Skip to content
  • https://www.facebook.com/
  • https://twitter.com/
  • https://t.me/
  • https://www.instagram.com/
  • https://youtube.com/
Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

Sangat Mag

First Urdu, Balochi and Sindhi Online Magazine

  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • قومی
    • عالمی
    • اسپورٹس
    • موسم
    • تعلیم و صحت
    • گھرداری
    • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • ادب
  • انٹریوز
  • وڈیوز
  • ماحولیات
  • بلوچی
  • سنڌي
  • About Us
  • Contact Us
  • Editorial Policy
  • Privacy Policy
Subscribe
Close

Search

Urdu-short-story-Abu-Bakar-Baloch
ادباہم ترینتازہ ترین

پاگل کے ہاتھ میں چھری (افسانہ)

By Akhtar Rasool
مئی 11, 2025 4 Min Read
0

یہ عصر کا وقت تھا، گرمی کی شدت قدرے کم ہو گئی تھی۔ اکرم اور مشتاق پٹھان کے ہوٹل پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔

اچانک ایک شخص، خون آلود کپڑوں کے ساتھ ہوٹل کے اندر پناہ لینے کے لیے آیا، وہ بری طرح کانپ رہا تھا، اس کے جسم سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔۔ ہوٹل میں موجود لوگوں کے پوچھنے پر اس نے کانپتی ہوئی آواز میں بتایا کہ ”پیچھے گلی میں ایک پاگل ہاتھ میں چھری لیے لوگوں پر حملہ کر رہا ہے، بدقسمتی سے میں بھی اس کی زد میں آگیا ہوں۔۔“

اتنے میں وہ گر گیا اور کچھ لوگ اس کو رکشے میں بٹھاکر قریبی ہسپتال کی طرف لے گئے۔۔۔

اکرم اور مشتاق یہ ماجرا سن کر بہت پریشان ہو گئے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ گلی کی طرف چل دیے۔

گلی میں بھگڈر مچی ہوئی تھی، بعض لوگ چھتوں پر کھڑے یہ ہیبت ناک منظر دیکھ رہے تھے۔

وہ پاگل ہاتھ میں چھری لیے لوگوں کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں سے وحشت چھلک رہی تھی۔ وہ اب تک چھ افراد کو زخمی کر چکا تھا، جن میں سے ایک کی حالت بہت تشویشناک تھی۔۔۔۔۔

کسی کی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ پاگل شخص کے قریب جا کر اس کو قابو کر لے۔۔۔۔

اتنے میں ایک باہمت اور تنومند شخص ہجوم کو چیرتے ہوئے برآمد ہوا اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ اس پاگل شخص پر پل پڑا اور اس کو گرا کر اس پر قابو پا لیا اور بڑی مہارت سے اس کے ہاتھ سے چھری چھین کر ہجوم میں کھڑے ایک شخص کے حوالے کردیا۔۔

اس کے بعد اس تنومند شخص نے پاگل کو ایک درخت کے ساتھ باندھ لیا۔لوگوں کا ایک جمِ غفیر شدید خوف کے عالم میں اپنی آنکھوں سے یہ سارا تماشا دیکھ رہا تھا، اتنے میں پولیس اور پاگل خانے کا کہنہ مشق عملہ پہنچ گیا اور اس پاگل کو گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئے۔۔۔

اس واقعے پر اکرم پر شدید خوف کی کیفیت طاری تھی، اس کی پیشانی سے پسینے چھوٹ رہے تھے۔۔۔

”چھری اور وہ بھی پاگل کے ہاتھ میں۔۔۔ یار یہ کس قدر خوفناک منظر تھا!“ اکرم نے لرزیدہ لہجے میں مشتاق سے کہا۔

”واقعی یار۔۔۔ یہ بہت ہی پرخطر صورتحال تھی۔۔۔ بھلا ہو اس باہمت اور بہادر آدمی کا، جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر اس پر قابو پانے میں کامیابی حاصل کی۔“ مشتاق نے اکرم کی تائید کرتے ہوئے کہا۔

”اگر وہ اس کو قابو نہ کرتا تو پتہ نہیں کتنے لوگ اس کے ہاتھوں جان گنوا بیٹھتے یا زخمی ہو جاتے۔“ اکرم نے تشکر آمیز لہجے میں کہا۔

اس کے بعد محفل میں خاموشی طاری ہو گئی۔ مشتاق کے چہرے پر گہرے تفکر کے آثار نمایاں تھے۔

اچانک خاموشی کو توڑتے ہوئے اکرم کی آواز گونجی، ”یہ تم اچانک پریشان کیوں ہوگئے؟ کیا سوچ رہے ہو؟“ اکرم نے مشتاق کے چہرے سے چھلکتے گہرے تفکر کو بھانپتے ہوئے پوچھا۔

”میں سوچ رہا ہوں کہ اس پاگل پر ہی کیا موقوف، ہمارے سماج میں اَسی فیصد سے زیادہ لوگ ہائپر ٹینشن، فرسٹریشن اور ڈپریشن جیسے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں، جن کی اکثریت کو سرے سے اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ وہ حقیقت میں نفسیاتی امراض میں مبتلا ہیں۔۔“ مشتاق نے تفکر آمیز لہجے میں جواب دیا۔

”لوگ بیچارے کیا کریں۔۔ حالات و واقعات ہی ایسے ہیں؟“ اکرم نے لوگوں کے رویوں کو جسٹیفائے کرتے ہوئے کہا۔

”حالات و واقعات بلاشبہ حقیقت ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان حالات و واقعات کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر کس طرح ہینڈل کیا جائے، یہ بات بڑی حد تک انسان کے اپنے سوچنے کے انداز پر منحصر ہے۔۔۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ سوچنے کے انداز کو بدلنے کے لیے معاشرے میں ’ایٹیچیوڈ‘ اور ’بی ائیویئر‘ مینجمنٹ کے سیشنز کا اہتمام ہو۔ اس کے لیے حکومتی اداروں اور سماجی تنظیموں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔“ مشتاق نے اپنے طور مرض کا علاج بتاتے ہوئے کہا۔

”تمہاری بات درست ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس کے لیے سوشل میڈیا بھی مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔“ اکرم نے مشتاق کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے تجویز دی۔

”بلاشبہ اس دور میں سوشل میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اس میں بڑی اچھی چیزیں بھی موجود ہیں، جن سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔۔۔ مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں ہائپر ٹینشن، فرسٹریشن اور ڈپریشن جیسے بڑھتے ہوئے نفسیاتی امراض کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا اور اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال بھی ہے۔۔۔۔ تم ایسا سمجھو کہ تعلیم اور تربیت کے بغیر سوشل میڈیا۔۔۔۔۔ پاگل کے ہاتھ میں موجود چھری کی طرح ہے، جس کے ذریعے وہ لوگوں کے جذبات، احساسات غرض پورے سماج کو گھائل کرتا ہے، جس طرح آج گلی میں موجود پاگل شخص چھری کے ذریعے لوگوں کے جسموں کو گھائل کر رہا تھا۔۔۔ سچی بات یہ ہے کہ آج کا واقعہ سوشل میڈیا پر سرگرم، تعلیم و تربیت سے عاری ’پاگلوں‘ کی حرکتوں کا بعینہٖ عکس تھا۔۔“ مشتاق نے اطمینان سے جواب دیا۔

Tags:

aggressive behavioranonymous heroattitude managementattitude shiftawareness campaignawareness through fictionbehavior changebehavioral disorderBraverycity chaosCourageCrime SceneCrisis ManagementCrowdcrowd feardangerous societydeep dialogueDepressionEmergencyemotional damageemotional insightemotional instabilityemotional traumafearfear psychologyFictionfictional allegoryFrustrationgovernment rolehospital sceneHuman BehaviorHuman Emotionshyper tensionknife attackknife violencelaw and ordermadman with a knifemadnessmedia responsibilitymental disordersmental healthmental health awarenessmental health crisisMental illnessmental imbalancemental well-beingmetaphorical writingmob psychologymodern life stressmoral storyNarrative Fictionpanicpolice responsePsychiatric Patientpsycho-social analysispsychological reflectionpsychological storyPsychological Traumapublic heropublic mindsetpublic reactionPublic Safetypublic safety threatreal-life reflectionreflection on mediareflection on societyRescueresponsible citizenresponsible mediaShort Storysilence after tragedySocial Awarenesssocial changeSocial Commentarysocial disordersocial media addictionSocial media impactsocial messagesocial organizationssocial problemssocial violencesocietal critiquesociety and madnessstreet incidentstresssymbolic storytension in societytherapy needthought-provokingTraumatrauma responseunconscious behavioruncontrolled emotionsunexpected herountrained social media useurban dramaurban fearurban issueUrdu FictionViolenceyouth behavior
Author

Akhtar Rasool

Follow Me
Other Articles
Can-a-smile-change-the-world
Previous

کیا ایک مسکراہٹ دنیا بدل سکتی ہے؟

Climate-change-Will-the-banana-fruit-become-extinct
Next

موسمیاتی تبدیلی: کیا کیلے کا پھل ناپید ہو جائے گا؟

No Comment! Be the first one.

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

حالیہ پوسٹیں

  • بوسنیا: بار بار نقشے سے مٹائے جانے کے بعد بھی زندہ رہنے والی روح کی کہانی
  • لیونل میسی: لاطینی امریکا کا یونانی فلسفی
  • جیڈن ایڈمز: جنوبی افریقہ کا ابھرتا ستارہ، جسے موت نے ورلڈ کپ کے فوراً بعد چھین لیا
  • انسٹاگرام کی چکاچوند کے پیچھے ایک تاریک دنیا: الگورتھم، معصومیت اور منافع کی معیشت
  • نیمار جونیئر: سامبا فٹ بال کا آخری چراغ

Sports

  • ادب
  • انٹرویوز
  • اہم ترین
  • تاریخ
  • تازہ ترین
  • خبریں
    • اسپورٹس
    • تصاویر
    • تعلیم و صحت
    • عالمی
    • قومی
    • موسم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • فن
  • کالم
  • گھرداری
  • ماحولیات
  • وڈیوز
Copyright 2026 — Sangat Mag. All rights reserved. Blogsy WordPress Theme