لاہور میں پیدا ہونے والے انڈین کبیر بیدی کی کہانی، جو اٹلی کے سپر اسٹار بنے!

ویب ڈیسک

بالی وڈ سے انٹرنیشنل سنیما تک کا سفر تو بہت سے بھارتی اداکاروں نے طے کیا ہے، لیکن اپنے ملک سے باہر جو پذیرائی اداکار کبیر بیدی کو ملی، وہ خاصی مختلف ہے۔ اداکار کبیر بیدی کو اٹلی میں سپر اسٹار کا درجہ حاصل ہے اور اطالوی حکومت کی جانب سے ان کو دیے گئے متعدد اعزازات اس بات کا ثبوت ہیں

کبیر بیدی کی پیدائش 16 جنوری 1946 کو صوبہ پنجاب کے شہر لاہور (اب پاکستان میں ہے) پنجابی سکھ خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والد نے برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے وقت ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑتے ہوئے اپنے آپ کو وقف کردیا۔ ان کے والد بابا پیارے لال سنگھ بیدی مصنف اور فلاسفی تھے۔ ان کی والدہ فریڈا بیدی انگلینڈ کے شہر ڈربی میں پیدا ہوئیں۔ وہ برطانوی تھیں۔ کبیر بیدی کی تعلیم شیرووڈ کالج، نینی تال، اترا کھنڈ کے علاوہ دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ہوئی۔

کبیر بیدی نے اپنے کیریئر کا آغاز ہندوستانی تھیٹر سے کیا اور پھر ہندی فلموں کی طرف رخ کیا۔ وہ ہندوستان کے پہلے بین الاقوامی اداکاروں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے ہندی فلموں میں شروعات کی ساتھ ہی ہالی ووڈ فلموں میں کام کیا اور یورپ میں مشہور اسٹار بنے۔

ان کا کیریئر تین براعظموں پر محیط ہے، جس میں ہندوستان، امریکہ اور خاص طور پر اٹلی کے علاوہ دیگر یورپی ممالک تین ذرائع ابلاغ میں شامل ہیں: فلم، ٹیلی ویژن اور تھیٹر وہ ’تاج محل‘ میں شہنشاہ شاہ جہاں کے کردار کے لیے مشہور ہیں. ایک ابدی محبت کی کہانی اور 1980 کی دہائی کی بلاک بسٹر فلم ’خون بھری مانگ” میں منفی کردار میں بہترین اداکاری کی۔ 1983 میں جیمز بانڈ کی فلم ’آکٹوپسی‘ میں منفی کردار کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن ستر کی دہائی میں انہوں نے اٹلی اور یورپ میں مشہور اطالوی ٹی وی سیریز میں سمندری ڈاکو ’سینڈوکن‘ کا کردار ادا کیا، جس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا۔

یورپ میں، ان کی سب سے بڑی کامیابی ’سیندوکن‘ ہی کو سمجھا جاتا ہے۔ جو برطانوی نوآبادیاتی دور میں ایک رومانوی جنوب مشرقی ایشیائی بحری قزاق کی کہانی پر مشتمل تھی۔ ایک اطالوی-جرمن-فرانسیسی ٹی وی سیریز، جس نے پورے یورپ میں ناظرین کے ریکارڈ توڑ دیے۔

ایک ایسے وقت میں، جب بھارتی اداکاروں کو ملک سے باہر مرکزی کردار میں کم ہی کاسٹ کیا جاتا تھا، کبیر بیدی کی کامیابی نے نہ صرف آنے والے اداکاروں کے لیے راستے کھولے بلکہ انہوں نے ہالی وڈ میں جیمز بانڈ کی فلم میں مرکزی ولن کا کردار نبھایا

اپنی آپ بیتی ’اسٹوریز آئی مسٹ ٹیل‘ میں کبیر بیدی نے بالی وڈ سے لے کر ہالی وڈ تک ہر اس اہم بات پر گفتگو کی ہے، جس نے ان کے کریئر کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا

