دودھ پر بھی پٹرول کا رنگ چڑھ گیا، 10 روپے فی لیٹر اضافہ. اشیائے صرف بھی مہنگی

نیوز ڈیسک

کراچی: دودھ پر بھی پٹرول مہنگا ہونے کا رنگ چڑھ گیا، مہنگائی کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے ڈیری مافیا نے بھی 8 نومبر سے دودھ کی قیمت میں دس روپے لیٹر اضافے کا اعلان کردیا ہے. جس کے  بعد دودھ کی قیمت 130 روپے سے بڑھ کر 140 روپے فی لیٹر ہوجائے گی

یہی نہیں، ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ دودھ کی قیمت میں یہ اضافہ آٹے میں نمک کے برابر ہے، دو ماہ بعد فی لیٹر قیمت میں مزید  روپے کا اضافہ کیا جائے گا

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمت کے تعین کے حوالے سے قائم کمیٹی کے سفارشات مُرتب ہونے سے پہلے ہی اضافہ غیر قانونی ہے، واضح رہے کہ کمشنر کراچی کی زیرِ صدارت 25 اکتوبر اور 4 نومبر کو متعلقہ ایسوسی ایشنز کے اجلاس منعقد ہوچکے ہیں، 4 نومبر کو ڈیری فارمرز ہول سیلرز اجلاس میں تخمینہ مرتب کرنے کے لیے کمیٹی بنادی گئی تھی

ادہر چینی کی دیکھا دیکھی آٹے کی قیمتوں کو بھی پر لگ گئے ہیں. سرکاری قیمت والا آٹا پانچ روپے فی کلو مہنگا فروخت ہو رہا ہے،حکومت نے دس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 550 روپے مقرر کی ہے جبکہ مارکیٹ میں 6 سو روپے میں فروخت ہورہا ہے. فلورملز والے فوٹو سیشن کے لئے ایک ٹرک آٹا کسی مارکیٹ یا بازارمیں بھیج کر حکومت کو بیوقوف بنا رہے ہیں. جبکہ حکومت سندھ نے پنجاب کو گندم کی ترسیل پر غیر اعلامیہ پابندی عائد کردی ہے

سرکاری گندم کے اجراء کا وقت محکمہ خوراک کے افسران کے لئے ”سیزن“ ہوتا ہے ،مالی مفادات کے لئے محکمہ میں افسران کی کمائی والے عہدوں پر ایک منظم لابی کے تحت تبادلے کرائے جا رہے ہیں. اطلاع کے مطابق گندم کی خریداری اور پھر سرکاری طور پر گندم کا اجراء کے دوران اس پورے سیزن میں اربوں کی کرپشن کی جاتی ہے. گندم کی بوری بہ ظاہر سو کلو کی ہوتی ہے لیکن ہر سرکاری گندم کی بوری جو فلور ملوں کو جاری کی جاتی ہے اس میں کئی کلو کچرا ہوتا ہے اس کے علاوہ گوداموں پر اچھی گندم الگ اور کچرے والی گندم علیحدہ رکھی جاتی ہے۔اس موقع پر گوداموں کے انچارچ اچھی صاف ستھری بوری کے تقریباً سرکاری سے پچاس روپے تک فی بوری زیادہ لیتا ہے

اطلاعات کے مطابق محکمہ خوراک نے بند فلور ملوں کو بھی گندم جاری کردی جو سو روپے فی بوری منافع رکھ کر آٹا بنانے والی آپریشنل ملوں کو فروخت جبکہ سرکاری گندم کے اجراء کے موقع پر بجلی کے بل چیک کئے جاتے ہیں، لیکن رشوت کے سسٹم کے تحت جعلی بجلی کے بل جمع کراکے محکمہ سے گندم حاصل کی جاتی ہے

محکمہ کے ڈائریکٹر فوڈ سندھ سید امداد علی شاہ کا کہنا ہے کہ سرکاری گندم فلورملوں کو جاری کرنا شروع کردی ہے اور سو کلو گندم کی بوری کی قیمت دو ہزار روپے رکھی گئی ہے، جبکہ دس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت ساڑھے پانچ سو روپے ہے، صوبے میں وافر مقدار میں گندم موجود ہے

دوسری جانب مہنگائی کی نئی لہر سے لوٹ مار کا بازار گرم ہو گیا ہے اور اشیاء خوردونوش کی قیمتیں عوام کی دسترس سے باہر ہو چکی ہیں جبکہ گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی من مانا اضافہ کر دیا گیا ہے

دودھ دہی، گھی، آٹا، چاول، دالوں، گوشت اور مرغی کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد پہلے ہی مہنگائی سے تنگ شہریوں نے حالیہ مہنگائی کو آخری حد قرار دے دیا ہے

پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے ساتھ گڈز اور پبلک ٹرانسپورٹ کرایوں میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے. بسوں کے علاوہ ٹیکسی، رکشہ، کیب، سوزوکی اور ویگن کے اسٹاپ ٹو اسٹاپ کرائے بڑھا دیے گئے ہیں اور حکومت سارا الزام مافیا پر دھر کر بری الذمہ ہو کر عوام کے لٹنے کا نہ صرف تماشہ دیکھ رہی ہے بلکہ آئی ایم ایف کے مطالبات پر عوام کے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ رہی ہے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر اپوزیشن اراکین کی جانب سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ایوانوں میں شدید احتجاج کیا گیا اور قانون سازوں نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سےاقتدار میں آنے سے قبل کنٹینر پر کی جانے والی تقریروں کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے پیٹرول اور بجلی کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی پر سابق حکمرانوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چور قرار دیا تھا

ادہر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں اپوزیشن لیڈر اور نون لیگی صدر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آٹا، چینی، گھی، دوائی، بجلی، گیس، پیٹرول، معیشت اور مہنگائی پر بس نہیں چل رہا تو استعفیٰ دینا عمران خان کے بس میں ہے، استعفیٰ لکھ کر عوام کو فوری ریلیف دیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close