
امشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کے اہم راستوں میں رکاوٹ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک میں مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے۔
تجزیاتی اندازوں کے مطابق توانائی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان کو درآمدی ایندھن مہنگے داموں حاصل ہو رہا ہے۔ چونکہ ملکی معیشت کا بڑا حصہ بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا ہے، اس لیے عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست مقامی مہنگائی کو متاثر کرتی ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ تیل کی ترسیل میں رکاوٹ اور عالمی سپلائی کے دباؤ کے باعث نہ صرف خام تیل مہنگا ہوا ہے بلکہ اس کے ساتھ نقل و حمل، انشورنس اور دیگر اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا اثر عام شہری تک پہنچ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق خاص طور پر ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ڈیزل ٹرانسپورٹ کے شعبے کی بنیاد ہے، اور جب اس کی قیمت بڑھتی ہے تو اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے۔ یوں سبزی، آٹا، چینی اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:
سعودی فوجی اڈے پر میزائل اور ڈرون حملہ، 12 امریکی اہلکار زخمی؛ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں تیزی
ٹرمپ پالیسیوں کے بعد خلیجی ریاستوں کی سکیورٹی پر سوالات، دبئی اور قطر کا ’محفوظ جنت‘ کا تصور متاثر
معاشی جائزوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں پاکستان کو مختلف درجے کے معاشی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر صورتحال معمولی رہی تو مہنگائی میں محدود اضافہ ہوگا، لیکن اگر دباؤ بڑھا تو مہنگائی دو ہندسی سطح تک جا سکتی ہے۔ شدید بحران کی صورت میں مہنگائی 12 فیصد سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
مزید یہ کہ درآمدی بل میں اضافے سے ملکی مالیاتی توازن بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اندازہ ہے کہ تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر اضافی اخراجات کے باعث بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھے گا، جس سے روپے کی قدر بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
حکومتی سطح پر بھی اس صورتحال پر تشویش پائی جا رہی ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ایندھن کا استعمال محتاط انداز میں کریں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔
ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے عمل کو شفاف بنایا جائے، ذخائر کی مؤثر نگرانی کی جائے اور خاص طور پر ڈیزل کی ترسیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ سپلائی کا نظام متاثر نہ ہو۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایندھن کی قیمتیں، مہنگائی اور بیرونی مالیاتی صورتحال آپس میں گہرا تعلق رکھتی ہیں، اور موجودہ حالات میں کسی بھی ایک شعبے میں دباؤ پورے معاشی نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
یمن کے حوثیوں کا اسرائیل پر میزائل حملہ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی