اٹھارہ سال کی عمر میں گھر سے نکالا گیا لڑکا یوٹیوب کا بادشاہ کیسے بنا؟

ویب ڈیسک

کیرولائنا – یہ جنوری 2017ع کی بات ہے، جب امریکی ریاست شمالی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان جمی ڈونلڈسن کے من میں انوکھا خیال آیا

وہ ایک کیمرے کے سامنے بیٹھا اور ایک لاکھ تک گنتی گننا شروع کر دی

اس نے بڑی ہمت دکھائی لیکن اگلے چالیس گھنٹوں کے دوران تھکن اس پر حاوی ہوتی دکھائی دی

اپنی کرسی پر پیچھے کی جانب جھکے ہوا، آنکھیں بند، کبھی کبھی آگے پیچھے ہلتے ہوئے، نمبر ایک دوسرے ساتھ جڑتے گئے..

اسکرین پر ٹیکسٹ لیبل آتے رہے، ’مجھے مارو‘ اور ’مجھے اس پر افسوس ہے۔‘

آخر کار گنتی ختم ہوئی۔ ’میں اپنی زندگی کے ساتھ کیا کر رہا ہوں؟‘ یہ کہتے ہوئے وہ کرسی پر ڈھیر ہوگیا

بہرحال یہ انوکھا اقدام اسے شہرت کی ایک نئی دنیا میں لے گیا اور سخت گنتی ڈونلڈسن کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوئی

اپنے فرضی نام ’مسٹر بیسٹ‘ سے پوسٹ کی گئی اُس کی اس وڈیو کے بعد سے وہ دنیا کا ایک مشہور ترین یوٹیوب اسٹار بن گیا

اس نے اسٹنٹس کا ایک سلسلہ شروع کیا، جس میں مشہور کورین سیریز اسکویڈ گیم کے ایک غیر مہلک سین کو دوبارہ سے پیش کرنا بھی شامل ہے، جس سے اسے 8 کروڑ 80 لاکھ سے زائد صارفین ملے ہیں

جمعے کو فوربز نے اسے 2021ع کا سب سے زیادہ کمانے والا یوٹیوبر قرار دیا، جس نے اشتہارات، اسپانسرشپس، کپڑوں، وڈیو گیمز اور برگرز کی ترسیل سمیت مصنوعات کے بڑھتی ہوئی سلطنت سے پانچ کروڑ چالیس لاکھ ڈالر (3.9 کروڑ یورو) کی آمدن حاصل کی

اس آمدن کے خطیر ہونے کا صحیح اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ 2020ع کے ٹاپ اسٹار کے مقابلے میں تقریباً دوگنی آمدنی تھی، جس کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی ٹاپ چالیس سلیبریٹیز کی فہرست میں وِن ڈیزل (5.4 کروڑ ڈالر)، جے زی (5.35 کروڑ ڈالر) اور بلی ایلیش (5.3 کروڑ ڈالر) کو بھی پیچھے چھوڑ گیا

یہ سچ میں حیرت انگیز تھا.. اتنی بڑی کامیابی اور وہ بھی اتنے کم وقت میں.. انٹرنیٹ کا یہ جنونی نوجوان، جسے یونیورسٹی چھوڑنے پر والدین نے گھر سے نکال دیا، یوٹیوب کا بادشاہ کیسے بن گیا؟ اوپر جو آپ نے ڈونلڈسن کی گنتی گننے کی وڈیو کے بارے میں پڑھا، ایسا نہیں کہ اس کی کامیابی محض اس ایک لمحے کی کوکھ سے پھوٹی ہے، بلکہ یہاں تک پہنچنے کے لئے اسے اردو کے محاورے ”پاپڑ بیلنے“ والا معاملہ درپیش رہا.. یہ کہانی بہت دلچسپ ہے

