Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

اہم ترینتازہ ترینخبریں

کورونا سے کہیں زیادہ خطرناک ”ماحولیاتی بحران“ کی کوئی ویکسین نہیں!

By Akhtar Rasool
ستمبر 7, 2021 3 Min Read
1

جنیوا : تاریخ میں پہلی بار دو سو بیس سے زائد طبّی تحقیقی (میڈیکل ریسرچ) جرنلز نے ایک مشترکہ اداریہ شائع کیا ہے جس میں سیاست دانوں، پالیسی سازوں، عوام اور بالخصوص امیر ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کووِڈ 19 وبا کو بنیاد بنا کر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات میں دیر نہ کی جائے

اس اداریئے کے مصنّفین میں دنیا کے مایہ ناز طبّی ماہرین کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ، ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس بھی شامل ہیں

ان کا کہنا ہے کہ کسی ایک بیماری کے مقابلے میں ’’عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے وابستہ خدشات کہیں زیادہ بڑے ہیں۔ کووِڈ-19 کی عالمی وبا ختم ہوجائے گی لیکن ماحولیاتی بحران کی کوئی ویکسین نہیں۔‘‘

یہ اداریہ بطورِ خاص اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق اجلاس اور گلاسگو، برطانیہ میں نومبر 2021 کے دوران منعقد ہونے والی ’’کوپ 26‘‘ عالمی ماحولیاتی کانفرنس کی مناسبت سے تحریر کیا گیا ہے

اس مشترکہ اداریئے میں زور دیا گیا ہے کہ 2015ع میں ماحولیاتی تحفظ کےلیے عالمی ’’پیرس معاہدے‘‘ پر فوری اور غیر مشروط عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے

اداریئے میں ماہرین کا مؤقف ہے کہ ماحول اور صحت کا آپس میں براہِ راست تعلق ہے لہٰذا بڑھتی ہوئی ماحولیاتی خرابی کا نتیجہ اس دنیا میں رہنے والے اربوں انسانوں کےلیے، جن کی اکثریت غریب اور کم تر وسائل والے ملکوں میں آباد ہے، صحت کے شدید ترین مسائل کی صورت میں نکلے گا

’’مستقبل میں عالمی عوامی صحت کو سب سے بڑا خطرہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے اور قدرتی نظام کی بحالی کےلیے مناسب عملی اقدامات کرنے میں عالمی سربراہان کی مسلسل ناکامیوں سے ہوگا،‘‘ مشترکہ اداریئے میں ماہرین نے خبردار کیا

اداریئے کے ایک حصے میں ’’ایسٹ افریقن میڈیکل جرنل‘‘ کے ایڈیٹر اِنچیف، پروفیسر لیوکوئے ایتوولی نے توجہ دلائی کہ غریب اور اوسط آمدن والے ملکوں نے تاریخی اعتبار سے عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں میں بہت کم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود (امیر اور صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کی پھیلائی ہوئی آلودگی کے باعث) ان غریب ممالک کو بدترین اثرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جن میں عوامی صحت سے متعلق سنگین مسائل بھی شامل ہیں

لہٰذا امیر اور صنعتی ممالک کو ماضی میں اپنی کارگزاریوں کا ازالہ کرنے کےلیے (غریب ملکوں سے) زیادہ حصہ لینا ہوگا اور اس عمل کا ’’فوری طور پر آغاز کرتے ہوئے اسے مستقبل میں بھی جاری رکھنا ہوگا،‘‘ پروفیسر ایٹوولی نے لکھا

اگر آپ اس تفصیلی اداریئے کا مکمل متن پڑھنا چاہتے ہیں تو، ’’دی لینسٹ‘‘ سمیت، مختلف طبّی مجلّوں کی ویب سائٹس پر اسے پڑھ سکتے ہیں.

ماحولیات کے بارے مزید کالمز:

  • پچاس برس کے دوران موسمیاتی آفات میں پانچ گنا اضافہ ہوا، اقوام متحدہ

  • ”مَچ ءُ بَچ“، بلوچستان کے علاقے چاغی میں لوگ اپنے کھجوروں کے درخت کیوں جلا رہے ہیں؟

  • براہمن ملیر، شودر بن گیا!

  • کھیرتھر نیشنل پارک ایک عالمی ورثہ اور پاکستان

  • منچھر جھیل کی تباہی کیسے آئی؟

  • کھیرتھر کا خوبصورت علاقہ پاچران تباہی کے دہانے پر

  • جرم کسی کا، مگر سزا ہم سب کو!!

  • ملیر وادی: پانیوں اور قافلوں کی قدیم گزرگاہ

Tags:

EnvironmentEnvironmental CrisisMarine EnvironmentNatureSave NatureUNO
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Previous

وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے جینز پہننے پر پابندی عائد

Next

گلگت بلتستان میں تین سیاحتی شہر بسانے کا بڑا فیصلہ

One Comment

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme