امریکا نے کن کن حکومتوں کے تخت الٹے؟

سجاد اظہر

عمران خان کی جانب سے ان کی حکومت بدلنے کے پیچھے امریکی ہاتھ کی موجودگی کی بات میں کتنا س ہے؟ اس کا تصفیہ تو آنے والا وقت کرے گا، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا نے سرد جنگ کے دوران دنیا کے مختلف ممالک میں 72 بار حکومتیں بدلنے کی کوشش کی ہے، اور اس کا پہلی بار انکشاف وکی لیکس میں سامنے آیا تھا

1947ع سے 1989ع کے دوران امریکا نے 72 حکومتوں کو بدلنے کی کوشش کی۔ وکی لیکس کے مطابق ان میں سے 66 آپریشنز خفیہ تھے جبکہ چھ ایسے تھے، جہاں امریکا نے سرعام حکومتیں گرانے کی کوششیں کیں۔ یہ تمام کے تمام آپریشنز سرد جنگ کے دوران کیے گئے تھے، جس میں ایک جانب اگر روس کوئی حکومت بنا رہا تھا تو دوسری جانب امریکا اسی حکومت کو گرانے کی کوشش میں شریک تھا

بغیر جانی نقصان حکومتوں کی تبدیلی

امریکا نے جن حکومتوں کے تختے الٹے، ان میں سے شاید سب سے معروف واقعہ ایران میں ڈاکٹر مصدق کی منتخب حکومت کی معزولی ہے۔ اس آپریشن کے سربراہ کرمٹ روزویلٹ نے جب اپنے مشن کی کامیابی کی خبر امریکی صدر آئزن ہاور کو دی تو صدر، جو دوسری جنگِ عظیم میں متحدہ فوج کے سپریم کمانڈر تھے، حیرت زدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے روزویلٹ سے کہا کہ جو کام فوجیں بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھا کر کرتی ہیں، وہ سی آئی اے نے ایک بھی امریکی جانی نقصان کے بغیر صرف چند ملین ڈالر میں کر دکھایا ہے

ایسا نہیں کہ ہر بار امریکا فاتح رہا ہو۔ وکی لیکس کے مطابق 72 میں سے صرف 26 حکومتوں کو بدلنے میں امریکا کو کامیابی ملی جبکہ 40 میں وہ ناکام رہا

امریکا کی جانب سے چھتیس حکومتیں گرانے کی کوششیں مختلف عسکری و سیاسی گروہوں کی مدد سے کی گئیں

سیاسی طور پر صرف پانچ میں کامیابی ملی، جبکہ براہ راست فوج کی مدد سے اسے چودہ حکومتیں گرانے میں کامیابی ملی

حکومتیں گرانے کے سولہ واقعات ایسے تھے، جہاں انتخابات کے ذریعے من پسند پارٹیوں کو فنڈز دے کر اور مخالف حکومتوں کے خلاف پراپیگنڈا کر کے انہیں ختم کیا گیا

تاہم یہ کہنا کس حد تک درست ہے کہ اگر امریکا ان امیدواروں کی بر وقت امداد نہ کرتا تو وہ انتخابات جیت پاتے؟ اس حوالے سے سی آئی اے کے ڈائریکٹر رے ایس کلائن نے ایک موقعے پر کہا تھا ”حکومتیں بدلنے میں کامیابی کا انحصار صحیح وقت اور درست حکمت عملی پر ہے“

یہ شان و شوکت تھوڑی دیر کی ہے

مختار مسعود جب آر سی ڈی کے سیکریٹری جنرل تھے، تو وہ تنظیم کے ہیڈ کوارٹر واقع تہران میں ان دنوں تعینات رہے، جب شاہِ ایران کا تختہ الٹا جا رہا تھا۔ انہوں نے ایران میں اپنے قیام کی یادادشتوں پر مشتمل ایک کتاب ’لوحِ ایام‘ لکھی

اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ آر سی ڈی کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے انہیں شہنشاہِ ایران نے ایک بار خصوصی دعوت پر اپنے خاص جزیرے پر مدعو کیا۔ تہران سے جو جہاز انہیں اس جزیرے پر لے کر جا رہا تھا، اس کا پائلٹ پاکستان ایئر فورس کا سابق آفیسر تھا۔ اس نے راستے میں مجھے اس جزیر ے کی خاصیت اور یہاں ٹھہرائے جانے والے خاص مہمانوں کے بارے میں بتانا شروع کیا کیونکہ یہ اس کے فرائضِ منصبی کا حصہ تھا

جب وہ یہ سب کچھ بتا چکا تو کہنے لگا، ’سر، اس جزیرے پر شہنشاہ کے پچھلے مہمان سی آئی اے کے چیف تھے۔ جب میں انہیں یہ ساری باتیں بتا رہا تھا تو ان کے منہ سے نکل گیا کہ ’اب یہ شان و شوکت تھوڑی دیر کی ہے۔‘

پائلٹ نے کہا، ’سر، بظاہر شاہ مضبوط ہے اور ابھی تو اس نے اپنی شہنشاہیت کا اڑھائی ہزار سالہ جشن بھی منایا ہے، پھر سی آئی اے چیف یہ کیوں کہہ رہا تھا؟‘

لیکن بعد کے واقعات تاریخ کا حصہ ہیں کہ ایران میں شاہ کا تختہ الٹ دیا گیا اور وہاں ایک ”اسلام پسند“ حکومت برسر اقتدار آ گئی

ایران 1953

امریکا کے معروف جریدے فارن پالیسی میگزین نے اپنی ایک اشاعت میں لکھا کہ امریکا نے حکومتیں بدلنے کی روش کا آغاز ایران سے کیا جو بعد میں رکا نہیں بلکہ اب تک جاری و ساری ہے

اگرچہ اس سے پہلے شام میں 1949 میں فوجی حکومت کے قیام کے پیچھے بھی امریکی ہاتھ ہی بتایا جاتا ہے، تاہم ایرانی وزیراعظم ڈاکٹر مصدق سرد جنگ کے دوران امریکا کا پہلا نشانہ بنے۔ 1953 میں جب ایران کے وزیراعظم ڈاکٹر مصدق نے شاہ کی اتھارٹی کو چیلنج کرتے ہوئے ایران کی تیل کی صنعت، جس کا انتظام پہلے برطانوی کمپنیاں چلا رہی تھیں، اسے قومیا لیا تو انہیں نہ صرف حکومت سے بے دخل کر دیا گیا بلکہ گرفتار بھی کر لیا گیا، جہاں ان کی باقی زندگی نظر بندی میں گزری

بعد ازاں اس حوالے سے امریکا نے جو خفیہ دستاویزات افشا کیں، ان میں کہا گیا تھا کہ اگر اس وقت یہ قدم نہ اٹھایا جاتا تو ایران روسی بلاک میں چلا جاتا۔ یہ وہ وقت تھا جب سرد جنگ عروج پر تھی اور امریکا کوریا میں روسی اور چینی فوجوں کے ساتھ ایک غیر اعلانیہ جنگ میں شریک تھا

گوئٹے مالا 1954

امریکا ابتدا میں گوئٹے مالا کے صدر جیکب آربنز کی مدد کر رہا تھا، تاہم جب گوئٹے مالا کے صدر نے زرعی اصلاحات کیں تو امریکی کمپنیوں کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو گیا۔ اس کے بعد امریکا نے گوئٹے مالا کے صدر کے مخالف باغیوں کو اسلحہ فراہم کیا گیا۔ گوئٹے مالا کی بندرگاہ کی ناکہ بندی کر دی گئی، جس پر صدر آربنز اپنا عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیے گئے

انڈونیشیا 1958

انڈونیشیا میں سوئیکارنو کی حکومت کو اس وقت مشکلات پیش آئیں، جب اس کے کئی علاقائی کمانڈروں نے جکارتہ سے خودمختاری کا مطالبہ کر دیا۔ فروری 1958ع میں سماٹرا اور سلاویسی نے سوئیکارنو کے خلاف اتحاد قائم کر لیا، جس میں کئی سیاسی رہنما بھی شامل ہو گئے۔ امریکا نے کمیونسٹ پارٹی کے خلاف اس اتحاد کو اسلحہ فراہم کیا۔ سوئیکارنو کے حامی اور مخالفین میں جنگ چھڑ گئی، اس دوران ایک امریکی جہاز بھی مار گرایا گیا

سوئیکارنو نے 1958ع تک بغاوت کو کچل دیا، جس کے بعد صدر جان ایف کینیڈی نے سوئیکارنو کو واشنگٹن بلایا اور اسے اربوں ڈالر کی امداد دی

کیوبا 1959

امریکی صدر آئزن ہاور اور کینیڈی نے کیوبا کے صدرفیڈل کاسترو کے مخالف رہنماؤں کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کی تاکہ وہ کاسترو کی آمریت کے خلاف جدوجہد کر سکیں۔ سی آئی اے نے فیڈل کاسترو کو مارنے کے لیے کئی بار کوششیں کیں، مگر اسے ہر بار ناکامی ہوئی

کانگو 1960ع

کانگو کی آزادی کے بعد جب وہاں کے وزیراعظم پیٹریس لمومبا کی جانب سے بیلجیئم کے معاشی مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو کانگو کے صدر نے وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دیا، جس پر برطرف وزیراعظم نے روس کی طرف رجوع کر کے فوجی مدد حاصل کر نے کی کوشش کی تو انہیں سی آئی اے نے نشانہ بنایا۔ اسے پہلے زہر دے کر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ناکامی پر انہیں پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں مار دیا گیا

عراق 1960-63

عراقی وزیراعظم عبد الکریم قاسم نے دو سال پہلے مغربی حمایت یافتہ عراقی آمر فیصل دوم کو نکال باہر کیا تھا۔ ان کی حکومت میں کمیونسٹ پارٹی کا اثر و رسوخ بڑھ رہا تھا اور وہ کویت پر حملہ کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے جس پر عراق اور برطانیہ کے درمیان جنگ کی صورت حال پیدا ہو گئی تھی

امریکا نے قاسم کو قتل کرنے کی کوشش کی، جو ناکام ہو گئی۔ قاسم کی کابینہ کے سولہ ممبران میں سے بارہ بعث پارٹی کے ارکان تھے، جب قاسم نے جمال عبدالناصر کی جانب سے متحدہ عرب رپبلک قائم کرنے کی تجویز کی حمایت نہیں کی تو وہ اس کے خلاف ہو گئے اور آٹھ فروری 1963ع کو قاسم کو بعث پارٹی کے ایک اسکواڈ نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا

امریکا نے نئی حکومت کے ساتھ اتحاد بنا لیا مگر جلد ہی احمد حسن البکر نے امریکی حمایت یافتہ صدر عبد السلام کو نکال باہر کیا

ڈومینکن رپبلک1961

رافیل تراجیلو کی آمریت کے دوران ڈومینکن رپبلک میں ہیٹی کے ہزاروں باشندوں کو نسل پرستانہ فسادات کے دوران مار دیا گیا اور وینزویلا کے صدر کو بھی ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر اسے سیاسی مخالفین کی جانب سے قتل کر دیا گیا۔ اگرچہ اس کے قاتل نے بیان دیا کہ اس نے یہ قتل کسی کے کہنے پر نہیں کیا مگر بعد ازاں معلوم ہوا کہ اسے تین پستول اور گولیاں امریکا کی جانب سے فراہم کی گئی تھیں

