Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Pakistani-State-and-Fascism
کالماہم ترینتازہ ترین

ریاست اور فسطائیت

By Akhtar Rasool
مارچ 5, 2025 3 Min Read
0

بلوچ نوجوانوں کو جبری لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے، ریاست فسطائیت کی انتہائی حدوں پر پہنچ کر بلوچستان اور بلوچ نوجوانوں کی پُرامن جہدوجہد کے راستے بند کرتا جا رہی ہے، دنیا میں پُرامن ریلیوں احتجاجی دھرنوں کو انسانی بنیادی حقوق تسلیم کیا جا چکا ہے مگر کیا کیا جائے پاکستان میں نہ جہموریت ہے، نہ ہی جہموری قدروں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

آج سے دھائیوں پہلے جو تشدد سے، قتل عام سے بات منوانے کا چلن شروع ہوا ہے، وہ تھمنے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر شروع سے اس ریاست میں جہموریت کو رواج دے کر اس ملک کو کثیر القومی ریاست تسلیم کر کے یہاں پر آباد قوموں کے حقِ حاکمیت، ان کے وسائل معدنیات پر ان کا حق تسلیم کر کے ایک مضبوط مرکز کے بجائے مضبوط قومی اکائیوں کی بنیاد پر استوار کیا جاتا تو نہ آج کہیں تشدد کا رواج نہیں ہوتا، نہ ہی علیحدگی کی بات ہوتی، مگر وہی فسطائیت جاری ہے جو بنگلہ دیش میں روا رکھی گئی۔

کیا پُر امن جہدوجہد کا رستہ روک کر ملک مضبوط کیا جا سکتا ہے؟ کیا اس طرح بلوچ بچیوں، خواتین کو اغوا کر کے انہیں غائب کرنا بلوچ انسرجی پہ قابو پایا جا سکتا ہے؟ بلکل نہیں۔ یہ ایک احمقانہ سوچ ہو سکتی ہے مگر حقیقت پسندانہ بلکل بھی نہیں۔

بلوچ سیکیولر قوم ہے مگر اپنے ننگ عزت پہ بات آئے تو وہ ہر وہ رستہ اختیار کرتی ہے، جس سے اس کی عزتِ نفس محفوظ ہو، اگر نہیں تو جان دینے اور لینے پہ آ جاتی ہے۔

کچھ روز قبل صبح حب سے ہماری مظلوم بہن سیما اور بیٹی ماہ زیب کو گرفتار کر کے نامعلوم جگہ منتقل کرنا بلوچ روایتوں کی توہین ہے۔ کیا اب بھی کوئی پوچھے گا کہ بلوچ ناراض کیوں ہیں؟ اس طرح ایک پُرامن خواتین جہد کاروں کو، جو پہلے سے مظلوم ہیں، اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیئے جہدوجہد کر رہی ہیں، ان کا رستہ روکنا انہیں اس طرح گرفتار کرنا کہاں کا انصاف ہے اور کہاں کی جہموریت ہے؟

بلوچ جو اس ریاست سے پہلے ہی بے زار ہے، اس طرح ان کی بچیوں کی تذلیل بلوچ کو ریاست سے دور کر رہی ہے۔ بات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکی ہے، اس سے زیادہ پھر کیا ہو سکتا ہے۔

ایک نوجوان کہہ رہا تھا کہ ہم اس ریاست کو نہیں توڑ رہے، بلکہ اس ریاست کی پالیسیاں ریاست کو تقسیم کر دیں گی۔۔ اور وہی بات سچ ثابت ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ لاپتہ افراد کے لواحقین یہ نہیں کہہ رہے کہ ان کے پیاروں کو چھوڑ دیں، رہا کریں، بلکہ ان کا مطالبہ ہے کہ ان کے پیاروں کو فری ٹرائل کے لیئے عدالتوں میں پیش کریں، اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں سزا دیں، اس کے بدلے انہیں پُر امن جہدوجہد سے روکنا ان کی تذلیل کرنا اور کیا ثابت کرتا ہے؟

بات ساحل وسائل معدنیات پہ حق اور قومی حقِ خود ارادیت کی تھی اگر وہ مان لی جاتی تو یہ ملک مضبوط ہوتا، تضادات کم ہوتے، نفرتیں ختم ہوتیں، مگر اب تو بات نسل کُشی تک آ گئی ہے۔ اب کیا رستہ بچا ہے؟ ریاستی جبر، جبری طور پر اٹھانا لاپتہ کرنا، ماورائے عدالت قتل کرنا، مسخ کر کے پھینکنا نہ مسئلے کا حل ہے، نہ ہی مسئلے کو ختم کرے گا۔ اس سے نفرتیں اور بڑھیں گی۔ تشدد ہمیشہ مزید تشدد کو جنم دیتا ہے۔

آج جو عمل حب میں کیا گیا، یہ پیٹرول پر ماچس کی تیلی سلگا کر پھینکنے کے برابر ہے۔ بلوچ، کچھ بھی ہو، یہ تذلیل برداشت نہیں کرے گا۔

(نوٹ: کسی بھی بلاگ، کالم یا تبصرے میں پیش کی گئی رائے مصنف/ مصنفہ/ تبصرہ نگار کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے سنگت میگ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔)

Tags:

activism for justiceauthoritarian controlauthoritarian governmentauthoritarian ruleauthoritarianismauthoritarianism in South AsiaBaloch freedom movementBaloch GenocideBaloch identityBaloch Missing PersonsBaloch resistanceBaloch WomenBaloch youthBalochistanCivil Libertiescivil rightsdemocracy crisisdemocracy in pakistandictatorshipdisappearances in PakistanEnforced Disappearancesenforced disappearances PakistanEthnic Cleansingethnic discriminationethnic oppressionethnic struggleextrajudicial killingsfascism in Pakistanfascist policiesforced abductionsforced disappearances Balochistanforced disappearances Pakistanfreedom movementsfreedom of assemblyFreedom of Speechfreedom strugglegovernment corruptionhistorical injusticesHuman Dignityhuman rights abuseshuman rights crisis Pakistanhuman rights violationshuman rights violations Pakistanillegal arrestsindigenous rightsinjustice against BalochInjustice in Pakistaninternational human rightsinternational lawjudiciary in pakistanjustice for Balochlaw and justicelaw enforcement abuseLawlessnessmass arrestsmedia blackoutMedia Censorshipmedia suppressionmilitary oppressionmissing persons campaignmissing persons crisismissing persons familiesMissing Persons Pakistannational sovereigntynationalist movementsoppression of minoritiesPakistanpeaceful protestspeaceful resistancePolitical Activismpolitical awarenesspolitical discoursepolitical injusticepolitical oppressionpolitical resistancepolitical strugglePolitical Suppressionpolitical suppression Pakistanprotest crackdownsProtest Movementspublic resistanceregional conflictrights activismrule of lawself-determinationsocial justicestate accountabilitystate brutalitystate fascismstate hypocrisystate neglectstate repressionstate violencestate-sponsored violenceStruggle for Justicesystematic oppressionsystematic persecutiontruth and justicetruth and reconciliationunlawful detentionsunlawful imprisonmentunlawful trialsWar CrimesWomen Rights
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Pakistani-Judiciary-Parliament-and-Questions
Previous

عدلیہ، پارلیمان اور سوالات کے شرارتی بچے

The-Tree-the-Girl-and-738-Days-A-Unique-Protest-That-Made-History
Next

درخت، لڑکی اور 738 دن: ایک انوکھا احتجاج جو تاریخ بن گیا

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme