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں، جن کے بارے میں ہم کوئی فیصلہ نہ کرتے ہوئے ہی، فیصلے کرتے رہتے ہیں۔“

”یہ چھڑی اسی قسم کے انسانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔“ استاد نے مسکراتے ہوئے مجھے ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ میں نیچے گر گیا اور زمین پر لڑھکنے لگا۔ اپنے جوتے کی نوک سے مجھے روکتے ہوئے استاد نے کہا، ”اس لیے بہترین فیصلہ یہ ہے کہ اسے یہاں اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ کوئی اسے اٹھالے گا جیسا کہ تب اس کے ساتھ ہوتا تھا، جب یہ کارآمد تھی۔ وہ اسے ایک چھڑی کے طور پر ہی مختلف کاموں کے لیے استعمال کرے گا۔“

ان میں سے ایک طالب علم جیسے کوئی خیال سوجھنے پر بولا، ”اگر یہ چھڑی ہماری باتیں سن اور سمجھ رہی ہو تو اس کے کیا تاثرات ہوں گے؟“

استاد نے طالب علم کی طرف ترحم آمیز نگاہوں سے دیکھا لیکن کہا کچھ نہیں۔ پھر دونوں کو اشارے کرتے ہوئے وہ ایک طرف چل دیا۔ طالب علم جو میرے بارے میں فکر مند لگتے تھے، بار بار مڑ کر میری طرف دیکھتے تھے۔ جلد ہی وہ لوگوں کے ہجوم میں داخل ہو کر غائب ہو گئے۔ کوئی میرے اُوپر پیر رکھتے ہوئے گزر گیا۔ میں بارش سے نرم ہوجانے والی مٹی میں نصف سے زیادہ اندر دھنس گیا۔

”ڈیڈی۔ ڈیڈی۔۔ ڈیڈی۔۔۔“ میں نے آوازیں سنیں۔ وہ میرے بچوں کی آوازیں لگتی تھیں۔۔ لیکن وہ میرے بچوں کی آوازیں نہیں تھیں۔ یہ کوئی عجیب بات نہیں تھی کہ اس ہجوم میں موجود ہزاروں بچوں میں کچھ ایسے ہوں، جو اپنے باپوں کو پکار رہے ہوں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close