جنوبی ویت نام 1963

امریکا جنوبی ویت نام میں کافی اثر رسوخ حاصل کر چکا تھا کہ وہاں کے صدر ناگو دن نے بدھ مت سے تعلق رکھنے والے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا، جس پر امریکا اور اس کے درمیان تناؤ پیدا ہو گیا

پینٹاگان پیپرز کے مطابق 23 اگست 1963ع کو جنوبی ویت نام کے کچھ جرنیلوں نے ایک پلان امریکی حکام کے سامنے رکھا جس کے بعد جرنیلوں نے اسی سال یکم نومبر کو صدر کو ہلاک کر دیا۔ اس کے لیے سی آئی اے فنڈز سے چالیس ہزار ڈالر کی ادائیگی کی گئی

برازیل 1964

امریکا کے برازیل میں سفیر لنکن گورڈن نے لکھا کہ برازیلی صدر جاؤ گولارٹ برازیل کو چین کی طرز پر آگے لے کر جا رہے ہیں۔ جس پر امریکا نے برازیل کی فوج کے سربراہ کاسٹیلو برانکو کے ذریعے 1964ع میں برازیل کے صدر کا تختہ الٹ دیا۔ اس دوران سی آئی اے نے صدر کے خلاف مظاہرین کو پیسہ اور اسلحہ دیا۔ اس وقت کے امریکی صدر لنڈن بی جانسن نے حکم دیا تھا کہ برازیلی صدر کو اس کے عہدے سے ہٹانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے۔ جس کے بعد 1985ع تک برازیلی فوج نے ملک پر حکومت کی

چلی 1973

1970ع میں جب ایک سوشلسٹ رہنما سالواڈور الیاندے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے صدر بن گئے تو صدر رچرڈ نکسن نے سی آئی اے کو ہدایت کی کہ چلی کی معیشت کو تباہ کر دیا جائے

اس مقصد کے لیے سی آئی اے نے چلی کے تین گروہوں کے ساتھ کام کیا اور انہیں اسلحہ فراہم کیا، مگر یہ سازش کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس کے بعد جنرل آگستو پنوشے کے ذریعے صدر کے خلاف 1973ع میں بغاوت کروائی گئی، جس نے اپنے مخالفین کو چن چن کر قتل کیا مگر سی آئی اے نے نئی حکومت کی مدد جاری رکھی

افغانستان 1979-89

اپریل 1978 میں کمیونسٹ نظریات رکھنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان اقتدار میں آ گئی جس کے خلاف مشرقی افغانستان میں بغاوت شروع ہو گئی

جلد ہی اس بغاوت نے خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی۔ روس نے حکومت کی مدد کے لیے اپنی فوجیں بھیج دیں دوسری جانب امریکا نے پاکستان میں باغیوں کی مدد کے لیے تربیتی کیمپ قائم کر لیے۔ ستمبر 1979ع میں صدر نور محمد ترکئی کو حافظ اللہ امین کے لوگوں نے قتل کر دیا۔ بعد میں حافظ امین کو روسی فوج نے قتل کر دیا

آنے والے سالوں میں افغانستان، امریکہ اور روس کے درمیان میدان جنگ بن گیا۔ امریکہ نے پاکستان کے ذریعے افغان مجاہدین کو اربوں ڈالر دیے جس کی وجہ سے سرخ فوج کو افغانستان میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا

ترکی 1980

ترکی میں 12 ستمبر 1980ع کی فوجی بغاوت سے ایک روز پہلے تین ہزار امریکی فوجی ترکی پہنچے۔ 1981ع کے اختتام پر امریکن ٹرکش ڈیفنس کونسل کا قیام عمل میں آ چکا تھا۔ ترکی میں کامیاب فوجی بغاوت کے بارے میں انقرہ میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف پال ہنزے نے تسلیم کیا کہ ترکی کی حکومت کا تختہ الٹنے کا کارنامہ ہمارے لوگوں نے سر انجام دیا ہے

