پیراسیٹامول گولیاں ہماری نفسیات کو متاثر کر سکتی ہیں

ویب ڈیسک

کراچی – سر میں درد ہو، دانت میں یا جسم کے کسی دوسرے حصے میں۔ بہت سے لوگ اس صورتحال میں پیراسیٹامول کا استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ دوا صرف درد کو دور نہیں کرتی بلکہ یہ ہماری نفسیات پر بھی اثرات مرتب کر سکتی ہے

دنیا کے کئی ممالک میں درد کم کرنے والی ادویات جیسے کہ ایبو پروفن ، اسپرین یا پیراسیٹامول بغیر کسی ڈاکٹر کے نسخے کے آسانی سے خریدی جا سکتی ہیں، ایسے ملکوں میں درد کی صورت میں ان کا استعمال بہت عام ہے

تاہم وہ افراد، جو ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر زیادہ مقدار میں پیراسیٹامول کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، وہ عام طور پر اس کے ممکنہ ضمنی اثرات اور نتائج سے واقف نہیں ہوتے۔ خواتین، بچے اور بوڑھے سبھی بخار اور درد میں اس کا استعمال کرتے ہیں

جرمنی میں فالج اور درد کے مرکز سے رکھنے والے گیرہارڈ میولر شویفے کے مطابق اس گولی کو بے ضرر قرار نہیں دیا جا سکتا

ان کا کہنا ہے کہ ”پیراسیٹامول جگر کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور خاص طور پر زیادہ مقدار میں یہ دوا لینے والے بچوں میں ایسا بار بار ہوتا ہے۔‘‘

پیراسیٹامول کی صحیح مقدار نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ بصورت دیگر یہ جگر کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور جگر مکمل طور پر ناکارہ بھی ہو سکتا ہے

گیرہارڈ میولر شویفے کا خبردار کرتے ہوئے کہنا ہے، ”جگر میں ایک سوزش کا عمل شروع ہو جاتا ہے کیونکہ وہ فالتو مادوں کو باہر نکالنے کے قابل نہیں رہتا۔ پھر ایک امیونولوجیکل ردعمل ہوتا ہے۔ پھر یہ رد عمل جگر کو سوزش کی طرف لے جاتا ہے اور جگر کے جتنے زیادہ خلیے ٹوٹتے ہیں، یہ اتنا ہی زیادہ ڈرامائی ہوتا ہے۔‘‘

کچھ لوگ پیراسیٹامول کے عادی ہو جاتے ہیں، لیکن اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ کوئی شخص کتنے عرصے اور کتنی مقدار میں یہ لے رہا ہے. پیراسیٹامول بنیادی طور پر مرکزی اعصابی نظام میں کام کرتا ہے، یعنی حرام مغز اور دماغ میں

گیرہارڈ میولر شویفے بتاتے ہیں کہ یہ بات ایک طویل عرصے سے معلوم نہیں تھی، لیکن اچھی تحقیق کی بدولت ہم اب بہتر طور پر سمجھ گئے ہیں کہ پیراسیٹامول مادہ حرام مغز کے اس نظام پر حملہ کرتا ہے، جو درد کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے

پیراسیٹامول کے بارے میں بامعنی ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے متعدد مطالعات مکمل کیے جا چکے ہیں اور انہی میں سے ایک تحقیق کا تعلق اوہائیو اسٹیٹ یونیورسٹی سے ہے، جو سن 2020 میں کی گئی

اس تحقیق کے مطابق پیراسیٹامول انسانی شعور کو متاثر کرتا ہے اور مختصر مدت میں کردار کو بھی بدل سکتا ہے

پیراسیٹامول تقریباً ہر سُپر مارکیٹ سے مل جاتی ہے اور ہر کوئی اسے درد دور کرنے کے لیے نہیں خریدتا

میولر شویفے بتاتے ہیں کہ یہ اسکاٹ لینڈ میں خودکشی کی سب سے بڑی دوا ہے۔ وہسکی کی کافی مقدار کے ساتھ پیراسیٹامول کا استعمال جگر کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیتا ہے

وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کا کمبینیشن جگر کو اس قدر تباہ کر دیتا ہے کہ وہ کام کرنے کے قابل نہیں رہتا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close