سندھ سلطنت: سندھو کی کہانی، اسی کی زبانی (قسط76)

شہزاد احمد حمید

میں نے سندھو سے پوچھا؛ ”دوست! تمھارا میدان کتنے رقبے پر پھیلا ہے۔“ سندھو کہنے لگا؛ ”تقریباً 2 لاکھ مربع میل پر پھیلا یہ انتہائی زرخیز، اور سرسبز و شاداب میدان ہے۔ تم اسے 3 حصوں میں تقسیم کر سکتے ہو۔ ہمالیہ پیڈی منٹ؛ یہاں میں پہاڑوں اور تنگ دروں میں سے گزرتا ہوں۔ سندھ دوآب یا سلمان پیڈی منٹ؛ سندھ اور جہلم کا درمیانی علاقہ۔ اس کا مشرقی علاقہ انتہائی زرخیز ہے۔ یہاں بند بنا کرمیری طغیانی روکنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس میں ریتیلا علاقہ بھی شامل ہے۔ کوہ سلمان سے آنے والے بہت سے ندی نالے اس حصے میں میری طغیانی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ”لوئر انڈس پلین“ اس حصے میں میری رفتار بہت سست ہے۔ یہیں میرا ڈیلٹا ہے اور یہیں ایشیاء کی تازہ پانی کی بڑی جھیلوں میں سے ایک جھیل منچھر واقع ہے۔“

میں اس وقت دو سو چالیس (240) کلو میٹر پر پھیلے دنیا کے پانچویں بڑے ڈیلٹا پر بیٹھا ہوں۔ ڈیلٹا وہ جگہ ہے جہاں دریا سمندر میں اترتے ہیں۔ میری نگاہیں سندھو پر ٹکی ہیں، جو لاکھوں سالوں سے بہہ رہاہے۔ شاید اس سے بھی بہت پہلے سے جب سے تاریخ باقاعدہ طور پر تحریر میں لکھی جانے لگی ہے یا شاید اس وقت سے جب انسان کا وجود بھی نہ تھا یا شاید اُس وقت سے جب زمین نے سمندر کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔

ڈیلٹا میں پانی کی مقدار اور رفتار دیکھ کر میرے آنسو بہہ نکلے ہیں۔ میں سوچ میں ڈوب گیا ہوں۔۔ کس طرح سندھو پچھلی چار پانچ دھائیوں میں بدل گیاہے۔ ڈیلٹا سکڑ گیا ہے۔ پانی کی مقدار کم ہو گئی ہے۔ اس کے پیندے میں ریت اور مٹی بڑھ گئی ہے۔ اس کے کنارے زندگی کی رونقیں سمٹ گئی ہیں۔ اس کے پانیوں پر اترنے والے مہاجر پرندوں کی تعداد کم ہو گئی ہے۔ کبھی ڈیلٹا زرخیز اور سندھ خوشحال تھا۔ اب یہ سب قصہ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ ہم نے ڈیمز بنا کے پنجاب اور سندھ کی زمینوں کو شاداب تو کر دیا ہے مگر بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔۔ یہ سوال اہل دانش کی توجہ چاہتا ہے۔ پانی کا معاملہ آنے والے دنوں میں پاک ہند تعلقات پر گہرا اثر انداز ہوگا۔ اس معاملہ پر توجہ ہماری اولین فوقیت ہونی چاہیے۔یہ تو کبھی کسی کے خیال میں بھی نہ گزرا ہوگا کہ اس کے ڈیلٹا پر تازہ پانی ہی نہیں رہے گا۔ دکھ کی بات ہے یہ سب ہم اپنی زندگی میں ہی دیکھ رہے ہیں۔ وہ سندھو جس سے سامان تجارت ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا تھا، جس کے کنارے آباد لوگ عمدہ کپڑا تیار کرتے تھے۔ وہ سندھو جس کے کنارے دنیا کی عظیم تہذبیں آبا د تھیں، اب یہاں ایسا کچھ بھی نہیں رہا ہے۔ وہ سندھو جس کو یونانی جہازراں تمام دریاؤں کا سردار کہتے تھے۔ وہ سندھو جو دریاؤں کا باپ کہلاتا تھا، سمندر میں بھی سرداروں کی طرح اترتا تھا۔ انگلینڈ کے شاعر، مؤرخین اور ڈرامہ نگاروں نے ہندوستان کے دو ہی دریاؤں کا تذکرہ اپنی شاعری، تاریخ اور ڈراموں میں کیا ہے ایک سندھو اور دوسرا گنگا۔ نا جانے سندھو کو کس کی نظر لگی ہے۔ جو لوگ اس کی نظر اتار کر خود کو بچاتے تھے آج منتظر ہیں کہ کوئی اس کی نظر اتارے تاکہ یہ خود کو بچائے پائے۔دنیا کا یہ عظیم دریا اور میرا دوست نہ جانے مزید کتنے عرصے زندہ رہے گا۔

سندھو کا ڈیلٹا 2 اضلاع ٹھٹہ اور حیدرآباد میں پھیلا ہے۔ اسے دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ الف؛ active ب؛ unactive

ایکٹو active ڈیلٹا سو (100) کلو میٹر میں پھیلا ہے جبکہ باقی اب خاموش (unactive) ہے۔ (ٹھٹہ سے بحیرہ عرب تک)۔ پانی کا سالانہ ڈسچارج ایک سو اسی (180)بلین کیوسک ہے اور یہ دریا سالانہ چار سو (400) ملین ٹن سلٹ اپنے ساتھ لاتا ہے۔ ڈیلٹا کا اوسط درجہ حرارت گرمیوں میں اکیس سے تیس ڈگری جبکہ سردی کے موسم میں دس سے چوبیس ڈگری ہوتا ہے۔ سالانہ اوسط بارش دوسو پچاس (250) تا پانچ (500) سو ملی میٹر (دس تا گیارہ انچ) ہے۔ 1940ء سے سمندر میں گرنے والے پانی میں بتدریج کمی آئی ہے۔ اس کی بڑی وجوہات نہری نظام، ڈیمز کی تعمیر، ماحولیاتی تبدیلی ہیں۔ ماحول بھی متاثر ہوا ہے۔ اس کے کنارے آباد بہت سی بستیاں اجڑ گئی ہیں گو چند نئی آباد بھی ہوئی ہیں۔ یہ سب کچھ سندھو کے رخ کی تبدیلی یا منہ زور سیلابوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ سارا سال تیز ہوائیں چلتی ہیں۔ گرمیوں میں ان کا رخ شمال مغربی سمت ہوتا ہے اور سردیوں میں جنوب مشرقی۔ یہ ہوائیں ”انرجی ویوز“ سے بھی بھر پور ہیں۔ دریائے سندھ کی ایک ماہ کی انرجی ویوز امریکہ کے ”دریائے مسسپی“ کی سال بھر کی انرجی ویوز کے برابر ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈیلٹاہے۔ اس کے کنارے ونڈ ملز لگا کے سستی بجلی پیدا کرنے کے کئی منصوبے زیر غور ہیں۔

اس ڈیلٹا پر دنیا کا چھٹا بڑا ”منگروو“ (mangroves) جنگل چھ (6) لاکھ ہیکٹر رقبے پر پھیلا ہے۔ ایک لاکھ چالیس (140000) ہزار ہیکٹر پر گنا، چاول، باجرہ، سرسوں، مکئی، کپاس کے علاوہ انار، آم سیب، ناریل، آڑرو، کیلا، خربوزہ اور پپیتا کاشت کیا جاتا ہے۔

سندھو بتاتا ہے ”سکندر اعظم کا بیڑا بھی 325 قبل مسیح میں مصر جاتے ہوئے کچھ دیر کے لئے یہاں رکا تھا۔ تاریخ ہند (چچ نامہ) کے مطابق؛ ”چھٹی صدی عیسوی میں دیبل کی بندرگاہ بھی اسی مقام پر تھی جہاں آج میرا مغربی ڈیلٹا ہے۔ دیبل کے ”ناگا قبائل“ کے قذاقوں نے مسلمانوں کے تجارتی قافلے کو لوٹاتو خلیفہ عبدالمالک نے سندھ کے حکمران راجہ داہر کو اُن کے خلاف کارروائی کے لئے کہا۔ انکار پر خطہ کی تاریخ بدل دی جب محمد بن قاسم نے712 ء میں دیبل اور ارد گرد کا علاقہ فتح کیا اور ملتان تک جا پہنچا۔ تاریخ کے اوراق میں 1223ء تک اس بندرگاہ کا ذکر ملتا ہے۔ ابن بطوطہ جب سندھ آیا تو وہ لکھتا ہے؛ ”دیبل کی بندرگاہ کو غیر آباد ہوئے عرصہ بیت چکا ہے۔ محمد بن قاسم کے جانے کے بعد یہ ڈیلٹا مختلف حکمرانوں کے قبضہ میں رہا۔ کچھ پر عباسی خلفاء کا کنٹرول رہا اور کچھ پر سومرا قبیلے کا۔ ڈیلٹا کے قدیم مقامات میں سے اب کسی کا بھی نام و نشان باقی نہیں ہے۔“ سندھو مزید کچھ نہ کہہ سکا۔ باتیں کرتے کرتے اس کا سانس اکھڑنے لگا ہے۔

