Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینتعلیم و صحتخبریں

قبل از تاریخ کے انسانوں کی فرضی ’پالیو ڈائٹ‘ کی حقیقت کیا ہے؟

By Akhtar Rasool
نومبر 25, 2022 4 Min Read
0

موٹاپے کے شکار لوگوں میں اپنا وزن کم کرنے کے لیے ’پالیو ڈائٹ‘ کا رجحان بڑھ رہا ہے، وہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ پتھر کے زمانے میں ’غاروں میں رہنے والے انسانوں‘ کی طرح کی خوراک کھانا انہیں صحتمند بناتی ہے

موٹاپا دور ہو نہ ہو، لیکن ’پالیو ڈائٹ‘ نامی خوراک کھانے کے اس رحجان سے کچھ کمپنیاں خوب پیسہ بٹور رہی ہیں اور اس کی بے شمار خوبیاں بیان کرتی ہیں، جیسا کہ یہ جلد کو بہتر بناتی ہیں، قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے، ہاضمے کے مسائل ختم کرتی ہے اور سب سے اہم یہ آپ کا وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے

اس ’پالیو ڈائٹ‘ میں پھل، سبزیاں، بنا چربی کے گوشت، مچھلی، انڈے، میوے اور اجناس شامل ہیں۔ کیونکہ اس طرح کی خوراک انسان اس وقت کھاتا تھا، جب وہ شکار کر کے اپنا پیٹ پالتا تھا

تاہم اس میں وہ خوراک نہیں، جو تقریباً دس ہزار برس پہلے اس وقت عام ہوئی تھی جب چھوٹے پیمانے پر کاشتکاری اور فارمنگ کا آغاز ہوا تھا۔ جس میں اناج، پھلیاں اور دودھ سے بنی اشیا شامل ہیں

امریکہ کی ڈیوک یونیورسٹی میں بشریات و عالمی صحت کے پروفیسر ہرمن پونٹزر کہتے ہیں ”سب بہت مربوط لگتا ہے سوائے ایک تفصیل کے کہ یہ سچ نہیں ہے کہ انسانوں کے پاس کبھی قبل از تاریخ کی کوئی خوراک تھی۔“

پونٹزر کا کہنا ہے ”ماضی میں انسانوں نے کیا خوراک استعمال کی، اس کے بارے میں بہت سی فرضی باتیں ہیں۔ ماضی کے بارے میں اس مفروضے کی بنیاد پر کہ اس وقت ایک قدرتی خوراک تھی بہت سے رومانوی عقائد ہیں“

شکاریوں کی برادریوں کے ساتھ براہ راست کام کرنے سے سائنسدان اس قابل ہوئے کہ وہ جان سکیں کہ وہ اصل میں کیا کھاتے تھے

پروفیسر پونٹرز تنزانیہ گئے تھے تاکہ وہ وہاں کے مقامی شکاریوں کے حڈزہ قبیلے کے ساتھ رہ کر یہ جان سکیں کہ ان کی طرزِ زندگی کیسی ہے۔ یہ قبیلہ آج کی زندگی کے سب سے قریب ہے اور کبھی ہمارے آباؤ اجداد بھی ایسی ہی زندگی گزارتے تھے

فصلیں اگانے یا جانور پالنے کے بجائے، حڈزہ قبیلے کے لوگوں کو طویل مسافت کے دوران جو ملتا ہے، اس پر گزارا کرتے ہیں

پونٹرز کو یہ بخوبی معلوم ہے، کیونکہ انہوں نے گذشتہ دہائی انہی کے ساتھ گزاری ہے اور وہ ان کی صحت اور نفسیات کے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں

حڈزہ قبیلے کے لوگ دن میں دس کلومیٹر تک پیدل چلتے ہیں، جنگلی جانوروں کا شکار کرتے ہیں، شہد اکٹھا کرتے ہیں، جڑوں والی سبزیاں کھاتے ہیں، بیر جمع کرتے ہیں، پانی اور لکڑیاں لے جاتے ہیں