پولینڈ 1980-81

جب پولینڈ میں روسی افواج حرکت میں آئیں تو امریکہ نے پولینڈ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور عوامی رابطہ مہم چلائی اور روسی مداخلت کے خلاف حکومت کی مدد کی

نکارا گوا 1981-90

سی آئی اے نے سندنیستا کی حکومت کو ختم کیا، نکارا گوا کی بندرگاہ کو تباہ کر دیا اور حکومت مخالف عسکری گروہوں کو اسلحہ فراہم کیا

عالمی عدالت انصاف نے نکارا گوا کی منتخب حکومت کے خلاف باغیوں کی مدد کرنے پر امریکہ کے خلاف فیصلہ دیا، جس کے بعد 1984ع کے عام انتخابات میں سندنیستا کی جماعت جیت گئی، لیکن امریکہ نے وہاں مخالف جماعتوں کی مدد جاری رکھی جس کی وجہ سے 1990ع میں سندنیستا کی حکومت ختم ہو گئی اور ان پر جنگی جرائم کے مقدمات قائم کر دیے گئے

کمبوڈیا 1980-95

امریکا نے کمبوڈیا میں روسی مخالفین کو مدد فراہم کی اس دوران خانہ جنگی میں چار لاکھ ساٹھ ہزار لوگ مارے گئے۔ کمیونسٹ حکومت کو کمبوڈیا کے بیس لاکھ لوگوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے

انگولا 1980

انگولا میں کیوبا کی حمایتی حکومت اور جنوبی افریقہ کی حمایت یافتہ عسکری گروہوں کے درمیان خانہ جنگی میں دس لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے۔ ریگن انتظامیہ نے کمیونسٹ مخالف باغی گروہوں کو مدد فراہم کی جنہوں نے حکومت کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا اور اقتدار حاصل کر لیا۔ تاہم امریکی حمایت یافتہ رہنما سومبی کو فوج نے 2002ع میں قتل کر دیا۔ اس کے بعد سے انگولا دو متحارب گروہوں میں تقسیم ہے

فلپائن 1986

امریکا نے کئی دہائیوں تک صدر مارکوس کی حمایت کی لیکن پھر اچانک اس نے مارکوس کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور اکی ہینو کے حق میں دستبردار کروایا

افغانستان 2001

امریکا نے 11 ستمبر کے حملوں کو جواز بناتے ہوئے طالبان کی حکومت ختم کر کے اقتدار شمالی اتحاد اور دیگر اتحادی رہنماؤں کے سپرد کیا۔ تاہم 2021ع میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد طالبان نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا

عراق 2002-03

وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کو جواز بنا کر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے صدام حکومت کا خاتمہ کر دیا اور بعد ازاں صدام حسین کو نئی عراقی کی جانب سے پھانسی دے دی گئی

ہیٹی 2004

ہیٹی کے صدر جین برٹرنڈ جب دوسری بار صدر منتخب ہوئے تو ان کے خلاف بغاوت کروائی گئی اور انہیں گرفتار کروا کر امریکی جہاز میں ملک سے باہر بھیج دیا گیا

غزہ 2006

2006ع میں فلسطین میں ہونے والے انتخابات میں حماس اور الفتح نے کامیابی حاصل کر کے متحدہ حکومت بنائی جس کی سربراہی اسماعیل ہنیہ کر رہے تھے۔ 2007ع میں حماس نے غزہ کا کنٹرول سنبھال لیا اور الفتح کے حکام کو برطرف کر دیا جس میں ہونے والی جھڑپوں میں ایک سو اٹھارہ افراد مارے گئے۔ اسی سال امریکہ نے الفتح کے رہنما صدر عباس کو 8.4 کروڑ ڈالر فراہم کیے تا کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکے۔ امریکہ نے حماس کو دہشت قرار دیتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کی مدد کی