یہ ڈیلٹا دنیا کا اہم ترین خطہ اور نقل مکانی کرکے یہاں آنے والے ایک سو پنتالیس (145) مختلف اقسام کے پرندوں کا مسکن بھی ہے۔ ان میں بائیس کا تعلق سندھو سے ہے جبکہ باقی ہجرت کرکے یہاں پہنچتے ہیں۔ یہاں ڈولفن کی خاص نسل ”بلائنڈ ڈولفن“ بھی پائی جاتی ہے۔ ایسی ڈولفن دریائے گنگا میں بھی ہے لیکن اس کی اور سندھو کی نسل میں فرق ہے۔ آبی زندگی میں 26 قسم کی مچھلی بھی پائی جاتی ہے جن میں پلا، گولڈن مہاشیر، indus garua indus baril کے علاوہ سانپ کی شکل کی مچھلیاں شامل ہیں۔ ان میں قابل ذکر chauna marolios بھی ہے جو دو میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے۔ ”ہلسا مچھلی“ تو ایک دم میں ستر (70) میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہے۔ پلا مچھلی تو اس دریا کی سوغات اور دریائی لوگوں کی من بھاتی خوراک ہے۔ سندھو کی جھولی سے صدیوں سے ماہی گیر اپنا رزق حاصل کرتے رہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ جھولی سکڑتی جارہی ہے۔

مچھیرے اکبر پنہور کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ اس کے آباؤ اجداد نے کب ماہی گیری کا پیشہ اپنایا تھا۔ البتہ اسے یہ اچھی طرح یاد ہے ”کہ دو دہائیاں قبل تک سندھو اور وہ دونوں ہی خوشحال تھے۔ اب ان کے جال خالی لوٹنے لگے ہیں۔“ اس کا کہنا ہے کہ بعض دفعہ تو بچوں کے لئے بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی ہے۔ تربیلا، تونسہ، گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجز نے سندھو کے بہاؤ میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ اس کے ڈیلٹا تک پانی کی مقدار انتہائی کم ہو گئی ہے۔ ڈیلٹا کے اضلاع بھی کافی متاثر ہوئے ہیں اور اب داسو ڈیم سے پانی مزید کم ہو جائے گا اور ماہی گیری بھی خطرے میں پڑ جائے گی۔“

سندھی ماہی گیروں کا خیال بلکہ شکوہ ہے کہ ”ڈیموں کی تعمیر نے سندھو کی ڈاؤن اسٹریم زندگی مشکل کر دی ہے۔ جن لوگوں کا صدیوں سے سندھو کے پانی پر حق تھا آج انہیں زراعت، مال مویشی تو دور کی بات خود پینے کے لئے بھی پانی میسر نہیں رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے مچھلی کا کاروبار صدیوں سے یہاں کے لوگوں کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دریائی لوگوں کی کثیر تعداد تقریباً 70 فی صد(70) مچھلی جبکہ (سترہ) 17فی صد زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔“

پانی نہ ہونے سے سندھو کے اطراف جنگل بھی کم پڑنے لگے ہیں، دوسرے الفاظ میں ختم ہو رہے ہیں۔ دریائی لوگ سندھو سے بے دخل ہو رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق آٹھ لاکھ لوگ ڈیلٹا سے نقل مکانی کر گئے ہیں اور بہت سے نقل مکانی کی تیاری میں ہیں۔”انسٹیٹیوٹ آف اوشیونو گرافی“ کی رپورٹ کے مطابق؛ ”ہر سال سمندر کی سطح میں ایک اعشاریہ تین فی صد (1-3) اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت سندھ کے مطابق پنتیس لاکھ (3500000) ایکڑ زمین سمندر برد ہو چکی ہے یا بنجر بن چکی ہے۔

ماہر ماحولیات ناصر پنہور کے مطابق؛ ”سمندر آگے بڑھنے سے زیر زمین میٹھے پانی کے ذخائر بھی کھارے ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف لوگ میٹھے پانی سے محروم ہو رہے ہیں تو دوسری طرف زمین بنجر ہو رہی ہے۔ سندھو کے پانی میں سلٹ نہ آنے کی وجہ سے سمندر آگے بڑھ رہا ہے۔ ”تمر“ کے پودے تباہ ہو ئے ہیں لیکن اب ان کو دوبارہ لگایا گیا ہے۔ یہ پودے آبی حیات جیسے مچھلی، جھنگے اور کیکڑوں کی افزائش کے لئے اہم ہیں۔ یہاں کی انیس (19) جھیلوں اور سندھو کے ڈیلٹا کو عالمی ”رامسر کنونشن“ (اس کنونشن پر ایران کے شہر رامسر (ramser) میں 1971ء میں دستخط کئے گئے تھے) کے تحت تحفظ دیا گیا ہے۔ یہاں کئی قسم کے نباتات، پرندے اور حیوانات پائے جاتے ہیں۔سرد علاقوں سے جو پردیسی پرندے ادھر کا رخ کرتے ہیں ان کا راستہ بھی انڈس ڈیلٹا کے اوپر سے ہی گزرتا ہے۔ یہ ”انڈس فلائی زون“ کہلاتا ہے۔ ڈیلٹا میں پانی کی کمی کی وجہ سے جھیلیں بھی خشک ہو رہی ہیں۔ ناصر پنوار کے مطابق پانی کی ترجیح میں پہلے زراعت، پھر انسان اور آخر میں صنعت ہونی چا ہیے۔“

ماہی گیر راہنما ”محمد علی شاہ“ کہتے ہیں؛ ”دریا زندہ ہستی ہوتے ہیں اور وہ زندہ ہستی اس وقت تک ہوتے ہیں جب تک ان کا قدرتی بہاؤ جاری رہے۔ ہم نے پہلے ڈیمز بنا کر سندھو کو معذور کیا ہے اور اب مزید ڈیم بنا کر اس کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ دنیا میں ہر دریا کی منزل ڈیلٹا اور پھر سمندر ہے۔ اسے اس کی منزل تک پہنچنے کا حق ملنا چاہیے۔اس مسئلے کا ایک حل ہو سکتا تھا کہ ہم چھوٹے ڈیم بناتے تاکہ سندھو کے ڈیلٹا تک پانی کا بہاؤ جاری رہتا۔ ابھی سمندر برد ہوتی زمین کی حفاظت کا ذمہ تو کسی کو لینا ہے ورنہ آنے والے وقت میں مشکلات مزید بڑھیں گی۔ 2003ء کی ایک رپور ٹ کے مطابق سندھو کے ڈیلٹا پر نو(9) لاکھ لوگ آباد ہیں۔ ان کی زبان سندھی، مذھب اسلام اور تعلق سومرو، جت اور بلوچ قبائل سے ہے۔ ان کے پاس صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں یا ناکافی ہیں۔ مچھلی پکڑنا ان کا محبوب پیشہ ہے۔ یہ چھوٹے موٹے جرائم بھی کرتے ہیں اور جرائم پیشہ لوگوں کو پناہ بھی دیتے ہیں۔“

اس سفر کے دوران میں بہت لوگوں سے ملا ہوں، عام آدمی سے لے کر خاص تک۔۔ ان میں غریب کسان بھی ہیں اور مزدور بھی، وڈیرے بھی ہیں اور سردار بھی، ہاری بھی ہیں اور ظالم منشی بھی۔ پرانی سوچ والے سندھی بھی ہیں اور پڑھے لکھے ماڈرن نوجوان بھی۔ پسماندہ خواتین بھی ہیں اور پڑھی لکھی لڑکیاں بھی۔ تعلیم اور شعور نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ پرانی سوچ، پرانی روایات کو، ظلم سہنے، مظلوم رہنے کو۔ آنکھیں جھکانے اور آنکھیں دکھانے کو۔ اپنے حقوق چھوڑنے اور اپنے حق کے لئے آواز اٹھانے کو۔ اب نہ وقت پہلے جیسا رہا ہے اور نہ ہی سوچ۔ نئے زمانے، نئے تقاصوں نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ بہت کچھ بدلنے کو ہے۔ وقت تیزی سے آگے جا رہا ہے اور انسان تیزی سے پیچھے کو۔۔

دریائے سندھ جو تبت میں سنگی کھابب سے شروع ہوتا تبت کی بلند و بالا چھت، ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں سے بہتا دوسرے دریاؤں نالوں کا پانی خود میں سموتا اکتیس سو اسی (3180) کلو میٹر کا فاصلہ طے کرکے بحیرہ عرب پہنچتا ہے۔ انسانوں اور بستیوں میں زندگی کا سامان پیدا کرتا، اپنا راستہ خود تراشتا، م روکاوٹیں دور کرتا، مٹاتا، سینے میں صدیوں کے راز چھپائے یہ سفر طے کرتا ہے۔ اس طویل سفر کے دوران کہیں یہ شیر دریا، کہیں دیوتا، کہیں سمندر، کہیں دریاؤں کا باپ، کہیں سندھ اور کہیں اڈیرولال کہلاتا ہے۔ سمندر تک پہنچتے بھی اس کی سرکشی جاری رہتی ہے۔ یہ اپنی لائی مٹی سے زمین چھین کر سمندر کو پیچھے دھکیلتا اپنا راستہ خود بناتا سمندر میں اترتا ہے۔ شیروں کی طرح۔۔ یہ کل بھی شیر تھا لیکن آج یہ بوڑھا شیر ہے۔

سندھو میرے دل میں یوں اترا ہے جیسے اس کے کنارے بسے لوگوں کی زندگی میں۔۔تبت کے پہاڑوں سے لے کر پنجاب اور سندھ کے میدانوں تک اس کے کنارے آباد لوگ ہزاروں سال سے سندھو کو پوجتے آئے ہیں۔ شاعر اپنی شاعری میں اس کا تذکرہ کرتے رہے ہیں۔ سیاح اس کی روانی کے گن گاتے رہے ہیں۔صوفی اور درویش اسے مقدس خیال کرتے رہے ہیں۔ گو میرا دوست سندھو آج ویسا نہیں رہا جیسا اس کا ذکر ہم سنسکرت کے گیتوں، یونانی کہاوتوں، ایرانی تاریخ اور ہندوستانی کہانیوں میں پڑھتے آئے ہیں۔ اب یہ سمٹ گیا ہے اور اس پر لکھے گیت، کہانیاں، کہاوتیں بھی ماضی کا قصہ ہی بنتے جا رہے ہیں۔ اس پر تعمیر کئے گے ڈیمز نے اس کی روانی اور جوش کو مدہم کر دیا ہے مگر یہ اب بھی اس بوڑھے بدمعاش کی طر ح ہے، جس کے بڑھاپے سے بھی لوگ ڈرتے ہیں۔ ہر سال زنجیروں کو توڑ کر یوں بپھرتا ہے کہ کسی کے بھی قابو میں نہیں آتا ہے۔ مرضی والا جو ٹھہرا۔ ڈیمز نے سونے اگلتے کھیت تو آباد کئے لیکن اس کی جوانی کو گہنا دیا ہے۔

میں نے آنکھیں موندیں تو مجھے تخیل میں سنسکرت کے گرو، یونانی مورخ، ہندو برہم چاری، بدھ بھکشو اور مسلمان صوفیا کرام کے گیت اور قصے میرے کانوں کی سماعت سے ٹکرا رہے ہیں، جن میں سندھو کے جلال کی باتیں ہیں، اس کے کمال کی باتیں ہیں، اس کی ہنگامہ خیزی کے قصے ہیں، کہانیاں ہیں جو صدیوں سے یونانی، ایرانی، چینی، ہندوستانی زبانوں اور الفاظ میں ہم تک پہنچی ہیں۔ مجھے ڈر ہے عظیم سندھو سے جڑی عظیم روایات اور کہانیاں کہیں وقت کے دھارے میں کھو نہ جائیں جیسے قدیم دور میں یہاں کے مگر مچھ، گھنے جنگل، خونخوار جانور اور مختلف سرد ممالک سے آنے والے مہمان پرندے کھو گئے ہیں۔ (وقت کے ساتھ ان پرندوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے)۔ بلائنڈ ڈولفن کی تعداد میں بھی کم ہوئی ہے۔ باقی جانور تو یوں غائب ہوئے ہیں، جیسے کبھی یہاں رہتے ہی نہیں تھے۔ شاید ہمارے لئے یہ وارننگ ہے۔ عظیم سندھو کی روانی کو بچانے کے لئے اس سے محبت کرنے والوں کو آگے آنا ہوگا۔ (جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ’بُک ہوم‘ نے شائع کی ہے، جسے ادارے اور مصنف کے شکریے کے ساتھ سنگت میگ میں قسط وار شائع کیا جا رہا ہے. سنگت میگ کا لکھاری سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close