مصر میں پارلیمنٹ نے انوکھا قانون پاس کر لیا

ویب ڈیسک

"دھڑ بھیڑ کا اور سر بکرے کا” کے مصداق مصر کی پارلیمنٹ نے جمہوریت کے شجر میں عسکری پیوند کاری کو قانونی جواز بخش دیا اور فوج کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے حق میں ووٹ دے کر طاقت کے منبع کے طور پر مسلح افواج کی حیثیت کو مزید تقویت بخش دی ہے۔

جمہوری اقدار سے بھونڈا مذاق کرتے ہوئے مصر کی پارلیمنٹ نے حاضر سروس فوجی اہلکاروں کے صدراتی انتخابات میں حصہ لینے کا قانون پاس کرلیا ہے۔

یہ آئینی ترمین مصری پارلیمنٹ نے گزشتہ روز منظور کر لی ہے، جس کے بعد اب موجودہ یا سابق فوجی اہلکار صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل ہوں گے۔ پارلیمنٹ نے یہ قانون بھاری اکثریت سے ہاس کر لیا ہے۔

مذکورہ ترمیم کے لئے پارلیمنٹ نے جنگ کے دوران فوج کی مدد لینے کے لئے 1968 کے ایک قانون میں موجود "مقبول قوتوں” کے قیام کی شق کا سہارا لیا ہے.

اس نئے قانون کے بعد اب آرمی چیف صدر عبدالفتاح السیسی کو 2030 تک صدر برقرار رہنے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔ السیسی کو ﺳﻨﮧ 2022 ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻟﮧ ﻣﺪﺕ ﮐﮯ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﭘﺮ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا ﺗﮭﺎ۔

ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﺳﻨﮧ 2012 ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺮﺳﯽ ﻣﺼﺮ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﺻﺪﺭ بنے ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ صرف ﺍﯾﮏ ہی ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ السیسی ﺍُﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺎ ﺗﺨﺘﮧ ﺍﻟﭧ کر اقتدار پر قابض ہو گئے تھے. جس کے بعد ملک بھر میں عوامی احتجاج بھی شروع ہو گیا تھا لیکن فوج نے ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کر کے اس احتجاج کو سختی سے کچل دیا تھا.

عوامی جمہوریہ بننے کے بعد سے مصر کے صرف دو صدور کے علاوہ باقی تمام فوجی پس منظر کے حامل رہے ہیں۔واضح رہے کہ مصر کی سیاست اور حکومت میں ہمیشہ فوج کا اثر رسوخ بہت زیادہ رہا ہے۔ مصر میں اس وقت سابق اعلیٰ فوجی افسران وزارتوں کے ساتھ گورنروں کے منصب پر بھی فائز ہیں.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close