پاکستانی سیاست، بندہ ہنسے کہ روئے؟

ویب ڈیسک

پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں سنسنی خیز مقابلہ ڈرامائی انداز میں ختم ہوگیا، جہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمزہ شہباز نے عہدہ برقرار رکھا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنما پرویز الہٰی کو آخری لمحات میں ان کے پارٹی اراکین کی جانب سے ڈالے گئے ووٹ ’مسترد‘ کر دیے گئے اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا

ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پاکستان مسلم لیگ ق کے دس ووٹ مسترد کرتے ہوئے حمزہ شہباز کو وزیر اعلٰی ’برقرار رکھنے‘ کی رولنگ دی

ڈپٹی اسپیکر نے مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین کے لکھے گئے خط کو بنیاد بناتے ہوئے کہا کہ ’سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پارٹی سربراہ کی ہدایت کے خلاف پارٹی ارکان کا ووٹ نہیں گنا جاسکتا۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ مذکورہ رولنگ دینے والے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری خود بھی 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے

پسِ منظر

17 جولائی کے بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کی 15 سیٹوں پر بھرپور کامیابی کے بعد عام تاثر یہی تھا کہ پنجاب کی وزارت اعلٰی کا تاج چودھری پرویز الٰہی کے سر پر سجے گا کیونکہ انہیں موجودہ وزیراعلٰی حمزہ شہباز پر واضح عددی اکثریت حاصل ہوگئی تھی

تاہم 19 جولائی کو لاہور میں شکست خوردہ حکومتی اتحاد کے اجلاس کے بعد جب پیپلز پارٹی کے صدر آصف زرداری کی کار فراٹے بھرتی ہوئی مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت کے گھر کی طرف روانہ ہوئی تو سیاسی پنڈت حیران تھے کہ پاکستانی ’سیاست کے گرو‘ آصف زرداری اس صورتحال میں کون سی چال چلیں گے جو حمزہ شہباز کو صاف نظر آتی شکست سے بچا سکے

انہوں نے چودھری شجاعت کے گھر سے نکلتے ہوئے وکٹری کا نشان بھی بنایا جس پر تجزیہ کاروں نے تبصرے کیے کہ شاید انہیں شجاعت حیسن کی حمایت مل جائے

اس بار پی ٹی آئی کیمپ پُرامید تھا کہ آصف زرداری بھی اس بار کچھ نہیں کر پائیں گے۔ ایسے میں چوہدری شجاعت کا ایک بیان بھی سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اپنے ارکان کو چودھری پرویز الٰہی کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایت کریں گے

یہاں قابل ذکر بات یہ کہ اس سب کے باوجود آصف زرداری کی ملاقاتوں کا سلسلہ نہ رکا اور پھر انہوں نے جمعرات کو چودھری شجاعت حسین سے دو ملاقاتیں کیں، جن میں سے ایک (ملاقات) پانچ گھنٹے طویل تھی

اس ملاقات کی جو تصویر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دونوں بزرگ سیاست دان مذاکرات کرتے کرتے اتنے تھک گئے کہ آرام دہ صوفوں پر نیم دراز ہوگئے۔ ایک تصویر میں آصف زرداری چوہدری شجاعت کے سامنے جھک کر ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے ہوئے نظر آئے

پھر جمعے کو وزارت اعلٰی کے لیے ووٹنگ سے قبل ایک بار پھر آصف زرداری کی چودھری شجاعت سے ملاقات ہوئی اور وہ خبر سامنے آئی کہ جس نے سیاسی منظر نامہ ہی الٹ دیا

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے اپنے ارکان اسمبلی کو اپنی ہی جماعت کے رکن پرویز الٰہی کو ووٹ نہ دینے کی ہدایت کی تھی۔ پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں وزارت اعلٰی کے لیے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار تھے

’پارٹی سربراہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی بنیاد پر‘ ڈپٹی اسپیکر نے پاکستان مسلم لیگ ق کے ارکان کے پرویز الٰہی کو ڈالے گئے دس ووٹ مسترد کر دیے، یہ رولنگ دینے والے ڈپٹی اسپیکر خود پی ٹی آئی کی ٹکٹ پر منتخب ہو کر ڈپٹی اسپیکر بنے ہوئے ہیں

سیاسی انڈا گھٹالہ اور نئی بحث

پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی جانب سے مسلم لیگ (ق) کے 10 ووٹ مسترد کیے جانے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کے خط کی روشنی میں ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلی کو آخری وقت پر حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی ہدایات کیا قانونی طور پر درست تھیں؟ خاص طور پر جب سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کر دی ہے

سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر فیصلے میں کہا تھا کہ منحرف رکن اسمبلی کا پارٹی پالیسی کے برخلاف دیا گیا ووٹ شمار نہیں ہوگا جبکہ تاحیات نااہلی یا نااہلی کی مدت کا تعین پارلیمان کرے

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کی اور فیصلہ دو کے مقابلے میں تین کی برتری سے سنایا گیا

سپریم کورٹ نے بتایا:

عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63-اے آرٹیکل 17 کے تحت سیاسی جماعت کے بنیادی حق کا نفاذ کرتا ہے، اس لیے اس کی تشریح اور اطلاق وسیع بنیاد پر بنیادی حقوق کے ساتھ کرنا چاہیے

سپریم کورٹ کا فیصلے میں کہنا تھا کہ ایوان میں ایک پارلیمانی پارٹی کا کسی بھی رکن کا ووٹ آرٹیکل 63-اے کی ذیلی شق ایک کے پیرا بی کے تحت اول الذکر کی جاری کردہ کسی ہدایت کے خلاف دیا جائے تو شمار نہیں کیا جاسکتا اور اس بات سے قطع نظر کہ پارٹی سربراہ انحراف کی وجہ بننے والے ووٹ کے بعد کارروائی کرے یا نہ کرے

آرٹیکل 63 اے کے مطابق کسی رکن پارلیمنٹ کو انحراف کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگر پارلیمنٹیرین وزیراعظم یا وزیر اعلیٰ کے انتخابات کے لیے اپنی پارلیمانی پارٹی کی طرف سے جاری کردہ کسی بھی ہدایت کے خلاف ووٹ دیتا ہے یا عدم اعتماد کا ووٹ دینے سے باز رہتا ہے تو اس سے نااہل قرار دیا جاسکتا ہے

بیرسٹر اسد رحیم خان نے کہا کہ وہ دوست مزاری کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کا متن واضح ہے کہ آپ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کے مطابق ووٹ کاسٹ کریں، آئین اس کی وضاحت کرتا ہے جبکہ چوہدری شجاعت کے خط کی کوئی قانونی اور آئینی اہمیت نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر کو پی ایم ایل (ق) کے ووٹوں کو مسترد نہیں کرنا چاہیے تھا

اسد رحیم کا کہنا تھا کہ دوست مزاری نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بالکل ہی غلط سمجھا

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بدقسمت دن ہے کہ واضح قانون کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے لوگوں کو 10 اپریل کی صورتحال پر واپس لے جایا گیا، جس دن سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوئی تھی

اسد رحیم کا مزید کہنا تھا کہ دوست محمد مزاری کا فیصلہ اسی طرح مکمل طور پر غیر قانونی ہے، جیسا کہ قاسم سوری کا اپریل کا فیصلہ تھا

آرٹیکل 63 اے پارٹی سربراہ کے بجائے واضح طور پر پارلیمانی پارٹی کی ہدایت کے مطابق ووٹنگ کا کہتا ہے

سابق وزیر قانون خالد رانجھا کے مطابق ’یہ معاملہ آئین کے آرٹیکل 63 اے کا ہے اور اس میں یہ واضح ہے کہ اس میں پارٹی سربراہ نہیں بلکہ پارلیمانی پارٹی کی رائے مانی جاتی ہے

انہوں نے کہا کہ ’سیاسی پارٹی اور پارلیمانی پارٹی میں فرق ہے۔ پارلیمانی پارٹی کی ایک اپنی شناخت ہے اور وہ جو فیصلہ کرے پارٹی لیڈر بھی اس کا پابند ہوگا‘

واضح رہے کہ اس وقت ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر پرویز الٰہی ہیں

خالد رانجھا کے مطابق ’پارٹی سربراہ بنیادی طور پر پارلیمانی پارٹی کی خلاف ورزی کرنے پر کارروائی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو کہہ سکتا ہے، اس لیے پہلا فیصلہ پارلیمانی پارٹی کرتی ہے، ان کے فیصلے کے خلاف اگر کوئی جاتا ہے تو پھر پارٹی سربراہ کارروائی کے لیے کہہ سکتا ہے۔‘

ماہر آئین و قانون حامد خان کے مطابق ’آئین میں واضح ہے کہ پارلیمانی پارٹی کا لیڈر ہدایت دیتا ہے اور جب سزائیں دینے کی بات آتی ہے تب پارٹی سربراہ ڈیکلریشن اسپیکر اور الیکشن کمیشن کو بھیجتا ہے۔‘

انہوں نے کہا ’سپریم کورٹ کا جو فیصلہ ہے جس کا حوالہ ڈپٹی اسپیکر دے رہے تھے اس فیصلے کے مطابق پارٹی ہدایات کے خلاف ووٹ دیا جاتا ہے تو وہ گنا نہیں جاتا، یہاں تو پارٹی کی جانب سے کچھ اور ہدایات دی گئی تھیں‘

پارٹی سربراہ اور پارلیمانی پارٹی کے سربراہ کی دو مختلف آرا ہونے پر سابق وزیر قانون خالد رانجھا کہتے ہیں کہ ’پارلیمانی پارٹی کے ارکان پارلیمانی لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں نہ کہ سیاسی پارٹی سربراہ کے۔ اس لیے پارٹی سربراہ کی ہدایات پر عمل نہ کرنے پر نااہلی کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاسکتی۔‘

حامد خان کا کہنا ہے کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ ان دس ارکان نے پارٹی کی ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے۔ کیسے ایک رکن اپنے خلاف ہی ووٹ دے گا؟ میرے نزدیک ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ غلط ہے۔‘

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
Close