’میں جاگا، میں نے یوٹیوب کے متعلق پڑھا، میں سو گیا‘

تیئیس سالہ جمی ڈونلڈسن نے یوٹیوب وڈیوز تب بنانا شروع کیں، جب وہ ابھی بارہ برس کا تھا۔ جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا، وہ اس اسٹریمنگ سائٹ کے خودکار سفارشی نظام (automated recommendation system) کو سمجھنے کے جنون میں مبتلا ہوتا گیا

اس نے کئی سالوں میں بہت سی چیزیں آزمائیں، مائن کرافٹ کھیلی، کال آف ڈیوٹی کھیلی، یوٹیوب ڈرامے کا مذاق اڑایا، دیگر یوٹیوبرز کا مذاق اڑایا۔ 2013ع تک اس کا چینل ’وہ لڑکا‘ (That dude) کہلاتا تھا

2016ع میں اس نے اپنے والدین کو یہ بتائے بغیر یونیورسٹی چھوڑ دی کہ وہ خود کو الگورتھمز کی اسراریت کو سمجھنے کے لیے وقف کر رہا ہے۔ جب اس کی والدہ کو پتہ چلا تو انہوں نے ڈونلڈسن کو گھر سے نکال دیا، لیکن وہ اپنی دھن کا پکا تھا، سو اپنی کوششوں میں لگا رہا اور روز دوستوں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقاتوں میں یوٹیوب کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہا

ڈونلڈسن نے 2020ع میں بلوم برگ کو بتایا ”میں نیند سے بیدار ہوتا، میں یوٹیوب کو اسٹڈی کرتا، میں وڈیوز کا بغور مطالعہ کرتا، میں فلم سازی کی تعلیم حاصل کرتا، میں سو جاتا۔ یہ میری زندگی تھی۔“

یہ ایک لاکھ تک کی گنتی تھی، جس نے آخر کار ڈونلڈسن کے یوٹیوب کے نقطہ نظر کو وضاحت دی۔ وہ اعلیٰ تصور کے اسٹنٹ کے ساتھ اپنے ناظرین کے دل جیت سکتا ہے، جس کے لیے بہت بڑی کوشش اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے، جیسا کہ جیل میں چوبیس گھنٹے گزارنا

ڈونلڈسن کا کہنا ہے کہ یوٹیوب کی خوبصورتی یہ ہے کہ کوشش دگنی کرنے سے ویوز دگنے نہیں ہوتے، یہ دس گنا ہو جاتے ہیں۔ آپ کو پہلے دس لاکھ سبسکرائبرز ملنے میں کئی سال لگیں گے، لیکن دوسرے دس لاکھ چند ماہ میں آ جائیں گے

انیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے سالانہ 12.2 کروڑ ویوز مل رہے تھے، اس کے بعد 46 کروڑ۔ اس نے بیس لاکھ تک گنتی کی، چوبیس گھنٹے تک پانی کے اندر رہنے کی کوشش کی، خود کو برف کے ایک بلاک کے اندر قید کر لیا

گذشتہ مارچ میں جب اس نے خود کو پچاس گھنٹے تک تابوت میں زندہ دفن کرنے کا اسٹنٹ کیا تو وہ اصل میں پرجوش اور خوش نظر آیا، تابوت میں جانے سے قبل وہ خوشی سے کہتا ہے: ’میرے تابوت میں خوش آمدید!‘

اس نے توجہ حاصل کرنے والے وڈیو ٹائٹلز بنانے کے فن میں بھی مہارت حاصل کی، جیسا کہ ”میں سب سے زیادہ سکیورٹی والی جیل میں پچاس گھنٹے زندہ رہا“، یا ”مجھے ایک اصلی باؤنٹی ہنٹر نے نشانہ بنایا۔“ وہ پیش منظر تصاویر میں کسی خوفناک یا عجیب و غریب صورت حال میں چیختے ہوئے نظر آیا

اس کے بہت سے اسٹنٹ خیراتی تھے: پیزا کوریئرز، اوبر ڈرائیورز، ٹوئچ اسٹریمرز، بے گھر افراد، اس کے تیس لاکھ ویں سبسکرائبر اور اس کی والدہ کے لیے سخاوت کے کام، جن میں اسپانسرشپس کے ذریعے رقم حاصل کی گئی

اس کی سب سے مہنگی وڈیوز میں اسکویڈ گیم کی مکمل اسٹیجنگ تھی، جس میں موت تک آخری جنگ کی جگہ میوزیکل چیئرز کا کھیل پیش کیا گیا۔ اس کے وسیع سیٹوں اور ڈرامائی طور پر پھٹنے والے ٹریک سوٹس کے ساتھ، اس کی لاگت تقریباً پینتیس لاکھ ڈالر تھی

اس نے بلوم برگ کو بتایا کہ ’پیسہ بڑی وڈیوز کرنے اور بہتر مواد بنانے کا ذریعہ ہے۔‘

کیلیفورنیا میں قائم انفلوئنسر ایجنسی کریٹر ڈیک کی چیف ایگزیکٹو ہیلسن زو، جنہوں نے اکثر ڈونلڈسن کے درجے کے یوٹیوبرز کے ساتھ کام کیا ہے، کا کہنا ہے کہ ان کے چینل نے ’ہیرو یا ولن بننے کی گہری انسانی خواہش کو سمجھا‘ اور ان خیالات کو عملی جامہ پہنایا، جن کے بارے میں دوسرے بس خواب ہی دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے پاس ایسا کرنے کے اتنے وسائل ہوں

انہوں نے بتایا کہ ایک لاکھ تک گنتی کرنا، کول گیمز کھیلنا، ایک بینک لوٹنا، فوج کو اپنا پیچھا کروانا، یہ واقعی انتہائی خطرناک ہیں، مگر تفریحی بھی، جس کے خواب سات سے تیرہ سال کی عمر کے لڑکے اپنی خیالی دنیا میں دیکھتے ہیں

اس کے ساتھ ہی وہ کہتی ہیں کہ وہ نہیں چاہیں گی کہ ان کا اپنا سات سالہ بیٹا مسٹر بیسٹ کا چینل دیکھے

آج ڈونلڈسن کے پاس اسٹنٹس کی منصوبہ بندی کرنے، لکھنے، پروڈیوس کرنے، سیٹ اپ کرنے، انتظام کرنے اور ایڈٹ کرنے کے لیے تقریباً پچاس افراد پر مشتمل ایک پوری ٹیم ہے۔ اس کے باوجود اس کی کاروباری سلطنت اب اشتہارات اور اسپانسرشپ کے روایتی آن لائن انفلوئنسرز سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی ہے

اپنے ہیرو ایلون مسک کی تقلید کرتے ہوئے اس نے اپنی شہرت کو متعدد دیگر صنعتوں میں قدم رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ اس نے متعدد ٹیک اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کی ہے اور آن لائن تخلیق کاروں کو گرانٹ دینے کے لیے بیس لاکھ ڈالر کا سرمایہ کاری فنڈ (اگرچہ اپنے پیسوں سے نہیں) تشکیل دینے میں مدد کی ہے

اس نے ایپ پر ’کیپ یور فنگر آن دی ایپ‘ کے نام سے ایک موبائل گیم لانچ کی، جس میں جو بھی اپنے اسمارٹ فون کی اسکرین پر سب سے زیادہ دیر انگلی رکھ سکتا ہے، اسے پچیس ہزار ڈالر کا انعام دیا گیا (پہلا راؤنڈ ستر گھنٹے تک جاری رہا)، اس کے علاوہ اس نے آئی فون کے لیے وڈیو گیم کنٹرولر میں بھی رقم لگائی

سب سے کامیاب اس کا برگر برانڈ تھا، ایک ’گھوسٹ کچن‘ کا کاروبار، جس میں امریکا بھر میں ریستوران مالکان ان کے نسخے کے مطابق اپنے باورچی خانے میں ان کے برگر پیٹیز بنا سکتے ہیں اور انہیں مداحوں تک پہنچا سکتے ہیں، جبکہ ڈونلڈسن اس کی مارکیٹنگ سنبھالتا ہے

