اکرم چیمہ اور فواد کے بیانات سے متعلق جسٹس فائز عیسٰی کی ایم وضاحت سامنے آ گئی

نیوز ڈیسک

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قومی اسمبلی کے سامنے پیش آنے والے ناخوشگوار واقعہ سے متعلق جاری کئے گئے بیان میں کہا ہے کہ رکن قومی اسمبلی اکرم چیمہ اور وفاقی وزیر فواد چوہدری نے یکطرفہ پریس کانفرنسز کر کے کہانیاں گھڑی ہیں، اس لئے یہ جواب دینے پر مجبور ہوگیا ہوں تاکہ سچائی آشکار کر سکوں، بصورت دیگر میری خاموشی سے ان کی جھوٹی کہانیوں کو تقویت ملے گی

دوسری جانب رکن قومی اسمبلی اکرم چیمہ نے پارلیمنٹ کے سامنے سے گرفتاری کے خلاف تحریک استحقاق قومی اسمبلی میں جمع کرائی ہے، جس پر اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں غور کیا جائے گا

جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج اور رکن قومی اسمبلی اکرم چیمہ کے درمیان پیش آنے والے واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے. چیف جسٹس آف پاکستان کو اس پر نوٹس لینا چاہیے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جاری کئے گئے دو صفحات پر مشتمل بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بعض حلقوں کے نزدیک مجھے اور میرے خاندان کو نشانہ بنانا سچ کا متبادل ہے

انہوں نے کہا کہ برا بھلا کہنے کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب میں نے ایک فیصلہ لکھا، جو بعض حلقوں کو گراں گزرا. انہوں نے لکھ کر دیا کہ مجھے جج کے طور پر کام نہ کرنے دیا جائے اور پھر فوراً ہی مجھے عہدے سے ہٹانے کے لئے ایک صدارتی ریفرنس دائر کر دیا گیا

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں میری جانب سے جمع کروائی گئی تمام دستاویزات کو میڈیا میں دبا دیا گیا، جبکہ میرے خلاف بھرپور پروپیگنڈہ کیا گیا. ان صاحب کے لئے زیادہ بہتر یہ ہوتا کہ وہ ان سوالوں کے جواب دیتےبکہ یہ گاڑی کس کی ملکیت ہے؟ گاڑی کی رجسٹریشن بک کہاں ہے؟ گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹس کیوں لگائی گئی تھیں؟ گاڑی پر بڑا انٹینا کیوں لگایا گیا تھا؟ گاڑی کون چلارہا تھا اور کیا اس کے پاس لائسنس تھا؟، اب گاڑی کہاں ہے؟

قاضی فائز عيسٰی نے کہا کہ وفاقی وزیر جس نے قانون کی بالادستی کا حلف اٹھایا ہوا ہے اور جسے علم ہی نہیں تھا کہ ہوا کیا تھا؟ نے کیوں آگے بڑھ کر جعلی نمبر پلیٹوں والی مشکوک گاڑی کے مالک/ڈرائیور کو بھرپور مدد فراہم کی. وفاقی وزراء ʼʼقانون کے مطابق عمل کرنے“ کا حلف اٹھاتے ہیں، تو پھر کیوں فواد چوہدری نے موٹر وہیکلز آرڈیننس کی پابندی پر اصرار کرنے کے بجائے اس حلف کی خلاف ورزی کی ہے؟

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف آزمائے گئے ہتھکنڈے ،مجھے جان سے مار دینے کی دھمکی اور خاندان اور مجھے دی جانے والی گالیاں مجھے پیدل جانے سے یا قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندھی سے نہیں روک سکتیں، ہر شہری اور ٹیکس دھندہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے

قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ جمعرات کے روز دو افراد، جنہیں میں کبھی نہیں ملا ، نہ ہی انہیں جانتا تھا، ایک گاڑی میں سوار تھے جو قومی اسمبلی کے سامنے شاہراہ دستور پر کھڑی تھی. گاڑی پر ایک بڑا انٹینا لگا ہوا تھا جو اس قسم کا تھا جس کی اجازت میرے خیال میں صرف مسلح افواج کی گاڑیوں کو ہوتی ہے ،قومی اسمبلی کے سامنے متعدد پولیس اہلکار بھی موجود تھے ، لیکن ان میں سے کسی نے بھی گاڑی کے ڈرائیور کو گاڑی کو وہاں سے ہٹانے کا نہیں کہا

انہوں نے کہا کہ شاہراہ دستور پر اسمبلی کے سامنے گاڑی کھڑی کرنے کی اجازت نہیں ہے نہ ہی انہوں نے گاڑی کی رجسٹریشن یا ڈرائیور کے لائسنس کی تصدیق کی ، میں نے گاڑی میں موجود لوگوں سے اپنی شناخت کرانے کا کہا تو انہوں نے جواب میں مجھ سے توہین آمیز انداز میں پوچھا کہ میں کون ہوں؟ میں نے انہیں کہا کہ میں ایک شہری اور ٹیکس دہندہ ہوں ، اور یہ نہیں بتایا کہ میں ایک جج ہوں، میں کالی ٹائی یا کالے کوٹ میں نہیں تھا بلکہ نیلی جیکٹ پہنے ہوئے تھا ، مجھے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ اور ان کی گاڑی کسی مجرمانہ کارروائی میں ملوث نہ ہو، کیونکہ گاڑی پر جعلی نمبر پلیٹس تھیں ، جن سے گاڑی کی ملکیت چھپائی گئی تھی

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ اس لئے میں نے اپنے موبائل فون سے گاڑی اور اس میں بیٹھے لوگوں کی تصویر لی ، میں سپریم کورٹ کی جانب چل پڑا، جہاں مجھے عدالت کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے بروقت پہنچنا تھا ، اور جعلی نمبر پلیٹوں والی مشکوک گاڑی قومی اسمبلی میں داخل ہوئی ، پھر وہاں سے نکلی اور اس میں سے ایک شخص اترا اور گندی گالیاں دیتا ہوا میری طرف بڑھا ، میں نے اسے نظر انداز کیا ، خاموش رہا اور سپریم کورٹ کی جانب چلتا رہا ،اس کی تصدیق سی سی ٹی وی کیمروں سے کی جاسکتی ہے ، الا یہ کہ عین اسی لمحے وہ کام کرنا ہی چھوڑ گئے ہوں یا ان میں ریکارڈنگ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا ایڈیٹنگ کی گئی ہو

انہوں نے کہا کہ رکن قومی اسمبلی، اکرم چیمہ اور وفاقی وزیر فواد چوہدری، جو اس موقع پر موجود ہی نہیں تھے، نے یکطرفہ پریس کانفرنسز کیں اور کہانیاں گھڑی ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close