ایک اسٹیج اداکار کے طور پر کبیر بیدی نے شیکسپیئر کے اوتھیلو کے ساتھ ساتھ تغلق میں ایک تاریخی ہندوستانی بادشاہ اور دی وولچرز میں خود کو تباہ کرنے والے شرابی کی بہترین اداکاری کی۔ لندن میں انہوں نے شافٹسبری تھیٹر میں ایم ایم کائے کے ناول کی ویسٹ اینڈ میوزیکل موافقت The Far Pavilions میں اداکاری کی۔ یہ ڈرامہ ٹورنٹو میں لومیناٹو فیسٹیول کے لیے کینیڈین ڈرامہ نگار جان مریل نے لکھا تھا۔

کبیر بیدی کے خیال میں 70 کی دہائی میں اگر وہ اسٹیج پلے ’تغلق‘ میں حاضرین کی جانب شرٹ کے بغیر پیٹھ کرکے نہ کھڑے ہوتے تو اس وقت بھارت میں موجود اطالوی پروڈیوسرز شاید انہیں نوٹ نہیں کرتے۔

انہیں ‘سندوکن’ کے فکشنل کردار سے مشابہت کا بعد میں اندازہ ہوا، جس کی وجہ سے انہیں کاسٹ کیا گیا تھا۔

بہرحال ’سندوکن‘ کی کامیابی کبیر بیدی کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بنی

ایمیلیو سیلگاری نامی اطالوی مصنف نے سن 1895 سے 1913 کے درمیان ’سندوکن‘ سیریز تحریر کی، جس میں مرکزی کردار ملائیشیا کا ایک سابق شہزادہ ہوتا ہے، جو اپنی ریاست کھو جانے کے بعد بحری قذاق بن کر برطانوی اور ڈچ جہازوں کو لوٹتا ہے۔

اس کردار پر ہالی وڈ سمیت دنیا بھر میں کئی فلمیں اور ٹی وی شوز بنے، لیکن سب سے زیادہ پذیرائی 70 کی دہائی میں بننے والی اس سیریز کو ملی، جس میں مرکزی کردار کبیر بیدی نے ادا کیا تھا۔

اپنی کتاب میں کبیر بیدی بیان کرتے ہیں کہ پروڈیوسرز نے جب آڈیشن کی غرض سے بھارت کا رخ کیا تو ان کے دماغ میں کئی اداکار تھے، لیکن انہیں بعد میں پتہ چلا کہ ’سندوکن‘ سے مشابہت کی وجہ سے ان کے بعد کسی اور اداکار کا آڈیشن نہیں ہوا۔

کبیر بیدی نے نہ صرف منی سیریز کے اٹلی میں ہونے والے آڈیشن کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ کا خرچہ خود اٹھایا بلکہ جب 1976 میں سیریز کے آن ائیر ہونے کے بعد وہ پہلی بار اٹلی گئے تو ایئرپورٹ سے لے کر ہوٹل تک ہر طرف انہیں دیکھنے، چھونے اور بات کرنے کے لیے مجمع موجود تھا۔

وہ بیان کرتے ہیں کہ اس دورے پر ان کی اس وقت کی گرل فرینڈ بالی وڈ فلم اسٹار پروین بوبی بھی ان کے ہمراہ تھیں لیکن اطالوی عوام نے انہیں لفٹ نہیں کرایا، جس کا انہوں نے برا بھی منایا۔

کبیر بیدی لکھتے ہیں کہ ’سندوکن‘ کی کامیابی کے بعد بہت سے اطالوی والدین نے اپنے لڑکوں کے نام کبیر رکھنے کی کوشش کی لیکن مقامی زبان میں لفظ ’کاف‘ نہیں ہوتا اس لیے وہ ایسا نہ کر سکے۔

’سندوکن‘ کی کامیابی کے بعد انہوں نے اسپین کے ایک پروموشنل ایونٹ کا بھی ذکر کیا، جہاں سے انہیں صرف اس لیے بھاگنا پڑا کیوں کہ جس بلڈنگ میں ایونٹ تھا، اس میں گنجائش سے زیادہ افراد ہونے کی وجہ سے اس کے گرنے کا خدشہ تھا۔

اداکار کے بقول اس وقت انہوں نے سڑک پر رکی ہوئی گاڑیوں کی چھت پر بھاگ کر تو اپنی جان بچالی تھی لیکن اگلے دن ان گاڑیوں کے مالکان نے پولیس سے شکایت کی جس کا ازالہ پروڈیوسرز کو کرنا پڑا۔

کبیر بیدی نے اپنی کتاب میں جہاں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی، ان کے بچوں سنجے اور راہل گاندھی سے قریبی تعلق کا تذکرہ کیا ہے ، وہیں انہوں نے اس انٹرویو پر بھی بات کی، جس نے انہیں شوبز کی طرف دکھیلا۔

انہوں نے 1966 میں مشہور برطانوی راک بینڈ ’دی بیٹلز‘ کے انٹرویو کا احوال بتاتے ہوئے لکھا کہ جس وقت ’دی بیٹلز‘ بھارت آئے، اس وقت وہ آل انڈیا ریڈیو میں بطور فری لانس رپورٹر کام کرتے تھے۔

انہوں نے اپنے پروڈیوسرز کو جب ’دی بیٹلز‘ کا انٹرویو پچ کیا تو کسی کو یقین نہیں آیا۔

لیکن چوں کہ کبیر بیدی ایک مداح ہونے کی وجہ سے راک بینڈ کے مینیجر برائن ایپسٹین کو پہچانتے تھے، اس لیے انہوں نے مینیجر کے سامنے اپنا کیس رکھا، جس نے آل انڈیا ریڈیو پر تو زیادہ توجہ نہیں دی البتہ حکومتی ادارے کی وجہ سے کبیر بیدی کو ٹائم دے دیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بیٹلز بھارت آنے سے پہلے فلپائن گئے تھے، جہاں کی فرسٹ لیڈی کی ایک نجی دعوت میں پرفارم کرنے کی درخواست منع کرنے پر انہیں وقت سے پہلے ہی نکلنا پڑا، اسی لیے حکومتی ادارے کا سن کر مینیجر نے کبیر بیدی کو انٹرویو کی اجازت دی، جسے انہوں نے ایک یادگار تجربہ قرار دیا۔

اس دورے پر بیٹلز نے کسی اور بھارتی صحافی کو انٹرویو نہیں دیا لیکن جب بغیر کسی پروموشن کے وہ تاریخی انٹرویو آن ائیر ہوا تو کبیر بیدی کو اچھا نہیں لگا۔ بعد میں جب اس انٹرویو کی آڈیو ٹیپ ضائع کردی گئی تو کبیر بیدی نے ریڈیو چھوڑ کر ’دور درشن‘ ٹی وی کا رخ کیا۔

بھارت کے نیشنل ٹی وی میں تجربہ حاصل کرنے کے بعد کبیر بیدی پہلے اشتہارات کی دنیا میں بطور کری ایٹیو گئے پھر ماڈلنگ کی اور آخر میں اداکاری کی فیلڈ میں قدم رکھا۔

کبیر بیدی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ دنیا کی سب سے پرانی فلم فرانچائز ’جیمز بانڈ‘ میں بطور ولن کام کرنے والے پہلے بھارتی اداکار تھے۔

سن 1983 میں ریلیز ہونے والی فلم ’آکٹوپسی‘ میں انہوں نے گوبندا کا کردار ادا کیا تھا، جس کا کلائمکس سین تین مختلف براعظموں میں فلمایا گیا تھا۔

اس فلم میں راجر مور نے جیمز بانڈ کا کردار ادا کیا تھا جب کہ کبیر بیدی سے ان کی جہاز کی چھت پر فائٹ سین کو شائقین نے بے حد پسند کیا تھا۔

اپنی کتاب میں کبیر بیدی شکایت کرتے ہیں کہ مائیکل کین کے مقابلے میں اشانتی میں مرکزی کردار ادا کرنے اور جیمز بانڈ میں ولن بننے کے باوجود انہیں ہالی وڈ میں وہ مقام نہیں مل سکا، جس کی انہیں امید تھی۔