صومالیہ 2006-07

امریکا 2006ع سے صومالیہ کے اسلام مخالف جنگی سرداروں کی مدد کر رہا ہے۔ صومالیہ میں اگرچہ اسلامک کورٹ یونین کی عمل داری ہے تاہم ا س پر خواتین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام ہے

 ایران 2005 تا حال

امریکا ایرانی حکومت کے خلاف کام کرنے والی سیاسی جماعتوں اور ان کے لوگوں کو سالانہ تیس لاکھ ڈالر دے رہا ہے جو ایران اور ایران سے باہر حکومت کے خلاف سماجی میڈیا اور دیگر ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے کام کر رہے ہیں

امریکی کانگریس نے 2006 میں ایرانی حکومت مخالف گروہوں کی مدد کے لیے ’فریڈم اینڈ سپورٹ ایکٹ‘ منظور کیا جس کے تحت انہیں سالانہ ایک کروڑ ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے

امریکی چینل اے بی سی نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ 2007ع میں صدر بش نے ایران میں بغاوت کے لیے چالیس کروڑ ڈالر خرچ کرنے کی منظوری دی تھی

یہ ایک عام تاثر ہے کہ امریکا ایران میں برسر پیکار تنظیموں کی مدد بھی کر رہا ہے تاکہ وہاں حکومت بدلی جا سکے

لیبیا 2011

عرب بہار کے دوران جب لیبیا میں حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوئے تو امریکا نے وہاں اپوزیشن کی مدد کے لیے اسلحہ فراہم کیا اور قذافی کی فوجوں پر بمباری کی جس کی وجہ سے کرنل قذافی کی حکومت ختم ہو گئی اور انہیں ہلاک کر دیا گیا

شام 2012 تا حال

صدر اوباما نے شام میں حکومت کی تبدیلی کے لیے اپنے اداروں کو احکامات دیے۔ 2012ع میں ’فری شام‘ نام کی ایک فوجی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی اور انہیں ہتھیاروں اور دیگر امداد کی مد میں ایک ارب ڈالر سے زائد کی مدد فراہم کی گئی۔ باغیوں کو سی آئی اے نے ہر طرح کی مدد فراہم کی۔ تاہم امریکی حمایت یافتہ باغی گروہ شام کی خانہ جنگی میں مسلسل شکست سے دوچار ہیں لیکن امریکا ان کی مدد مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے

پاکستان امریکا کا اتحادی رہا ہے روس کی افغانستان میں مداخلت سے لے کر 11 ستمبر کے حملوں کے بعد سے افغانستان میں امریکی مفادات کو جب جب خطرہ ہوا پاکستان نے ہمیشہ صف ِ اوّل کا کردار ادا کیا

ان دونوں مرحلوں پر اقتدار براہ راست فوجی حکمرانوں کے پاس رہا ہے، اس لیے ایک عام تاثر ہے کہ پاکستان میں فوجی اقتدار کو امریکی مدد حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس بات کا اعتراف امریکا کی کسی دستاویز میں سامنے نہیں آیا بلکہ 11 ستمبر کے بعد ہونے والی جنگ میں پاکستان پر الزام ہے کہ اس نے درپردہ امریکی مخالفین کو مدد فراہم کی ہے

افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد سے پاک امریکا تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں۔ لیکن روس یوکرین جنگ کے بعد سے پاکستان پر امریکا کا شدید دباؤ ہے کہ وہ اس جنگ میں مغرب کا ساتھ دے

اسی پس منظر میں عمران خان نے اپنی حکومت کو گرائے جانے کے پیچھے امریکی ہاتھ کی موجودگی کا الزام عائد کیا ہے.

نوٹ: اس مضمون کی تیاری کے لیے وکی لیکس، فارن پالیسی میگزین، ملٹری ہسٹری ڈاٹ کام اور واشنگٹن پوسٹ سے مدد لی گئی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close