حڈزہ قبیلے اور دنیا کی دیگر قبائلی برادریوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کا مطالعہ کرنے کے بعد، محققین کا کہنا ہے کہ حقیقت میں ’کوئی پالیو ڈائٹ نہیں ہے‘، چونکہ شکاریوں کے پاس بہت سی خوراک ہوتی تھی

وہ اس کی وضاحت کرتے ہیں کہ یہ خوراک آب و ہوا، موسم اور بہت سی دوسری چیزوں کو مدنظر رکھ کر استعمال کی جاتی تھی

اگرچہ یہ سچ ہے کہ جنگلی زندگی میں جڑ والی سبزیوں اور بیریوں میں انسان کی آج کی خوراک کے مقابلے میں کم کیلوریز، نمک یا چکنائی ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جن جنگلی قبائل کا مطالعہ کیا گیا ہے، ان میں زیادہ تر غذا گوشت سے بھرپور اور کم کاربوہائیڈریٹس والی نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ پالیو غذا کے چند شوقین دعویٰ کرتے ہیں

پونٹزر کا کہنا ہے ”مقبولِ عام تصور کے برعکس، شکاری کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور، میٹھی اور نشاستہ دار غذائیں، جڑ کی سبزیاں، شہد اور یہاں تک کہ اناج کھاتے ہیں“

چند صدیاں پہلے کے ریکارڈ موجود ہیں جن میں محققین کے ذریعہ جمع کردہ معلومات پر مشتمل اس بات کے ثبوت بھی ہیں کہ اس قسم کے جنگلی قبائل کیا کھاتے تھے

پونٹرز کے مطابق ”ان معلومات سے واضح ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان کی کوئی ایک غذا نہیں رہی ہے۔“

وہ کہتے ہیں ”عموماً جنگلی یا شکاری قبائل کی غذا میں پھلوں، سبزیاں اور گوشت کا توازن ہوتا تھا لیکن یہ بہت تبدیل ہوتی رہتی تھی“

وہ چیز، جو اپنے آباؤ اجداد کے مقابلے میں ہمیں موٹا کر رہی ہے

محققین اس نکتے کو اہم قرار دیتے ہوئے اس کی بہت سے وجوہات بتاتے ہیں اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں ”اس کی ایک اہم وجہ تو یہ ہے کہ ہم بہت ہی زیادہ پروسیسڈ خوراک استعمال کرتے ہیں۔ ایسی غذا سے پروٹین اور فائبر نکال لیا گیا ہوتا ہے اور اس میں چینی، تیل، مصنوعی ذائقہ اور اس کو زیادہ عرصے تک محفوظ بنانے والے اجزا شامل کیے گئے ہوتے ہیں“

محققین کا کہنا ہے ”ہمارا جسم سادہ خوراک کھانے کے لیے بنا ہے لیکن بازاروں میں فروخت ہونے والی خوراک سیدھی درختوں، زمین یا شکاریوں سے نہیں آتی۔ یعنی وہ سو فیصد قدرتی اور خالص نہیں ہوتی“

اگر اس نقطہ نظر کو مدنظر رکھا جائے تو صحتمند طریقے سے کھانا آسان نہیں ہے۔ پونٹزر کا کہنا ہے ”میں انتہائی پروسسڈ شدہ کھانے سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن میں سو فیصد ایسا نہیں کر سکتا اور نہ ہی میں سختی سے ایسی غذا کی پابندی کرتا ہوں“

وہ کہتے ہیں ”بہت سے دوسرے افراد کی طرح کبھی کبھار میرا بھی لذیذ پروسیسڈ غذا کھانے کو دل کرتا ہے“

Tags:

DietDiseasesFatHealthhumanshypotheticalPaleoprehistoricProcessed Foods
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

اسلام آباد میں دس ماہ کے اندر 519 افراد میں ایچ آئی وی کی تشخیص

Next

سولہ کلومیٹر گہرا کنواں، جو ساری دنیا کو توانائی فراہم کر سکتا ہے

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme