مکالمے کو زندہ کرنا ہوگا

ایم ابراہیم خان

تمام زندہ معاشروں میں ایک خوبی نمایاں طور پر دکھائی دے گی‘ یہ کہ اُن میں لوگ اپنی بات کہنا ہی نہیں‘ سننا بھی جانتے ہیں۔ اِسی کا نام مکالمہ ہے۔ یونان کے فلاسفہ نے بھی علم کے فروغ کے لیے مکالمے ہی پر زیادہ زور دیا۔

سوچنا ہر انسان کا حق ہے اور جو کچھ سوچا جائے اُسے بیان کرنا بھی حقوق کا حصہ ہے مگر جب انسان اپنے حق کو بروئے کار لانے کے بارے میں سوچتا ہے, تب یہ بھول جاتا ہے کہ دوسروں کا بھی ایسا ہی حق ہے۔ سوچتے تو سبھی ہیں‘ تو پھر بولنا بھی سب کا حق ہوا۔ معاملات اُس وقت بگڑتے ہیں جب بالکل سامنے کی بات کو بھی غلط قرار دے کر نظر انداز کردیا جائے اور اپنی ہی بات کو درست منوانے پر زور دیا جائے۔ اگر کہیں کچھ غلط ہو رہا ہو تو اُسے غلط تسلیم کرکے اپنی رائے دینا انتہائی معقول رویہ ہے۔ یہ ہر اُس انسان کا معاملہ ہے جسے سوچنے، کہنے اور سننے کی تربیت دی گئی ہو۔

ایک دور تھا کہ ہمارے معاشرے میں بھی مکالمے کی روایت زندہ و تابندہ تھی۔ لوگ کسی بھی موضوع پر سوچتے تھے تو لکھتے یا بولتے بھی تھے۔ تب اپنی بات کو ڈھنگ سے بیان کرنے کی اہمیت تھی۔ لوگ بے ڈھنگے انداز سے بیان کی جانے والی کسی بھی بات کو قبول نہیں کرتے تھے۔ اگر کسی موضوع پر کسی کو کچھ لکھنا یا کہنا ہوتا تھا تو موقف تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بیان کیا جاتا تھا۔ کوشش یہ ہوتی تھی کہ اپنی بات ڈھنگ سے بیان کردی جائے تاکہ متعلقین سُن یا پڑھ کر کلیدی نکات کو سمجھ لیں اور جب جواب دیں تو وہ بھی معقول ہو۔ یہ اہتمام اس لیے ضروری تھا کہ بے ڈھنگے انداز سے کچھ کہنے کی صورت میں بات ادھوری رہ جاتی تھی اور لوگ کچھ کا کچھ سمجھ لیتے تھے۔

1950ء سے 1980ء تک کے تین عشروں کو پاکستانی معاشرے کے سنہرے دور سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ان تین عشروں کے دوران پاکستانی قوم نے کم و بیش ہر شعبے میں اپنے آپ کو خوب منوایا۔ کھیلوں اور فنِ تعمیر کے علاوہ علم و ادب، اداکاری، گلوکاری، فلم میکنگ، مصوری، مجسمہ سازی اور دیگر فنونِ لطیفہ میں ہم نے ایسے کارنامے انجام دیے کہ دنیا دنگ رہ گئی۔ معیشت کے میدان میں بھی ہماری کارکردگی نمایاں رہی۔ شرحِ نمو اس قدر بلند تھی کہ بعض طاقتوں پر یہ سب کچھ بہت شاق گزرا۔ تیزی سے ابھرنے والی قوم کو نیچے لانے کی کوششیں شروع ہوئیں تو اپنوں ہی میں سے بہت سوں کو منتخب کرکے ٹاسک دیا گیا اور یوں تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتی ہوئی قوم دھڑام سے زمین پر آ رہی۔ پاکستانی قوم کے خلاف کیا سازشیں کی گئیں اور سازشیں کرنے والے کون کون تھے‘ یہ بحث پھر سہی۔ ہم مکالمے پر بات کر رہے ہیں۔ جب ملک کا سنہرا دور تھا تب بیشتر معاملات میں توازن تھا۔ لوگ ڈھنگ سے سوچنے کا ہنر جانتے تھے۔ عمومی سطح پر انسان کے ذہن میں جو کچھ بھی چلتا رہتا ہے اُسے سوچ کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ ہم یومیہ بنیاد پر جو کچھ دیکھتے ہیں اُس کے حوالے سے ہمارے ذہن میں ردِعمل پیدا ہوتا ہے اور ہم اُس ردِ عمل کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اِس عمل کو سوچنا نہیں کہا جاسکتا۔ سوچنا بہت آگے کی منزل ہے جو انسان کو رفعت سے ہم کنار کرتی ہے۔ سوچ ہی انسان کو عمومی سطح سے بلند کرکے کسی قابل بناتی ہے۔ آپ اپنے ماحول میں بہت سوں کو دیکھتے ہیں کہ بس جیے جارہے ہیں۔ اُن کی زندگی میں سوچ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ وہ اپنے شب و روز میں کوئی بھی ایسی تبدیلی نہیں چاہتے جس سے دوسروں کو اُن کے بارے میں کچھ فرق محسوس ہو۔ ایسے لوگ زندگی بسر کرنے نام پر محض سانسوں کی گنتی پوری کر رہے ہوتے ہیں۔ اِن کے ہونے نہ ہونے سے معاشرے کو کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ایسی زندگی کو کسی بھی درجے میں‘ اول تو زندگی قرار نہیں دیا جاسکتا اور اگر زندگی کہہ بھی لیا جائے تو بہر کیف اُس میں ایسا کچھ نہیں ہوتا جس سے دوسرے متاثر ہوں اور کچھ سیکھنے کی کوشش کریں۔ سوچ ہی انسان کو دوسروں سے الگ کرتی ہے۔ سوچنے کے عمل ہی سے انسان کچھ کرنے کے قابل ہو پاتا ہے۔ ہر معاشرے میں وہ لوگ کامیاب رہے جنہوں نے سوچنے پر توجہ دی اور اپنے خیالات سے دوسروں کو بھی مستفیض کرنے کی کوشش کی۔ دوسروں کو مستفیض کرنے کا معاملہ تھوڑا ٹیڑھا ہے۔ معاشرے میں اکثریت اُن کی ہے جو سوچنا چاہتے ہی نہیں بلکہ جانتے بھی نہیں۔ ایسے میں اُنہیں سوچنے کی طرف لانا، سوچنے کے فوائد کا قائل کرنا بہت مشکل ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ سوچنے سے گریز کا رُجحان انسان کو بیشتر معاملات میں دوسروں کی بات سُننے سے روک دیتا ہے۔ دوسروں کی بات وہی لوگ سن پاتے ہیں جو خود سوچنے کے عادی ہوتے ہیں کیونکہ ایسی صورت میں اُن کے پاس کہنے کے لیے کچھ ہوتا ہے۔ جن کے ذہن خالی ہوں وہ کسی اور کی بات سُننے کے بھی قائل نہیں ہوتے کیونکہ اُنہیں بولنے کے معاملے میں اپنی بے بضاعتی کا زیادہ شدت سے احساس ہوتا ہے۔

ہمارے معاشرے کے سنہرے دور میں لوگ پڑھنے، سننے اور سوچنے کے عادی تھے۔ تب پڑھنا واقعی پڑھنا تھا۔ آج کی طرح سوشل میڈیا کی پوسٹس پڑھنے کو مطالعہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لوگ اخبار پڑھتے تھے تو پوری توجہ اور تمام جزئیات کے ساتھ۔ کتابیں بھی خاصی دلجمعی کے ساتھ پڑھی جاتی تھیں۔ کوشش یہ ہوتی تھی کہ مطالعے سے کچھ نہ کچھ سیکھا جائے اور اُسے دوسروں تک منتقل کیا جائے۔ اِسی کا نام مکالمہ ہے۔ جب انسان پڑھتا، سُنتا اور سوچتا ہے تو اُس کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے۔ خیالات کے تبادلے سے ذہن کی وسعت میں اضافہ ہوتا ہے۔ جو لوگ مطالعہ کرکے اپنی ذات تک محدود رہتے ہیں وہ بالعموم زیادہ بارآور زندگی بسر نہیں کر پاتے۔ انسان جو کچھ پڑھتا اور (اُس کی بنیاد پر) سوچتا ہے اُس کا تبادلہ بھی کیا جانا چاہیے۔ مکالمے کی صورت میں انسان اپنی بات کہتا ہے اور دوسروں کی سنتا ہے۔ یہ عمل شخصیت کی تعمیر و توسیع میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جن معاشروں میں مکالمے کی روایت زندہ رہتی ہے اُن میں سوچ کا معیار بھی بلند ہوتا جاتا ہے۔ مغرب کے بیشتر معاشروں میں مکالمے کی روایت زندہ ہے یعنی لوگ اپنی بات سلیقے سے کہتے ہیں اور دوسروں کی بات سن کر ہضم کرنے کا ظرف بھی رکھتے ہیں۔ یہ صفت انسان کو عمومی سطح سے بہت بلند کرتی ہے۔ اپنی بات ڈھنگ سے کہنے کا ہنر کم لوگوں کو آتا ہے۔ ہمارے جیسے معاشروں میں لوگ بے ترتیب خیالات کو کسی نہ کسی طور زبان پر لے آنے کو مؤقف بیان کرنا کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ مؤقف ایسے خیالات کا مجموعہ ہے جو منظم اور مضبوط ہوں اور جن کے بیان کیے جانے سے فریقِ ثانی کو بھی کچھ کہنے کی تحریک ملے یا اُسے کچھ کہنے پر مجبور ہونا پڑے۔ بے ترتیب خیالات بے ڈھنگے ردِعمل ہی کو دعوت دیتے ہیں۔ یوں ”خیالات‘‘ کا تبادلہ بے جان رہتا ہے۔ مکالمہ اپنی بات شائستگی سے بیان کرنے کے ساتھ دوسروں کی بات تحمل سے سننے کا بھی نام ہے۔ جہاں علم کا عمل دخل زیادہ ہو وہاں بات کہنے کا سلیقہ سیکھنے پر توجہ دی جاتی ہے۔ جب تک ہمارے معاشرے میں علم دوستی رہی‘ لوگ مطالعہ کرکے بات ڈھنگ سے کہنے کے عادی رہے اور دوسروں کی بات بھی تحمل سے سننے کا حوصلہ باقی رہا۔ جب مطالعے کی روایت ترک کردی گئی تو سوچنے کا عمل بھی رک گیا۔ سوچنے کی عادت سے گلو خلاصی نے ذہن میں پیدا ہونے والے عمومی ردِعمل ہی کو خیالات سمجھنے پر اُکسایا۔

سوچنے کا عمل ترک کیے جانے سے خیالات میں بالیدگی پیدا ہونے کا عمل بھی موقوف ہوا۔ یوں بے ڈھنگے ردِعمل کو خیالات کہہ کر پیش کرنے کا چلن عام ہوا۔ جب یہ چلن زور پکڑ گیا تو مکالمے کی روایت دم توڑتی گئی۔ اب لوگ مکالمہ نہیں کرتے بلکہ اپنی رائے دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بھی دم توڑتے معاشروں کی نشانیوں میں سے ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر کہیے اور فریقِ ثانی کی بات بالکل نہ سنیے۔ اب مکالمے کی روایت کا احیا ہم پر لازم ٹھہرا۔ یہ کام اساتذہ، مصنفین اور مقررین سمیت تمام اہلِ علم کا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close