انہوں نے مشہور ٹی وی سیریز نائٹ رائیڈر، مرڈ شی روٹ اور میگنم پی آئی کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے مہمان اداکار کے طور پر کام کیا تھا لیکن یہ سارے کرداروں کا تعلق بھارت سے تھا، جس کا انہیں دکھ ہے۔

البتہ انہوں نے 90 کی دہائی میں دنیا میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والے ٹی وی سیریز ’دی بولڈ اینڈ دی بیوٹفل‘ میں اداکارہ ہنٹر ٹائلو کے لو انٹرسٹ کے کردار کو کریئر کی ہائی لائٹ قرار دیا۔

ایک سال سے زیادہ عرصے تک کبیر بیدی نے دی بولڈ اینڈ دی بیوٹی فل میں کام کیا۔ جو دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ دیکھا جانے والا ٹیلی ویژن شو ہے۔ جسے 149 ممالک میں ایک ارب سے زیادہ لوگوں نے دیکھا ہے۔

سن 1997 میں جب ان کے بیٹے سدھارتھ نے ذہنی بیماری سے تنگ آکر خودکشی کی تو کبیر بیدی نے اداکاری سے ایک بریک لیا، جس کی وجہ سے انہیں مالی نقصان بھی ہوا، لیکن اپنی کتاب میں انہوں نے بتایا کہ اس مشکل سے بھی انہیں اٹلی ہی نے باہر نکالا۔

نہ صرف بطور ’سندوکن‘ انہوں نے ’دی ریٹرن آف سندوکن‘ اور ’دی سن آف سندوکن‘ سے بیس سال بعد اس کردار میں کم بیک کیا، بلکہ متعدد اطالوی پراجیکٹس میں کام کرنے سے ان کی مالی حالت بہتر ہوئی، جس پر وہ اٹلی کے شکر گزار ہیں۔

اپنی کتاب میں انہوں نے 2010 میں اٹلی کی حکومت کی جانب سے دیے گئے سب سے بڑے اعزاز کا شکریہ ادا کیا جب کہ گزشتہ سال بھی انہیں اٹلی کی حکومت نے سب سے بڑے سویلین ایوارڈ ’آرڈر آف میرٹ‘ سے بھی نوازا تھا۔

کبیر بیدی نے کولمبیا پکچرز کی ‘دی بیسٹ آف وار’ میں اداکاری کی۔ افغانستان میں روسی جنگ پر ایک فلم جس کی ہدایت کار کیون رینالڈز نے کی اور ساتھ ہی ڈیوڈ ڈی ڈوناٹیلو ایوارڈ کے فاتح مارکو پونٹی کی مشہور اطالوی فلم "انداٹا ریٹورنو” میں بھی بہترین اداکاری کی

کبیر بیدی امریکی ٹیلی ویژن پر ہالمارک کے افریقی مہاکاوی ممنوعہ علاقہ اور کین فولیٹ کے آن ونگز آف ایگلز اور ریڈ ایگل میں اداکاری کی۔ انہوں نے NBC کے لیے The Lost Empire میں Friar Sands کا کردار ادا کیا۔ Dynasty، Murder، She Wrote، Magnum، P.I.، ہنٹر، نائٹ رائڈر اور Highlander: The Series میں بھی کام کیا۔

ہندوستانی ٹی وی پر ان کا اپنا سنیما ٹاک شو تھا۔ "ڈائریکٹرز کٹ” یہ 13 حصوں پر مشتمل خصوصی سیریز جس میں ملک کے معروف ہدایت کاروں کا انٹرویو کیا گیا تھا۔ ٹیلی ویژن پر ان کی کامیابی 2013 میں ایوارڈ یافتہ پرائم ٹائم شوز گنز اینڈ گلوری: دی انڈین سولجر اور وندے ماترم کے ساتھ جاری رہی جو انڈیا کے نیوز چینلز ہیڈ لائنز ٹوڈے اور آج تک کے لیے ہے۔