فوربز کے مطابق یہ کاروبار تیزی سے شروع ہوا اور پہلے دو ماہ میں دس لاکھ سینڈوچ اور گذشتہ جمعے تک مجموعی طور پر پچاس لاکھ سینڈوچ فروخت ہوئے۔ اس وقت تقریباً سولہ سو ریستوران شریک ہیں اور منافعے کو ڈونلڈسن کے ساتھ تقسیم کرتے ہیں

یہ سائیڈ وینچرز اس بات کی مثال ہیں، جس کو وینچر کیپیٹل فرم سگنل فائر ’انفلوئنسر معیشت‘ کا ایک نیا مرحلہ قرار دیتی ہے، جس میں مواد تخلیق کرنے والے یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر اپنی مصنوعات کو مونیٹائز کرنے سے لے کر دیگر کاروباروں تک جاتے ہیں اور اپنے مداحوں میں اپنی مصنوعات اور خدمات فروخت کرتے ہیں

ہیلن زو کا کہنا ہے کہ ڈونلڈسن ایک ایسے مقام پر ہے، جس کے لیے بہت سے آن لائن تخلیق کار جدوجہد کرتے ہیں، جب وہ کامیابی کی درمیانی صفوں سے مسٹر بیسٹ کے سٹراٹوسفیئر میں منتقل ہونے کی کوشش کرتے ہیں

وہ کہتی ہیں کہ جب وہ درمیانے درجے میں پہنچتے ہیں تو وہ کسی چیز کے بارے میں پریشان ہونا شروع کر دیتے ہیں، جو یوٹیوب، انسٹاگرام یا ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارم کے حوالے سے ان کے برانڈ کی لمبی عمر ہے

’یہ پلیٹ فارم ہر وقت اپنے الگورتھم تبدیل کرتے ہیں اور اگر وہ اپنے الگورتھم تبدیل کرتے ہیں تو ان انفلوئنسرز کو اپنی ویورشپ اور فالوورز کھونے کا خطرہ ہوتا ہے۔‘

ہیلن زو نے کہا کہ تاہم یہ بھی مداحوں کے لیے بہت آسان ہے کہ وہ کام کے نئے طریقوں کو فروخت کرنے کی اناڑی کوششوں کے طور پر دیکھ سکیں۔ ’عام طور پر یہ بہت کیا جاتا ہے، لیکن یہ یقینی طور پر ایک مشکل اقدام ہے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ فی الحال اس، کے مقابل موجود افراد میں سے کوئی بھی مسٹر بیسٹ کے تاج کو نہیں چھین سکتا۔ اس کی تازہ ترین وڈیو ’ایک لاکھ ڈالر کی انتہائی ہائیڈ اینڈ سیک‘ کو 4.7 کروڑ ویوز ملے ہیں، جس میں وہ لوگن پال سمیت دیگر مشہور یوٹیوب ناموں کو تلاش کرتا ہے، جو خالی اسپورٹس اسٹیڈیم، کوڑے دانوں، کریٹوں اور فریزر کے اندر چھپے ہیں

ہیلن زو کا کہنا ہے: ’جو چیز (یوٹیوب پر) واقعی اچھی طرح کام کرتی ہے، وہ وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اور اپنے حقیقی خیالات کو سامنے رکھتے ہیں اور وہ اپنے فالورز کے ساتھ حقیقی تعلق قائم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔‘

’وہ واقعی پرجوش لوگ ہوتے ہیں، وہ عوامی طور پر ناکام ہونے سے نہیں ڈرتے۔ اپنے آپ کو ایسی جگہ پر رکھنے کے لیے نہ صرف صلاحیت بلکہ جذباتی ہمت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ‘

یہ کہنے کے بعد ہیلن زو نے اپنے بیٹے سے دوبارہ پوچھا ”کیا وہ مسٹر بیسٹ کو دیکھتا ہے؟“ پتہ چلا کہ وہ ان کو بغیر بتائے ایسا کرتا ہے!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close