کہکشاں میں ’پراسرار‘ شے کا انکشاف کرنے والے بائیس سالہ طالب علم ٹائرن اوڈوہرٹی کون ہیں؟

پرتھ – گزشتہ دنوں آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہماری کہکشاں میں گھومتی ہوئی ایک ایسی انتہائی پراسرار شے دریافت کی ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی

اس خلائی شے کو سب سے پہلے یونیورسٹی کے ایک بائیس سالہ طالب علم نے دریافت کیا تھا، جس کا نام ٹائرن اوڈوہرٹی ہے

جب ٹائرن اوڈوہرٹی نے آسٹریلیا کے انٹرنیشنل سینٹر فار ریڈیو آسٹرونومی ریسرچ (آئی سی آر اے آر) میں بطور ایک انڈر گریجویٹ طالب علم کے شمولیت اختیار کی، تو ان کا بنیادی مقصد کائنات میں ریڈیو لہروں کی تحقیقات میں مدد کے لیے ایک کمپیوٹر پروگرام ڈیزائن کرنا تھا

لیکن اس کے بجائے انہیں نومبر 2020ع میں ہماری کہکشاں میں ایک نامعلوم گھومتی ہوئی چیز نظر آئی۔ کئی ماہ کی تحقیق کے بعد اس دریافت کا اعلان بالآخر اس جنوری میں سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں کیا گیا

بائیس سال کے اوڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ”میں صرف کچھ کوڈ لکھنے کی کوشش کر رہا تھا اور واقعی مجھے امید نہیں تھی کہ اتنی دلچسپ چیز سامنے آ جائے گی۔“

وہ ہنستے ہوئے کہتے ہیں ”اور اس نے مجھے اعزاز کے ساتھ گریجویٹ ہونے میں بھی مدد دی، لہٰذا کوئی شکایت نہیں۔“

بعد میں جب سائنسدانوں نے اس کا بغور جائزہ لیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہر اٹھارہ منٹ کے بعد اس سے ریڈیائی لہروں کی ایک بارش ہوتی دیکھی جو ایک منٹ تک جاری رہی

یوں تو خلا میں توانائی خارج کرنے والے اجسام کے بارے میں اکثر سننے میں آتا ہے لیکن آسٹریلوی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ چیز بہت ہی عجیب تھی جو ایک منٹ کے لیے چالو ہو جاتی ہے اور پھر رک جاتی ہے

ٹائرن اوڈوہرٹی سائنسدانوں کی ایک ٹیم کے ساتھ کام کر رہے تھے، جس کی قیادت خلائی طبیعات کی ماہر ڈاکٹر نتاشا ہرلی واکر کر رہی تھیں جو کرنٹن یونیورسٹی کے خلائی تحقیق کے شعبے سے منسلک ہیں

ماہرین کی ٹیم کا کہنا ہے کہ وہ اس معمے کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں

آسٹریلیا کے شہر پرتھ سے بات کرتے ہوئے اوڈوہرٹی نے کہا کہ ان کا ایک ایسی تکنیک تیار کرنے کا ارادہ تھا جو خلا میں موجود ’ٹرانسینٹس‘ چیزوں کا پتہ لگا سکے، یہ چیزیں جلتی بھجتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں

ان کے پاس ممکنہ امیدواروں کی ایک لمبی فہرست تھی، لیکن وہ انہیں تلاش کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے

اب انہیں ایک ایسی چیز تلاش کرنے کا کریڈٹ دیا جا رہا ہے جس کے بارے میں آئی سی آر اے آر کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ ”ایسی چیز پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی“ اور ماہر فلکیات کے لیے یہ ایک پراسرار دریافت ہے

جب یہ چیز دریافت کی گئی تو اس وقت اوڈوہرٹی کی عمر صرف بیس سال تھی۔ ان کے مطابق اس چیز کے بارے میں دو نظریات ہیں کہ یہ کیا ہو سکتی ہے؟

ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ یہ ایک سفید بونا ہے۔ یہ اصطلاح عموماً کسی تباہ ہونے والے ستارے کی باقیات کے لیے استعمال ہوتی ہے

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ ایک میگنیٹار ہو سکتا ہے، جو ایک قسم کے نیوٹران ستارے کی قسم ہے، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس ایک اپنی انتہائی طاقتور مقناطیسی فیلڈ ہوتی ہے

اوڈوہرٹی کہتے ہیں ”لیکن جس طرح کی چیز حرکت کر رہی ہے، اس نے ماہرین فلکیات کو حیران و پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔“

یہ ہر اٹھارہ منٹ میں ایک پورے منٹ کے لیے متواتر ریڈیو انرجی کے برسٹ پھینکتی ہے

کائنات میں توانائی خارج کرنے والی بڑی چیزیں ہیں، لیکن کوئی ایسی چیز، جو صرف ایک منٹ کے لیے آن ہوتی ہے، وہ انتہائی غیر معمولی ہے

”ہر برسٹ کے درمیان کا وقت بھی بہت غیر معمولی ہے۔ لہذا ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی بالکل ہی نئی آفاقی چیز ہو۔“

اوڈوہرٹی مانتے ہیں کہ دریافت کے حالات کا موازنہ حال ہی میں ریلیز ہونے والی نیٹ فلیکس کی طنزیہ فلم ’ڈونٹ لک اپ‘ سے کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک نوجوان فلکیات دان ایک کومٹ یا دم دار ستارہ دریافت کرتا ہے، جو ہمارے سیارے کے ساتھ تصادم کے راستے پر ہے

لیکن اوڈوہرٹی کہتے ہیں کہ یہاں موازنہ ختم ہو جاتا ہے

وہ کہتے ہیں ”ہمیں ایسا کوئی خطرہ نہیں کہ چیز ہم سے ٹکرائے گی اور تشویش کی بھی کوئی وجہ نہیں۔“

اوڈوہرٹی بتاتے ہیں کہ پراسرار چیز تقریباً چار ہزار نوری سال کی دوری پر واقع ہے. ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں طے کر سکتی ہے اور روشنی کی رفتار کائنات میں سفر کرنے کی ممکنہ سب سے تیز رفتار ہے

”یہ چیز روشنی کی رفتار کے کہیں قریب بھی سفر نہیں کر رہی ہوگی۔“

اوڈوہرٹی کا کہنا ہے ’ابتدائی طور پر یہ سوچنا کہ یہ کوئی خلائی مخلوق ہو سکتی ہے، یہ ایک جائز سوال ہے۔‘

ماہر فلکیات کہتے ہیں کہ ایک ریڈیو سگنل جو ایک ہی فریکوئنسی پر ایک ہی وقفے کے بعد دہرایا جاتا ہے ’اس کے بہت قریب ہے جو ہم خلائی مخلوق سے دیکھنے کی توقع کرتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں کہ درحقیقت مشہورِ زمانہ سرچ فار ایکسٹرا ٹیریسٹریل انٹیلیجنس (ایس ای ٹی آئی) پراجیکٹ کائنات میں بالکل اسی قسم کے سگنل کی تلاش کر رہا ہے۔

اوڈوہرٹی کہتے ہیں کہ خلائی مخلوق میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ مزید تجزیے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ہمیں ابھی کوئی خلائی مخلوق نہیں ملی

وہ کہتے ہیں کہ اس سگنل کو کئی فریکوینسیوں پر دیکھا گیا ہے

اوڈوہرٹی کے مطابق ایک اور ثبوت یہ ہے کہ اس پراسرار چیز سے آنے والے سگنل کی طرح کا ایک سگنل پیدا کرنے کے لیے درکار توانائی صرف ایک قدرتی ذریعہ ہی پیدا کر سکتا ہے

وہ کہتے ہیں کہ سگنل میں ایسا کوئی مواد نہیں جو ہمیں موصول ہوا ہو، لہٰذا میں تصدیق کرتا ہوں کہ سگنل خلائی مخلوق نے نہیں بھیجا

اس پر ماہرین فلکیات کی غیرمعمولی دلچسپی کے بارے میں اوڈوہرٹی کا کہنا ہے کہ ماہرین فلکیات کسی بھی غیر متوقع عمل پر متحرک ہو جاتے ہیں اور یہ چیز یقینی طور پر ایک خاص اشارہ کرتی ہے

وہ کہتے ہیں ”مثال کے طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ عام نیوٹرون ستاروں کے مقابلے میں بہت آہستہ گھومتی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیا ہے، جو ایک دلچسپ چیز ہے۔“

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close