کبیر بیدی ہندوستانی اشاعتوں بشمول ٹائمز آف انڈیا اور تہلکہ میں ملک کو متاثر کرنے والے سیاسی اور سماجی مسائل پر باقاعدہ معاون رہے۔ وہ ہندوستانی قومی ٹیلی ویژن پر بھی ایسے موضوعات پر بحث کرتے نظر آتے ہیں۔

فروری 2017 میں، بیدی کو بین الاقوامی ترقیاتی تنظیم، سائیٹ سیورز کے لیے نئے ’برانڈ ایمبیسیڈر‘ کے طور پر اعلان کیا گیا۔ انہوں نے اپنی تقرری پر کہا،ل۔ بیدی اطالوی چیریٹی کیئر اور شیئر اٹلی کے اعزازی برانڈ ایمبیسیڈر ہیں۔

جو آندھرا پردیش اور اسکول سے یونیورسٹی تک اسٹریٹ چلڈرن کو تعلیم اور ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ 1982 سے بیدی اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز (جو آسکر ایوارڈز پیش کرنے کے ذمہ دار ہیں) کے ووٹنگ ممبر ہیں۔ وہ اسکرین ایکٹرز گلڈ کے ووٹنگ ممبر بھی ہیں۔انہوں نے پورے یورپ اور ہندوستان میں متعدد فلم، اشتہارات اور مقبولیت کے ایوارڈز جیتے ہیں۔ انہوں نے اطالوی جمہوریہ کا اعلیٰ ترین سویلین اعزاز حاصل کیا اور انہیں اطالوی جمہوریہ کے آرڈر آف میرٹ کا ’کیوالیئر‘ (نائٹ) کا خطاب دیا گیا۔ انہوں نے کلنگا انسٹیٹیوٹ آف انڈسٹریل ٹیکنالوجی (KIIT) یونیورسٹی، بھونیشور، اڈیشہ، بھارت سے اعزازی ڈگری حاصل کی ہے۔ کبیر بیدی نے چار شادیاں کیں اور ان کے تین بچے پوجا، سدھارتھ (متوفی) اور آدم۔ اس کی شادی اوڈیسی ڈانسر پروتیما بیدی سے ہوئی تھی۔

ان کی بیٹی پوجا بیدی ایک میگزین/اخبار کی کالم نگار اور سابق اداکارہ ہیں۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی جانے والے سدھارتھ کو شیزوفرینیا کی تشخیص ہوئی اور وہ 1997 میں 26 سال کی عمر میں خودکشی کر کے انتقال کر گیا۔ جیسے ہی پروتیما کے ساتھ اس کی شادی ٹوٹنے لگی اس وقت کبیر بیدی نے پروین بوبی سے رشتہ شروع کر دیا۔ مگر شادی نہ ہو سکی۔ بعد میں انہوں نے برطانوی نژاد فیشن ڈیزائنر سوسن ہمفریز سے شادی کی۔ ان کا بیٹا آدم بیدی، ایک بین الاقوامی ماڈل ہے. جس نے سنسنی خیز فلم ’ہیلو‘ سے اپنی ہندی فلم کی شروعات کی. 1990 کی دہائی کے اوائل میں، بیدی نے ٹی وی اور ریڈیو پریزینٹر نکی بیدی سے شادی کی۔ ان سے کوئی اولاد نہیں۔ جس سے 2005 میں ان کی طلاق ہو گئی۔

اس کے بعد کبیر بیدی کا تعلق برطانوی نژاد پروین دوسانج سے رہا۔ جس سے اپنی 70ویں سالگرہ سے ایک دن قبل شادی کی۔ کبیر بیدی میانمار میں حکومت مخالف جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں۔ اور وہ برما کمپین یو کے سرکاری سفیر ہیں۔ وہ روٹری انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا کے ٹیچ پروگرام اور ہندوستان اور جنوبی ایشیا میں کل خواندگی مشن کے لیے برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close